Home » بیت المقدس، انبیاء ؑ کا مسکن – میمونہ حمزہ
بلاگز

بیت المقدس، انبیاء ؑ کا مسکن – میمونہ حمزہ

القدس ارض الانبیاء علیہم السلام ہے۔ اللہ تعالی کے متعدد پیغمبر یہاں پیدا ہوئے اور کچھ نے ہجرت کر کے اس علاقے کو اپنا وطن بنایا۔ حضرت ابراہیم ؑ، اسحاق ؑ، یعقوب ؑ، یوشع ؑ اور موسی ؑ نے یہاں وفات پانے کی اللہ سے دعا کی تھی۔ (البخاری) رسول اللہ ﷺ کو اللہ نے یہاں سے معراج کروائی، اور اسی مقام پر آپؐ نے دو مرتبہ انبیاء ؑ کی امامت کروائی۔ یہ ایک وسیع سرزمین ہے، جس میں شام، فلسطین، اردن، لبنان کا علاقہ شامل ہے۔

حضرت ابو زر غفاریؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: “سب سے پہلی کون سی مسجد تعمیر کی گئی؟” آپؐ نے فرمایا: “مسجد الحرام۔” وہ کہتے ہیں میں نے پوچھا: “اس کے بعد کونسی؟” آپؐ نے فرمایا: “مسجد الاقصی۔” میں نے پوچھا: “انکے درمیان کتنا عرصہ ہے؟” آپؐ نے فرمایا: “چالیس سال۔ اور ان کے درمیان جس جگہ تم نماز کا وقت پاؤ اسے ادا کر لو، وہ مسجد ہی ہے۔”(رواہ النسائی) اسے سب سے پہلے سام بن نوح نے تعمیر کیا پھر داؤدؑ نے، اور پھر انہیں بنیادوں پر اسے سلیمانؑ نے تعمیر کیا۔ کتاب الاعلام میں ہے کہ مسجد اقصی کو پہلے بعض اولیاء اللہ نے تعمیر کیا، پھر اسے داؤدؑ و سلیمانؑ نے تعمیر کیا، اور ایک قبہ کا اضافہ کیا اور اس کے رقبے کو وسیع کر دیا۔ ایک رائے کے مطابق حضرت آدمؑ نے پہلے خانہ کعبہ تعمیر کیا اور اس کے بعد بیت المقدس کو۔(کتاب الفہرست، ابن جوزی) بیت المقدس میں عبادت کا اجر: حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تین مساجد کے علاوہ کسی جگہ کا سفر (ثواب اور زیادہ برکت کے ارادے سے) کرنا درست نہیں ہے: 1- مسجد الحرام ۲۔ مسجد الرسول (النبویؐ) ۳۔ مسجد الاقصی” (رواہ البخاری، ۱۱۸۹) حضرت میمونہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیت المقدس کے بارے میں پوچھا، آپؐ نے فرمایا: “اس میں ایک نماز ، ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے۔”

حضرت کعبؓ کہتے ہیں کہ: “جب حضرت سلیمانؑ بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اس کی خوشی میں قربانی پیش کی، پھر اس کی چٹان پر کھڑے ہو کر اللہ کی حمد و ثنا کے بعد دعا کی کہ ’اے اللہ! میں اس میں داخل ہونے والوں کے لئے آپ سے پانچ چیزوں کا سوال کرتا ہوں: کہ اس میں کوئی گناہ گار داخل نہ ہو، سوائے اسکے جو اللہ سے اپنی توبہ کا ارادہ رکھتا ہو، کہ تو اسے قبول فرمائے گا اور اس کی جانب پلٹے گا اور اسے معاف کر دے گا، اور جو کوئی شوق سے اس میں خاموشی سے داخل ہو، اسے اس کا مشتاق بنایا جائے، اور تیری نگاہ اس کو دیکھتی رہے یہاں تک کہ وہ اس سے باہر نکل آئے۔ اے اللہ اگر تو نے میری دعا سن لی ہے اور اسے قبول کیا ہے تو میرے لئے اس کی علامت یہ بنا دے کہ ایک آگ آئے اور میری قربانی کو کھا لے۔ پس آسمان سے ایک آگ نازل ہوئی اور ان کی قربانی لے کر اوپر چلی گئی۔” حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب سلیمانؑ بیت المقدس تعمیر کیا تو اللہ سے تین دعائیں مانگی، جن میں سے دو کی قبولیت ظاہر ہو گئی، اور مجھے امید ہے کہ انہوں نے جو سوال کیا وہ انہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے ایسی فیصلہ کی قوت مانگی جو اللہ کے فیصلوں کے مطابق ہو، اور ایسی بادشاہت جو ان کے بعد کسی اور کوسزاوار نہ ہو، تو انہیں یہ دیا گیا۔

