Home » ایک مکالمہ – نور الشعور
بلاگز

ایک مکالمہ – نور الشعور

”یہ کون لوگ ہیں “
”یہ مسلمان ہیں… یہ پاکستانی ہیں۔۔۔ ان کے بزرگوں نے اسلام کے نام پر ایک وطن حاصل کیا تھا۔۔۔ اس وعدے پر کہ یہ وہاں یہ اسلام کونافذ کر یں گے۔۔۔ اور تمام مسلم امت کی “نماٸندگی کریں گے۔
“تو کیا اُنھوں نے یہ وعدہ نبھایا۔“
”ہاں ۔۔ ان کے بزرگوں نے اس وعدے کو نبھانے کی خاطر جان بھی قربان کردی۔“
”تو پھر ان سب کے سر کیوں جھکے ہوۓ ہیں۔“
”شاید یہ شرمندہ ہیں۔“
” وہ کیوں ؟؟“
” کیوں کہ یہ اس وعدے کو بھلا چکے ہیں ۔۔ یہ نہ تو اپنے کشمیری بھاٸیوں کے لیے کچھ کر پاۓ نہ ہی سرزمین ِ انبیاء میں جاری یہودیوں کی بربریت کے خلاف کچھ کر پائے ۔۔ انھیں کوئی پروا ہی نہیں کہ ان کے مسلمان بھاٸیوں پر کیا بیت رہی ہے ۔۔۔ یہ مطمٸن تھے کہ ان کا وائی فائی ڈسکنکٹ نہیں ہوا۔“
” تو یہ شرمندہ ہیں۔ یعنی انھیں احساس ہو رہا ہے اپنی غلطیوں کا ۔۔ یعنی یہ خواب غفلت سے اٹھنے والے ہیں ۔۔ یعنی یہ کسی بھی وقت ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ہمارے خلاف کھڑے ہوجاٸیں گے ۔۔ پھر ہم کیا کریں گے ۔۔ یہ تو ہم سے القدس کو آزاد کرالیں گے ۔۔ یہ تو دنیا بھر میں جو ہم نے مسلمانوں پہ ظلم جاری کر رکھا ہے اسے بند کردیں گے ۔۔ اب ہم ان کا کیا کریں.”
” نہیں نہیں ۔۔۔ یہ شرمندہ نہیں ہیں ۔۔ دیکھو ۔۔ غور سے دیکھو ۔۔ ان کے سر شرمندگی سے نہیں جھکے ۔۔ ان کے ہاتھوں میں دیکھو ایک چمکتی ہوئی چیز ۔۔ ایک روشنی نکل رہی ہے نا اس سے ۔۔ یہ اس جادوئی روشنی میں کھوئے ہوئے ہیں ۔۔ یہ اسمارٹ فون پہ جھکے ہوئے ہیں ۔۔ یہ فیس بک پہ نت نئی پوسٹیں بنا کر ریاست اسراٸیل کی فورسز پہ لعنت بھیج رہے ہیں ۔۔ یہ خوش ہیں کہ ان کا فرض ادا ہوگیا ۔۔اور فیس بک کڑوڑوں کا منافع کما رہی ہے ۔۔ابھی دیکھنا ابھی دیکھنا ۔۔ اذان کی آواز آئے گی نا۔۔ تو یہ بالکل بھی توجہ سے نہیں سنیں گے کیوں کہ ان کی توجہ تو فون پہ ہوگی ۔۔ پھر نماز کے آخری وقت میں یہ بے دلی سے چند سجدے کریں گے اور اسمارٹ فون چارج پہ لگا کر سوجاٸیں گے ۔۔ تاکہ اٹھ کر اسے پھر سے استعمال کر سکیں ۔۔۔ “
” لیکن اسمارٹ فون کے ذریعے تو بہت سے لوگ قرآن کا علم بھی پھیلا رہے ہیں۔ اگر انھوں نے وہ حاصل کرلیا تو پھر کیا ہوگا۔“
”اسمارٹ فون میں مستند اور غیر مستند علم اتنا خلط ملط ہوگیا ہے۔۔۔ اور یہ لوگ ڈراموں لطیفوں اور انٹرٹینمنٹ کی چیزوں میں ایسے الجھے ہوئے ہیں کہ یہ مستند اور غیر مستند کی تحقیق نہیں کر پاٸیں گے ۔۔“
” ارے لیکن ۔۔ وہ دیکھو ۔۔ اس نوجوان نے تو اذان سنتے ہی فون بند کر کے رکھ دیا ہے ۔۔ ارے وہ تو نماز کے دوران رو بھی رہا ہے ۔۔ وہ اپنے رب سے ظالموں کی تباہی کی دعا مانگ رہا ہے ۔۔ وہ تو اپنے گناہوں سے توبہ بھی کر رہا ہے ۔۔ وہ تو اللہ کے احکامات کو اپنے اوپر نافذ کر رہا ہے ۔۔ اس نے تو ساری فلموں اور میمز والے پیج ان لاٸک کر دیےہیں ۔۔وہ تو میوزک گانوں اور فحش حرکتوں سے مکمل اجتناب کر رہا ہے ۔۔ وہ تو صبح شام قرآن کا علم حاصل کر رہا ہے اور اسے جتنا ممکن ہو عام کر رہا ہے ۔۔ اور بڑھ بڑھ کر نیکیاں کر رہا ہے ۔۔ وہ تو اللہ کا ذکرِ کثیر کر رہا ہے ۔۔ وہ تو مسجدوں کو آباد کرنے کی ترغیب دے رہا ہے ۔۔ وہ تو قدم قدم جہاد کی طرف بڑھ رہا ہے ۔۔ اگر تمام امت کے افراد ایسے ہی ہوجاٸیں تو ان کی نصرت کو فرشتے نازل ہوجاٸیں گے ۔۔۔۔۔م“
” اب ہمارا کیا ہوگا۔”

امت مسلمہ کا مذاق اڑانے والے دونوں شیاطین ایک دوسرے کو خوف کے عالم میں دیکھتے ہوئے دھواں بن کر اڑتے جا رہے تھے۔۔۔ تو پھر سنو! مسجد الاقصی ہماری عزت ہے اور اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment