Home » یہ مائیں کتنی پیاری ہوتی ہیں ! ڈاکٹر خولہ علوی
بلاگز

یہ مائیں کتنی پیاری ہوتی ہیں ! ڈاکٹر خولہ علوی

آج پیاری بھانجی عفیفہ شمسی کی شادی اور ولیمہ میں شرکت کے بعد گھر واپسی ہوئی ۔ سب بہن بھائیوں کو چھوڑ کر بھاری دل سے واپسی کے لیے رخت سفر باندھا ۔ عید الفطر کی تعطیلات کے بعد آج پہلا تعلیمی دن تھا ۔

میکے سے واپسی پر گھر پہنچتے ہی میں والدہ کو فون کرکے بخیر و عافیت پہنچنے کی خبر پہنچاتی ہوں ۔ آج بھی میں نے حسب معمول فون کیا ۔ “تمہارے بچوں کی فلاں فلاں چیز میکے میں رہ گئی ہے اور وہ میں نے سنبھال کر رکھ لی ہے ۔ ” امی جان نے میری بات سن کر فو مجھے بتایا۔ یہ سدا کا معمول ہے کہ اگر میں یا میرے بچے میکے میں کوئی چیز چھوڑ آئیں، تو میری والدہ وہ سنبھال کر رکھتی ہیں ۔ یہی معاملہ میری ساس کا بھی تھا۔ میری امی اور میری ساس اپنی اپنی بیٹیوں کے لیے یہی رویہ رکھتی ہیں۔ میری نندوں کی شادیوں کو بھی طویل عرصہ بیت چکا ہے۔ میری ساس جب حیات تھیں ، تو وہ بھی مہمانوں کے جانے بعد، ان کے کپڑے، کتاب یا کوئی اور پیچھے رہ جانے والی چیز جی جان سے لگا کر رکھتی تھیں۔ بڑی بہنوں کی شادیوں کے بعد اپنی والدہ کا یہی معاملہ دیکھتی رہی ہوں۔اور نندوں کی شادیوں کے بعد اپنی ساس کو بھی اسی طرح دیکھا۔ بیٹیوں کی شادی ایک مسلمہ حقیقت ہے لیکن بیٹیاں ، آنگن کی چڑیاں جب اڑ جاتی ہیں تو سناٹا چھا جاتا ہے، گھر بے رونق ہوجاتے ہیں۔ بیٹیوں کی نئی دنیا، نئے گھر آباد ہوجاتے ہیں اور ماؤں کی آنکھیں سراپا انتظار بن جاتی ہیں۔

لیکن مائیں اپنی بچیوں کو یہی بتاتی ہیں کہ آپ کے جانے کے بعد بھی ہم سیٹ ہیں، آپ اپنے گھر میں اپنا دل لگائیں اور گھر بسائیں۔ اور جب بیٹیاں میکے میں ملنے آتی ہیں تو ماؤں کا بس نہیں چلتا کہ کس طرح بیٹیوں اور دامادوں کی بہترین خاطر مدارت کریں! اور ان کو رخصت کرتے وقت محبتوں اور دعاؤں کے علاوہ حسب توفیق تحائف بھی دے کر بھیجیں! ماؤں کی شفقت و محبت، ڈانٹ ڈپٹ، نرمی و گرمی سب تربیت کا حصہ ہوتی ہیں!!! شاید ماں بننا خوشیوں کے ساتھ ساتھ دکھوں اور غموں کو سمیٹنے کا حوصلہ پیدا کرنے کا نام ہے!!! واقعی ماں کا ہر روپ، ہر رنگ بہت خوبصورت اور پیارا ہوتا ہے!!! اور پھر ہر بیٹی نے بھی ماں بن کر یہ ذمہ داریاں نبھانی ہوتی ہیں!!! بیٹیاں تو جگنو ہیں ، بیٹیاں ستارہ ہیں ، ہر طرح کے موسم میں ، جگمگاتے رہنے کا ، ایک استعارہ ہیں ، مجھے گھر واپس آئے ہوئے ایک روز گزر چکا ہے۔ اور اپنے بکھرے جذبات کو سمیٹنے کی کوشش جاری ہے!!! ہم اپنی ماؤں کی قدر کریں اور حسب حال ان کی خدمت کرکے ان کی دعائیں لیں!!!
رب ارحمھما کما ربینی صغیرا۔