اور انہوں نے دعا کی کہ جو بھی اس گھر (بیت المقدس ) میں آئے اور یہاں نماز پڑھے وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے، جس طرح اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو۔”(رواہ النسائی و ابنِ ماجہ) حضرت ابو المھاجرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جس نے بیت المقدس میں نماز پڑھی اس کے گناہ بخش دیے گئے۔”حضرت ابو الدردائؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “مسجد الحرام میں ایک نماز کی فضیلت باقی جگہ کی ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے، اور میری مسجد میں ایک نماز ایک ہزار نمازوں کے برابر اور مسجد بیت المقدس میں پانچ سو نمازوں کے برابر ہے.”(متفق علیہ) حضرت ابو امامہ الباھلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جس نے حج اور عمرہ کیا اور مسجد بیت المقدس میں نماز پڑھی اس نے میری سار ی سنتوں کو پورا کر دیا.” حضرت محمد بن ابو شعیب سے روایت ہے کہ میں نے عثمان بن عطاء الخراسانی سے بیت المقدس کے بارے میں پوچھا، اس نے کہا: “اس کی بڑی فضیلت ہے، داوؤدؐ نے اس کی بنیادیں اٹھائیں اور سلیمانؐ نے اسے تعمیر کیا، اس کی تعمیر سونے اور چاندی سے کی گئی، اور اس کی زمین میں کوئی ایک بالشت جگہ بھی ایسی نہیں جس پر کسی نبی یا بادشاہ نے سجدہ نہ کیا ہو، تو تم جس جگہ بھی سجدے کے لئے پیشانی رکھو کے کہ وہ کسی نبی یا بادشاہ کے سجدے کی جگہ ہے۔”

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “سید البقاع (یعنی زمین کا بوترین قطعہ) بیتت المقدس ہے۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے: “صخرہ بیت المقدس جنت کے پتھروں میں سے ہے.” اور کعبؓ کا قول ہے کہ: “کعبہ کے عین اوپر ساتویں آسمان پر بیت المعمور ہے، جس کے گرد فرشتے حج کرتے ہیں، اگر وہاں سے ایک پتھر لڑکایا جائے تو وہ سیدھا اس پر آپڑے۔ اور ساتویں آسمان پر جنت عین بیت المقدس کے اوپر ہے، اگر وہاں سے پتھر نیچے گرے تو صخرہ (قبہ الصخرہ) کے اوپر آکر گرے۔” حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب رات کو مجھے بیت المقدس لے گئے تو جبریلؑ مجھے صخرہ کے پاس لے گئے، میں نے وہاں نماز پڑھی، پھر وہ مجھے آسمانوں پر لے گئے.” حضرت معاذؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالی نے بیت المقدس سے فرمایا: “تو میری زمین پر میری جنت، میری مقدس اور چنی ہوئی جگہ ہے، جو تجھے آباد کرے گا اسے میری رحمت ملے گی، اور جو تجھ سے باہر نکلے گا اسے میرا غصہ پہنچے گا۔ اور وھب سے روایت ہے: “بیت المقدس کے رہائشی اللہ کے پڑوسی ہیں، اور اللہ پر پڑوسیوں کا حق ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔”

حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں: “جنت کے دروازوں میں سے ایک کھلا دروازہ اس کی جنتوں میں کھلتا ہے، جس سے اس کے پھل اس کی مسجد اور اس کے پہاڑوں اور اس کی چٹانوں پر گرتے ہیں، اور بیت المقدس کا صخرہ (پتھر) جنت کے پتھروں میں سے ہے۔” مقاتل کہتے ہیں: “جب کوئی شخص اپنے ساتھی سے کہتا ہے کہ، آؤ بیت المقدس چلیں تو اللہ تعالی اپنے فرشتوں سے کہتا ہے کہ ‘اے فرشتو، گواہ رہنا، میں نے ان دونوں کی بخشش کر دی ہے، قبل اس کہ وہ یہاں سے واپس آئیں، جب تک کہ وہ گناہوں میں حد سے نہ گزریں‘” اور مقاتل کا یہ قول بھی ہے کہ: “اللہ تعالی بیت المقدس میں رہنے والے کے رزق کا کفیل ہے، اگر اس کا مال ختم ہو جائے اور جو کوئی بیت المقدس میں مقیم اور محبوس ہو اور اسی حال میں مر جائے، تو گویا اسے آسمانوں میں موت آئی، اور جسے اس کے ارد گرد موت آئی، گویا کہ اس میں موت آئی، اور زمین میں جو کچھ بھی کم ہوتا ہے بیت المقدس میں بڑھتا ہے۔ اور سارا میٹھا پانی بیت المقدس کی چٹان (صخرہ) کے نیچے سے نکلتا ہے۔ اور اللہ تعالی نے اسے خود ’ارض المقدسہ‘ قرار دیا ہے۔ (جس میں ہم نے دنیا والوں کے لئے برکتیں رکھی ہیں) (الانبیائ، ۷۱)۔

