Home » وقت قیام آیا – صدف عنبرین
بلاگز

وقت قیام آیا – صدف عنبرین

“میں کیا کرسکتی ہوں؟’اس نے بے بسی سے مجھے دیکھا میں نےحیرت سے اس کی طرف نظریں اٹھائیں تو وہ نظر چرا گئی۔
“تم نے اس وقت کیا کرلیا تھا؟” میرا لہجہ نہ چاہتے ہوئے بھی طنزیہ ہوگیا تھا۔”کچھ بھی نہیں کچھ بھی تو نہیں” اس کے لہجے کی بے بسی بڑھی تھی۔

‘واقعی کچھ بھی نہیں،یونہی ٹھنڈے کمروں میں مقید چین کی نیند سوتی رہی؟”میرا سوال مزید تلخ ہوا اور اس کا چہرا مزید زرد ۔
“کیسے سوسکتی تھی ایک پل کا چین نہیں تھا، ہر در پہ دستک دی جب لوگوں سے تھک جاتی تو اللہ کے سامنے روتے روتے صبح کردیتی تھی”۔ وہ اب اپنے آنسووں اور سسکی دونوں ہی چھپانے میں ناکام ہوئی۔ “کیا کسی نے نہیں سنی تمہاری؟”میں نے اپنے جملے میں نرمی رکھنے کی پوری کوشش کی۔ کیوں نہیں سنی؟ گورنمنٹ نے میری باربار درخواست پہ پوری مدد کا وعدہ کیا اس کے جگر کے ٹرانسبلانٹ کے لیے باہر بھی انتظام ہوگیا تھا،کئی لوگ بھی میرے کہنے پہ اعانت کے لیے تیار ہوگئے تھے۔۔۔۔۔ اور اللہ نے بھی سنی ! میرے معصوم کی تکلیف ختم کرکے اسے چین وسکون کی دنیا میں بلالیا ڈاکٹرز کہتے تھے وہ بچ بھی گیا تو تکلیف میں رہے گا” ۔اس نے اچانک ہی آنسو پونچھے اور مطمئن چہرے سے مجھے تکنے لگی۔ “توتمہیں تو افسوس ہوگا خواہ مخواہ ہی اتنی تگ ودو کی”۔میں معلوم نہیں کیوں اس کو پھر بے جین کرگیا۔

“خواہ مخواہ کیوں؟ میں اس کے سامنے شرمندہ نہیں تھی اور نہ ہی اللہ کے سامنے جو مجھ سے ہوسکتا تھا میں نے کیا زمین کے ہر راستے بھی کھوجے اور عرش پہ بھی دستک دی،اب میرے اللہ کی مرضی میں اس پہ راضی۔” اس تیس سالہ ماں کا چہرہ ایمان کی حرارت سے ایسا چمک رہا تھا کہ یقین کرنا مشکل تھا کہ اس کا آثھ سالہ اکلوتا جگر گوشہ آٹھ دن پہلے جگر کے عارضے میں اسے اس دنیا میں یاد کرنے کے لیے تنہا جھوڑ گیا ہے۔ تو تم کہ رہی تھی کہ اب ہر بچہ تمہیں اپنا مصطفے لگتا ہے؟میں نہ جانے کیا کھوج رہا تھا۔ ہاں ہاں واقعی مجھے ہر بچہ اپنا مصطفی لگتا ہے،اس کی آنکھ میں حسرت تھی۔ تو تم یہ لیے بیٹھی ہو اور کہتی ہو کہ میں کیا کرسکتی ہوں؟؟؟میں نے اس کے ہاتھ سے اخبار لے کر اس کی نظروں کے سامنے کیا، “فلسطین میں اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں فلسطینی شہداء میں چالیس معصوم بچے شامل” ہینڈنگ کے نیچے ہی دلخراش تصاویر تھیں۔اس نے جھر جھری لی اور عزم سے اٹھی،جو مجھ سے ہوسکے گا میں کروں گی یوں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے نہیں بیٹھوں گی۔

عرب بادشاہوں کو اور سفارت خانوں کو خط لکھوں گی،اپنی گورنمنٹ کو درخواست دوں گی،اسرائیل کی ہر پروڈیکٹ کا بائیکاٹ کروں گی، فلسطینیوں کی اعانت کروں گی،احتجاج کروں گی ۔ وہ ایمان کے سہارے کھڑی ہوگئی اور میں مسکرا دیا میرا کام بس یہیں تک تھا! میں ضمیر تھا!!