Home » ماحول دوست سٹرا – ابن فاضل
بلاگز

ماحول دوست سٹرا – ابن فاضل

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام UNDP کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق صرف امریکی سال بھر میں ایک سو پچہتر ارب سٹرا استعمال کرتے ہیں. یہ سٹرا عام طور پر جس پلاسٹک کے بنے ہوتے ہیں اسے تحلیل ہوکر آب و ہوا کا حصہ بننے میں پانچ سو سال لگتے ہیں. ان سٹرا میں سے بہت سے سمندروں میں پہنچ کر سمندری حیات کے لیے خطرہ بنتے ہیں.

اس سے پہلے کاغذ سے سٹرا بنائے جاتے تھے لیکن کاغذ کے سٹرا پانی یا مشروب کے ختم ہونے سے پہلے ہی نرم ہوجاتے. اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ان پر موم کی تہہ چڑھائی جاتی، لیکن اس میں قباحت یہ تھی کہ اس کا کچھ حصہ انسان مشروب کے ساتھ پی لیتا جو بہرحال نقصان کا باعث تھا. سال دوہزار انیس میں ایک ویت نامی نوجوان تران مین تیان نے Tran Minh Tien دیکھا کہ اس کے گھر کے پاس اگی جنگلی خود رو گھاس جسے وہ مقامی زبان میں کو بینگ co bang کہتے ہیں ،کی ساخت ایسی ہے کہ اس سے باآسانی سٹرا بنائے جا سکتے ہیں. اس نے ان کو کاٹ کر صفا کرنے اور پیک کرنے کے بعد بطور گرین سٹرا بیچنا شروع کردیا. شروع میں لوگوں کو ان کی افادیت کی بابت سمجھانے میں کچھ مشکلات درپیش آئیں، لیکن رفتہ رفتہ ان کو پذیرائی ملنا شروع ہوگئی. اب انہوں نے بہت بڑی کمپنی بنالی ہے جہاں درجنوں لوگ کام کرتے ہیں. اب انکی کمپنی دو طرح کے سٹرا بناتی ہے ایک سبز جو ایک بار استعمال کیے جاتے ہیں اور دوسرے خشک جنہیں ایک بار سے زیادہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے. ویت نام کی دیکھا دیکھی یہ اب فلپائن اور خطے کے دوسرے ممالک میں بھی ان کی پیداوار شروع ہوچکی ہے. اس گھاس کا بائیوٹونیکل نام Lepironia Articulata. لیپیرونیا آرٹیکولاٹا ہے . سوچتا ہوں ہوسکتا ہے کہ وطن عزیز میں بھی کہیں یہ خود رو گھاس پڑی سڑ رہی ہو گی مگر نہ ہم نے غور کرنا ہے نہ عمل.

اور اگر نہیں بھی ہے تو لگائی جاسکتی ہے. بفرض محال، اگر نہیں ہوتی تو ایسی بے شمار دیگر ملتی جلتی چیزیں جو پاکستان میں اگتی ہیں. ان سے یہی کام لیا جاسکتا ہے. دریاوں کے کناروں اور بیلوں میں میل ہا میل سرکنڈے لگے ہوتے ہیں. ان پر تھوڑی مشقت کرکے بہترین سٹرا بن سکتے ہیں.
نرسل جو باریک بانس کی شکل کا خود رو پودا ہے، آج ہی فیصل آباد جاتے ہوئے اس کے بے تحاشہ پودے میلوں میل نظر آئے. گاڑی روک کر دو تین شاخیں کاٹ لیں ہیں. بہترین بنابنایا سٹرا ہے بس ایک گانٹھ کو درمیان سے ہٹانا ہے.. میرے خیال میں ایک کٹر ایک ڈرل مشین اور ایک پیکنگ مشین سار کچھ دس ہزار روپے میں آجائے گا. مفت کی شاخیں اتار کر روازنہ دو چار ہزار سٹرا بنالی جائیں تو بہترین گذر بسر ہوسکتی ہے. سرکار اگر ایک ایس او پی جاری کردے کہ ایک خاص مدت کے بعد پلاسٹک کی سٹرا استعمال نہیں کی جاسکیں گی. جیسا کہ شاپنگ بیگز کیلئے کیا تو بڑے پیمانے پر ایک زبردست مثبت کاروباری سرگرمی کا بڑے پیمانے پر آغاز کیا جاسکتا ہے. رہی بات نرسل کی دستیابی کی تو واقف حال نے بتایا ہے کہ اس کو اگانا مسئلہ نہیں اس کو ختم کرنا مسئلہ ہوتا ہے. ایک بار کہیں آگ جائے تو جتنا اس کو کاٹتے ہیں اتنا ہی اور آگ آتا ہے.

Add Comment

Click here to post a comment