Home » جہاد زندگانی – خدیجہ اشتیاق
بلاگز

جہاد زندگانی – خدیجہ اشتیاق

میرا تعلق امریکہ سے ہے یونیورسٹی میں فزکس کی پروفیسر ہوں حال ہی میں اسرائیل نے فلسطین پر ایک بار پھر معصوم اور نہتے شہریوں پر رمضان میں ظلم کی نئی داستان رقم کی۔

ہم سب جانتے ہیں کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور لعنت زدہ قوم بھی سورۃ بقرہ میں ارشاد باری تعالی ہے کہ “ان لوگوں پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے” میں یہ ساری باتیں اپنے اسٹوڈنٹس سے کرتی ہوں، اپنے کولیگ سے کرتی ہوں، جس محفل میں بیٹھتی ہوں وہاں اپنے بہن بھائیوں کا ذکر کرنا نہیں بھولتی-اسرائیل کے خلاف ہر احتجاج میں حصہ لے رہی ہوں جہاں ہوں جیسی ہوں اپنی بساط کے مطابق قبلہ اول اور فلسطینی بہن بھائیوں کا حق ادا کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہوں- میں مصری ہوں ایک ڈاکٹر ہوں جیسے ہی ہمیں پتا چلا کہ ہماری حکومت نے زخمی فلسطینیوں کے لیئے سرحد کھول دی میں نے کچھ دنوں کے لیے سرحد کے قریب ہی کیمپ میں رہائش اختیار کرلی تاکہ زیادہ سے زیادہ میں ان کی مدد کر سکوں میرا دل مطمئن ہے میں اپنے بھائیوں کے لیے زبانی کلامی دعوے سے ہٹ کر بھی کچھ کر رہی ہوں- میں بھی مصری ہوں میں زیادہ پڑھی لکھی نہیں اور نا ہی اتنی استطاعت ہے کہ جاکر ان کی مدد کر سکوں لیکن اسرائیل کے خلاف ہر احتجاج میں حصّہ لے رہی ہوں

خود بھی اپنی حیثیت کے مطابق مالی مدد کر رہی ہوں اور دوسروں کو بھی فلسطین فنڈ کے لئے کہہ رہی ہوں اسرائیلی مصنوعات بھی استعمال کرنے سے منع کر رہی ہوں-میرا ضمیر مطمئن ہے- میں عربی ہوں ایک بلاگرز ہوں میں معاشرے میں ہونے والی خرابیوں پر بلاگ لکھتی تھی لیکن آجکل فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کے مخالفت میں بلاگ لکھ رہی ہوں اور اپنے عیاش حکمرانوں کے ضمیر جگانے کی کوشش کر رہی ہوں- میں بھی عربی ہوں ،UAE سے ہوں مسجد کا امام ہمارے عیاش خود پسند حکمرانوں نے تو اسرائیل کو تسلیم ہی کرلیا ہے اس کے باوجود میرے خطبے اسرائیل کے خلاف اور بیت المقدس سے محبت کا اظہار ہوتے ہیں- آج کل میرا ہر درس فلسطین اور قبلہ اول پر ہوتا ہے- میں اردنی ہوں بزنس کا ٹائیکون الحمدللہ آج کل میری ساری جدوجہد فلسطین کے بہنوں اور بھائیوں کے لئے ہے

میری ساری دولت قبلہ اول کے لیے کام آجائے تو روز مہشر میں سرخرو ہو نگا انشاءاللہ . میں ترکش ہو سبزی بیچنے والا نہ میرے پاس پیسہ ہے نہ طاقت لیکن جو ہوں جیسا ہوں اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہوں اس کا جھنڈا اپنے ٹھیے پر لگایا ہوا ہے اسرائیل کے خلاف ہر احتجاج میں شریک ہو رہا ہوں اپنی استطاعت کے مطابق فلسطینی فنڈ بھی دیا انشاءاللہ اللہ کے ہاں سر شرم سے نہیں جھکا ہوا ہو گا میں پاکستانی صحافی ہوں پرنٹ اور الیکٹرانک دونوں کے لیے کام کرتا ہوں پہلے بھی حق اور سچ ہی کہتا تھا اور اب بھی بیت المقدس اور فلسطین پر حق اور سچ ہی بول رہا ہوں مجھے معلوم ہے سچ چھپانے اور جھوٹ کو سچ دکھانے میں بڑی دولت ہے لیکن میرا ضمیر زندہ ہے میں لعنت بھیجتا ہوں ایسی دولت پر جو حشر کے دن میرا سر شرم سے جھکا دے-میں اپنے فلسطینی بہنوں بھائیوں کا دکھ اور ان پر ہونے والا ظلم پوری دنیا کو دکھانے کی کوشش کرتا رہوں گا چاہے سچ بولنے کی بنیاد پر مجھے ہٹا دیا جائے یا جگہ تبدیل کردی جائے میں ہر صورت قبلہ اول کی حفاظت کے لیے بولتا رہوں گا-

میں بہترین رائٹر ہوں ہو آجکل میری ہر کہانی کا محور قبلہ اول اور فلسطین ہے میں دنیا میں جس مقام پر ہوں اپنا حق ادا کرنے کی پوری کوشش کرتا رہوں گا انشاءاللہ میرا ضمیر مطمئن ہے- میں انگلینڈ سے ہوں کرکٹر ہوں-میں کھیل کے میدان میں فلسطین سے اظہار یکجہتی کے لئے اس کے جھنڈے والا ہیٹ لگا کر رکھوں گا اسرائیل کے خلاف ہر احتجاج میں شریک ہونگا اور ہر ممکن مالی امداد کروں گا انشاءاللہ ۔ میں یمنی ہوں، عراقی ہوں، افغانی ہوں ، انڈین ہوں ، سوڈانی ہوں- – – – – – – – – – – – -میرا ضمیر مطمئن ہے– محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مسلمان آدمی کسی دوسرے مسلمان آدمی کو ایسے مقام پر بے یارومددگار چھوڑے جہاں اس کی حرمت پامال اور اس کی آبرو کا نقصان کیا جاتا ہو تو اللہ تعالی اسے اس مقام پر بے یارومددگار چھوڑ آئے گا جہاں وہ چاہ رہا ہوں کے اس کی نصرت ہو (ابو داؤد) آپ کون ہیں ؟ کہاں سے ہیں؟ کیا کرتے ہیں؟کیا آپ کا ضمیر مطمئن ہے قبلہ اول کی طرف سے اپنےفلسطینی بہن بھائیوں کی طرف سے؟

Add Comment

Click here to post a comment