Home » علم اصول حدیث – عالم خان
بلاگز

علم اصول حدیث – عالم خان

المیہ یہ ہے کہ ایک عام انسان جو سائنس اور میڈیکل سے لاعلم ہوں چند ایک مصطلحات سننے یا پڑھنے سے متعلقہ علوم کے بارے میں کبھی لب کشائی کی جسارت نہیں کرے گا اور اگر کرے بھی تب کوئی اس کو کوئی حثیت نہیں دیتا ہے کیوں کہ ظاہری بات ہے کہ یہ اس کا فیلڈ نہیں نہ وہ اس کے باریکیوں سے واقف ہے .

لیکن قرآن وسنت کے چند ایک مصطلحات سن کر یا پڑھ کر اتنے جرات کے ساتھ وہی علمی باریک موضوعات ڈسکس کیے جاتے ہیں کہ گویا ان مصطلحات کے متعارف کرانے والوں میں سے ایک یہ تھا حالاں کہ جب پوچھا جاتا ہے کہ یہ کہاں پڑھی ہے تو اردو کے کتابچوں سے آگے اس کا پرواز نہیں ہوتی جو مبتدئین کے لیے صرف ان مصطلحات کی تعریفات پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ اس ماحول کے پیدا کرنے میں ان لبرل اسلام پسند دانشوروں کا بھی ہاتھ ہے جو اسلام کو مغرب کے خواہشات سے ہم آہنگ کرنے اور خواہ مخواہ اپنے آپکو مجدد عصر ثابت کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں ۔ ان کے اس جدید مغربی اسلام حلت اور حرمت کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ یہ تو “خبر واحد” سے ثابت ہے اور “خبر واحد” سے حکم شرعی ثابت نہیں ہوتا ۔ یہی گردان تو اب ان لوگوں سے بھی سننا پڑتا ہے کہ وہ اس اصطلاح کی لغوی یا اصطلاحی معنی بھی بیان نہیں کرسکتا حالاں کہ یہ اتنا آسان نہیں کہ ہر “خبر واحد” کو ایسا رد کیا جائے ورنہ پھر گدھے کے گوشت کی حلت ، وارث کے لیے وصیت کو جائز اور ایک مرد کا بیک وقت پھوپھی بھتیجی یا بھانجی اور خالہ کے ساتھ نکاح کی جواز کا بھی فتوی دینا پڑے گا کیوں کہ یہ تو نہ قرآن میں ہے نا سنت متواترہ میں بلکہ خبر واحد ہی میں ہے کہ گدھے کی گوشت حرام ہے وارث کے لیے وصیت ناجائز ہے ایک مرد کا بیک وقت نکاح میں پھوپھی اور بھتیجی یا بھانجی اور خالہ رکھنا حرام ہے ۔

علم اصول حدیث اتنا آسان اور سادہ میدان نہیں کہ اردو کے کتابچوں کو پڑھ کر سیکھا جائے اور اس کی باریکیوں کو جانا جائے سنت متواتر ہو یا خبر واحد قرن اوّل سے محدّثین اصولیین اور فقہاء کے درمیان معرکہ اراء مباحث ہے جس پر امام شافعی (ت ٢٠٤ھ) کی “جماع العلم”، امام رامہرمزی (ت ٣٦٠ھ) کی “المحدث الفاصل”، امام حاکم نیشاپوری (ت ٤٠٥ھ) کی “معرفۃ علوم الحدیث”، امام اصفہانی (ت ٤٣٠ھ) کی “المستخرج” اور خطیب بغدادی (ت ٤٦٣ھ) کی “الکفایہ فی علم الروایۃ” شاہد ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ہر کسی کے تیر چلانے اور گھوڑے دوڑانے کا میدان نہیں اس کے اپنے شہسوار ہے جو اس کے باریکیوں اور پیچیدگیوں کو سمجھتے ہیں۔