Home » کینسر، کووڈ اور کانگو- نصرت یوسف
بلاگز

کینسر، کووڈ اور کانگو- نصرت یوسف

یہ تین کاف دنیا کو تہہ و بالا کرگۓ ہیں، رب کی دنیا بڑی ہی حسین ہے، انسان رب کا نائب اور پوری کائنات اس کی غلام.. گنگناتے جھرنے، موتیوں جیسا برستا پانی ، رنگ برنگی مخلوق ،ان سب سے بڑھ کر رب کو رب مانتا انسان. سو زمین دل کھول کر اپنی زرخیزی دکھاتی تھی، فرش گھاس کا مخملی فرش دیتا تھا، اور انسان بھی رب کی نافرمانی کرتے جھجھکتا تھا.. رب کی تنبیہات کا دلیلوں اور ہنسی ٹھٹول سے جواب دینا علمی طریقہ نہ مانا گیا تھا.

تکالیف آتی تھیں، نافرمانیاں بھی تھیں، جنگ و جدل بھی برپا تھے لیکن ہر دوسرا منظر دکھ بھرا نہ دکھتا تھا پھر وقت آیا کہ دنیا پر لگتا ہے تکالیف کا چھڑکاؤ کردیا گیا ہے، مخلوق کثرت اذیت سے بے حال ہوئی لگتی ہے، کائنات جو انسان کے زیر نگیں کی گئی تھی، اسکے ننھی مخلوق بھی اسکو ڈرانے لگی ہے، کہاں تو مریخ پر گھر بسانے کی باتیں ، چاند پر پھول اگانے کے ارادے اور کہاں اپنے ہی جسم کے خلیات بغاوت پر اتر آۓ ہیں..اور ایسی ویسی بغاوت! اس درجہ کی بغاوت ہے کہ جسم کا دفاعی نظام تباہ کرکے یہ خلیات فساد فی الجسم کرتے ہیں بالکل اسی طرح، اسی درجہ پر جیسے انسان نے دنیا میں رب کے نظام سے بغاوت کرکے تباہی مچائی، گویا دنیا اور انسان دونوں ہی ایک سکے کے دو رخ دونوں رخ کینسر زدہ! . گویا انسان نے رب کی دنیا کا نظام گڑ بڑ کیا تو نتائج سب کو بھگتنے پڑ رہے ہیں چاہے وہ مطیع اللہ ہو یا مغضوب اللہ.. کووڈ اور کانگو بھی اسی فساد کے شاخسانے . کینسر تو جسم میں ہی پنپتا ہے،خلیات ابلیس مانند سر اٹھاتے سرکشی اور مفسد بنتے انسانی جسم کے ہر نظام پر قبضہ کرتے ہیں اور پھر یہ قبضہ چھڑانے کے لیے زندگی تین سو ساٹھ ڈگری زاویہ پر تبدیل کرنی ہوتی ہے. یہ تبدیلی جسم اور روح دونوں پر بیک وقت آۓ تو تکلیف کا احساس ہلکا ورنہ شدید ہوتا ہے.زندگی میں ایسے کسی مریض اور وہ بھی جس سے شدید ترین وابستگی ہو، دیکھنا، ساتھ رہنا انسانی دکھ اور اذیت کا ناقابل بیان احساس ہے.

اللہ انسان کو فساد فی الارض اور فساد فی الجسم دونوں سے محفوظ رہنے کی سعادت عطا کردے.. دادی اماں کی آواز اکثر کانوں میں گونجتی ہے “اللہ نہ ہم ظالم ہوں، اور نہ ہمیں ظالموں کے حوالے کر” آمین اللهم اغفر للمؤمنين والمؤمنات والمسلمين والمسلمات الاحياء منهم والاموات.
ریفرنس :Plants have been grown on the Moon for the very first time. -By Chelsea Gohd | Published: Tuesday, January 15, 2019