اس بیت المقدس کی کیا شان ہے؟ اسے کیا نور اور وقار حاصل ہے؟ اللہ تعالی نے اسی سرزمین میں موسیؑ سے کلام کیا۔ حضرت موسیؑ کو اپنے رب کا نور بیت المقدس میں دکھائی دیا۔ اسی بیت المقدس کی سرزمین پر اپنے انبیاء ؑ داؤد و سلیمان کو حکومت عطا فرمائی۔ اور داؤد ؑ کے لئے پرندے اور پہاڑ یہیں پر مسخر کئے۔ اور بیت المقدس ہی میں ابراہیم اور سارہ علیھما السلام کو اسحاقؑ کی بشارت عطا کی۔ حضرت زکریاؑ کو بیت المقدس میں یحییؑ کی خوشخبری عطا فرمائی۔ حضرت مریم ؑ کو بیت المقدس ہی میں بے موسم (سردیوں کے پھل گرمیوں میں)عطا کئے۔ درد ِ زہ کی تکلیف میں مریم ؑ کے لئے درخت پیدا کیا، جو ان پر پکی ہوئی کھجوریں گرا رہا تھا۔ اسی بیت المقدس میں عیسیؑ نے بچپن میں کلام کیا۔ بیت المقدس ہی کی سرزمین سے انہیں آسمانوں کی جانب اٹھایا گیا۔ اسی بیت المقدس کی سرزمین پر وہ قیامت سے قبل اتارے جائیں گے۔ جب قرب ِ قیامت میں یاجوج ماجوج نکلیں گے تو وہ پوری دنیا میں پھیل جائیں گے، سوائے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ کے۔ بیت المقدس ہی میں انہیں اللہ ہلاک کرے گا۔اللہ تعالی ہر روز بیت المقدس پر خیر بھیجتا ہے۔ بیت المقدس بہت سے انبیاء ؑ کا مدفن بھی ہے۔ حضرت عیسی دجال کو بیت المقدس ہی میں قتل کریں گے۔ قیامت کے دن صور اسرافیل بھی بیت المقدس کے صخرہ سے پھونکا جائے گا۔ قرآن کریم میں مسجد اقصی کا ذکر کیا گیا، “جس کے ماحول کو ہم نے برکت عطا کی.” (الاسرائ:1)

مراد بیت المقدس ہے۔ بنی اسرائیل کو اسی سرزمین کے لئے حکم دیا گیا تھا: “ادخلوا الارض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم” (اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ، جو تمہارے لئے لکھ دی گئی ہے)۔ اس سے مراد بیت المقدس ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “میری امت کا بہترین شخص ہے جس نے ھجرت کے بعد بیت المقدس کی جانب ہجرت کی، اور اس نے وضو کر کے دو رکعت یا چار رکعت نماز پڑھی اور اللہ سے مغفرت کی دعا مانگی، تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے گئے۔ اور جس نے اس میں نماز پڑھی اس کے گناہ اس طرح معاف کر دیے گئے گویا اسے آج ہی اس کی ماں نے پیدا کیا ہے، اور اس کے ہر بال کے بدلے اسے قیامت کے دن سو نور دیے جائیں گے، اور یہ اس کے لئے ایک مقبول مبرور حج کی مانند ہو گا۔” جس نے بیت المقدس میں پہنچنے والی تکلیفوں اور اذیتوں کو صبر کے ساتھ برداشت کیا، اللہ تعالی اس کا رزق اس کے دائیں، بائیں آگے اور پیچھے سے عطا کرے گا، جس کو مزے سے کھاتا ہوا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ (اس مضمون میں بیان کردہ مواد کا زیادہ حصّہ “کتاب تاریخ بیت المقدس لابن جوزی” سے لیا گیا ہے۔)