Home » آسان چیز- سیدہ فاطمہ ذیشان
بلاگز

آسان چیز- سیدہ فاطمہ ذیشان

یہ ہے لیزا ۔ لیزا گریز ۔دنیا کی شاید کوئی آسائش ہو جو اسے نہ ملی ہو ۔ فدا ہونے والے والدین ، پیسوں کی بھرمار مگر عجیب لڑکی ہے ، ہر دم موت یعنی مجھے پکارتی ہے ۔۔۔اور جب میں آجاتا ہوں تو کوئی نہ کوئی اسے بچا لیتا ہے ، آخر یہ لوگ چاہتے کیا ہیں ! بس میرے ہی مفت کے چکر پڑتے ہیں ، اف !!

میرا نام لیزا ہے ، لیزا گریز ۔ عرف عام میں کیٹ کے نام سے مشہور۔لوگوں کو لگتا ہے شاید میں دنیا کی سب سے خوش نصیب لڑکی ہوں حتی کے موت بھی ، جتنی آرزو کروں اتنا ہی دور بھاگتی ہے گویا یہ کہ رہی ہو ، ” ذرا اور مزے کرلو اس دنیا میں ۔۔ بھلا کون سی ایسی چیز ہے جو نہیں ملتی ؟” مجھے چین چاہیے ، سکون ! ہر مہینے ابّو ملنے آتے ہیں اور چہرے پر پہلے سے زیادہ نحوست لیے ہوے ۔دل نہیں چاہتا گلے لگانے کو ۔ جب پوچھو یہ سب ڈرامہ کب ختم ہوگا ، تو وہی گھسا پٹا جملہ ، “For greater Israel”ارے بھاڑ میں جائے یہ اسرائیل ! اب ان بے گناہوں کا کیا قصور ؟ بس یہی دکھ اندر سے دیمک کے طرح چاٹ رہا ہے ، اور میں موت کے قریب ہوتی چلی جارہی ہوں  مگر یہ موت بھی نجانے کیا کھیل کھیل رہی ہے ، آتی ہی نہیں ! اچھا اب سمجھ آیا ۔بہت بزی ہیں ناں ان لوگوں کی جاننے نکالنے میں ، جس طرح بابا ان کو مارنے میں بزی ہیں ! آج پھر اس لیزا نے کیڑے مار دوا پینے کی کوشش کی ، اب ہسپتال میں پڑی ہے ، ابھی پیٹ کا آپریشن ہوا ہے ۔ چند دن پہلے ہاتھ کی رگ کاٹنے کی کوشش کی ، مگر نتیجہ وہی دھاک کے تین پات ۔ ” میں تنگ آگیا ہوں روز روز کے ڈراموں سے !” یہ جملہ گویا تکیہ کلام بن گیا ہے ۔

ایک عجب کیفیت ہے اس جہاں میں ۔ فلسطین میں لوگ الگ موت کو پکار رہے ہیں اور دوسری طرف مارنے والے بھی مجھے ہی بلا رہے ہیں ۔ کیا عجب تماشا ہے یہ !! آج بابا نے آنا ہے اور میں آفیشل فلسطین اکاونٹ کھولے بیٹھی ہوں ۔ پیٹ میں شدید تکلیف ہے ۔ ابھی چند دن ہی ہوے ڈسچارج ہوۓ ۔ اچھا ! تو ابّو کی یہ جاب ہے ۔انسانیت کا خون مارنا ۔ ایسے مارنا کے حیوانیت بھی شرما جاۓ ۔مجھ سے ایک دو کے علاوہ اور تصویر نہیں دیکھی جاتی ، خدا معاف کرے، ابّو میں پتا نہیں اتنا حوصلہ کہاں سے آجاتا ہے !لوگ پوچھتے ہیں کس چیز کی ٹینشن ہے آپ کو ؟ ارے محلوں میں رہنے کا یہ مطلب تو نہیں ناں کے میں بڑی خوش و خرم ہوں ، ایک ہی اولاد ہونے کا خوب فائدہ اٹھارہی ہوں ۔ ارے خاک میں جاۓ ایسی زندگی ! اس سے بہتر تو فلسطین کی موت ہے ، کم از کم وه ظالم تو نہیں ، مظلوم ہی سہی ۔ اس بد ذات نے آج پھر سے ایک نیا ہنگامہ کھڑا رکھا تھا ۔ نیند کی گولیاں ہاتھ لگ گئیں ، ایک ایک کر کے نگل رہی تھی کے ماسی نے دیکھ لیا ۔ میرے ہاتھوں پھر سے بچ نکلی ۔ ایک تو میری ذمہ داری بھی بڑی کھٹن ہے ۔کبھی ماں کو دودھ پیتے بچے سے جدا کرنا تو کبھی جوان اولاد کو بوڑھے والدین سے ۔

یہ خاک و خون کی ہولی تو ازل سے کھیلی جارہی ہے اور سب سے سستا خون تو بہت ہی مسلمان کا ہے ۔ مگر غارت جاۓ کفر کی کوششیں ، اس قید سے مومنوں کو پیار بھری جنت کی خوش خبری دینے والا بھی میں ہی ہوں ۔اچھا چھوڑو ان باتوں کو ، ہاں تو میں بتارہا تھا کے کمبخت نے پھر مجھے بلایا ، مگر مجھے تو سو فیصد یقین تھا ، سو میں نے اپنا وقت بچایا ۔ امید کرتا ہوں دوبارہ نہیں پکارے گی ۔اے خدا ،میں آخر مر کیوں نہیں جاتی ! آج تک کسی کام میں ناکام نہیں ہوئی ، ایک سب سے ں آسان چیز موت ہی کیوں میسر نہیں ۔ مجھ پر صدقے قربان ہونے والوں ! مجھے مار ڈالو ، خدارا ! مار ڈالو ۔میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہی یہ ہے ۔ اب انہوں نے مجھے کمرے میں بند کردیا ہے ۔ میں ایک باولے کتے کے طرح سارا دن غراتی ہوں۔ اے کاش ! میں یتیم ہی ہوتی ! ابّو کو لاکھ سمجھانے  کوشش کی کہ اس گھناونے کھیل کو چھوڑدیں ۔ مگر میری سنتا کون ہے ؟ چلو شکر ہے یہ کہانی تو ختم ہوئی ۔ آخر اپنے آغوش میں پناہ دے ہی دی ! کتنی خوشی تھی اس کے چہرے پر ! کیسے مسکرا کر استقبال کیا ۔کم لوگ ہی ایسے شیر ہوتے ہیں ۔ اپنے کمرے کی کھڑکی سے چلانگ لگالی ، ہاتھ پاؤں پہلے ہی بندھے تھے ، سو سر کے بل گری ۔  چلو کام تمام ہوا ، کچھ تو اطمنیان ہوا !!

Add Comment

Click here to post a comment