Home » سفید موتی – سیدہ شفاء نعیم
بلاگز

سفید موتی – سیدہ شفاء نعیم

افق کے اس پار سورج غروب ہونے کی تیاریوں میں تھا۔ سارا دن اپنا جاہ و جلال دکھا کر اب وہ معصومیت کا پیکر بنا ہر طرف اپنی مدھم مدھم روشنی پھیلاۓ ہوئے تھا۔ پرندے سارے دن کی لمبی لمبی اڑانوں کے بعد تھک ہار کر اپنے آشیانوں کی طرف لوٹ رہے تھے۔ ان کی ترنم بھری چہچہاہٹ سماعتوں کو بہت بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ ایسے میں کالونی کی کچی سڑک پر دو لڑکیاں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے تیزتیز قدموں سے چلتے ہوئے اپنے گھر کی طرف جارہی تھیں ۔

وہ دونوں دھیمی آواز میں محوِ گفتگو تھیں ۔ انہیں دیکھنے والا کوئی بھی شخص یہ کہہ سکتا تھا کہ وہ دونوں بہت اچھی سہیلیاں ہیں۔ لیکن کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ کچھ دنوں پہلے تک ان میں سے ایک لڑکی کو دوسری لڑکی سے شدید نفرت تھی”اب باری ہے سیکنڈایئر کی۔ جی توطالبات آپ لوگوں کو کوئی آئیڈیا ہے کہ اس بار آپ میں سےکونسی طالبہ پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی ہیں؟” پورے ہال میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ سب لڑکیاں دم سادھے پرنسپل کے بولنے کی منتظر تھیں۔”چلیں میں بتا دیتی ہوں ۔ پچھلے سال کی طرح اس بار بھی فرسٹ پوزیشن حاصل کرنے والی طالبہ ہیں ہدیٰ مبشر! ” پرنسپل کی پرجوش آواز پر پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ ایک روشن چمکدار آنکھوں والی لڑکی جس کے چہرے سے معصومیت چھلک رہی تھی اسٹیج کی جانب بڑھی ۔ ہال میں موجود لڑکیوں نے ستائش اور رشک بھری نظروں سے اسے ٹرافی تھامتے ہوئے دیکھا۔ وہاں چند ایک ایسی بھی تھیں جن کی آنکھوں میں رشک کے بجائے حسد تھا۔ انہی میں سے ایک صدف ریحان تھی جو آنکھوں میں چنگاریاں لیئے ہدیٰ کو دیکھ رہی تھی -“ہدیٰ آپ ہمارے کالج کی ایک بہت محنتی طالبہ ہیں ۔ مجھے امید ہے کہ آپ پچھلی دفعہ کی طرح اس بار بھی بورڈ کے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرینگی اور ہمارے کالج کا نام روشن کرینگی۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ طالبات کو بتائیں کہ آپ نے کس طرح سے محنت کر کے کامیابی حاصل کی ہے۔

وہ کون سے اہم اصول ہیں جو آپ کو لگتا ہے کہ کامیابی حاصل کرنے میں طالبات کی رہنمائی کریں گے۔”پرنسپل نے مائیک ہدیٰ کو تھمایا۔ “سب سے پہلے تو میں اپنے رب کی شکر گزار ہوں جس نے مجھے ایک مرتبہ پھر کامیابی سے نوازا۔ میں آپ سب کی رہنمائی کے لیے چند اہم باتیں شیئر کرنا چاہتی ہوں۔ سب سے ضروری چیز ہے توجہ۔ جب تک آپ کی مکمل توجہ اپنے سبق پر نہیں ہوگی تب تک آپ کچھ بھی ٹھیک سے سمجھ نہیں پائیں گے اور علم حاصل کرنے کے لیے سمجھنا ضروری ہے۔ رٹا لگانے سے آپ نہ ہی کچھ سیکھ پائیں گے نہ سمجھ پائیں گے۔ اس طرح کرنے سے بھول جانے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ کہ اپنا ایک شیڈول بنا لیں۔ اس میں پڑھائی کا ایک وقت مقرر کر لیں جس میں آپ نے ساری سرگرمیوں کو ایک طرف رکھ کے بھر پور توجہ کے ساتھ صرف اور صرف پڑھائی کرنی ہے ۔ آخر میں میں آپ سب سے نہایت اہم بات کرنا چاہوں گی وہ یہ کہ آپ کو ملنے والی ہر کامیابی اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ تو اپنی کامیابی کی طلب صرف اللّٰہ تعالیٰ سے کریں ۔ اپنی دنیاوی مصروفیات میں اپنے رب کو اور آخرت کو یاد رکھیں۔ آپ کی یہ نیت ہونی چاہیے کہ آپ کی ہر دنیاوی کامیابی اللّٰہ کے راستے میں اور اللّٰہ کی رضا کیلئے آپ کی مددگار ہوگی۔ اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو!”ہدیٰ اپنی بات مکمل کر کے اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گئی۔ اس کے ہر ہر انداز میں ایک سکون اور اطمینان کی کیفیت تھی۔ اس کا یہ اطمینان صدف کو مزید تاؤ دلا رہا تھا۔

“ہونہہ ! بڑی آئی ملانی کہیں کی۔”صدف کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح ہدیٰ کو بھسم کر ڈالے۔ امتحانات کے نتائج تقسیم ہوچکے تھے۔ تمام جماعتوں کی طالبات گروپس بنائے لنچ کر رہی تھیں۔گورنمنٹ گرلز کالج میں سالِ دوئم کی طالبات کا آخری دن تھا اس لیے انہیں گپ شپ اور تفریح کیلئے آج موقع فراہم کیا گیا تھا۔ کل سے بورڈ کے امتحانات کی تیاری کے سلسلے میں تعطیلات دی جا رہی تھیں۔ کشف، بریرہ اور صدف ایک ٹیبل کے اطراف کرسیوں پر بیٹھی ہوئی تھیں اورگھر سے بنا کر لائی ہوئی مزیدار ڈشز کے ساتھ انصاف کر رہی تھیں۔ “تم میری بات مانو یا نہ مانو یہ جو ملانی بنی پھرتی ہے ناں ضرور یہ کوئی کالا علم کرتی ہے جبھی تمام ٹیچرز اس کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتیں اور مجھے تو لگتا ہے اچھے نمبر بھی اس کے کسی کالے علم کا نتیجہ ہیں ۔ ورنہ میرےجتنی ذہانت کس میں ہے؟ اور میں نے جتنی جان ماری ہے امتحانوں میں ، میری محنت کا مقابلہ کوئی کر سکتا ہے بھلا؟” صدف جلی بھنی بیٹھی تھی سخت محنت کے باوجود بھی وہ ایک بار پھر ہدیٰ سے پیچھے رہ گئی تھی۔ یہ ان دو سالوں میں لگاتار تیسری ناکامی تھی۔جوصدف سے بالکل برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ “بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو ۔ “”ہاں بالکل میٹرک تک تو ہمیشہ تم ہی سب سے اچھے نمبرز لیتی رہی تھیں۔ یہ ہدیٰ پتہ نہیں کہاں سے آگئی ہے۔”کشف اور بریرہ دونوں صدف کی ہاں میں ہاں ملا رہی تھیں۔

دراصل یہ تینوں شروع سے ساتھ پڑھتی آرہی تھیں۔ صدف بہت ذہین اور لائق طالبہ تھی۔ کشف اور بریرہ پڑھنے کے معاملے میں ذرا کمزور تھیں اسی لئے صدف کے آگے پیچھے پھرتی تھیں کہ انہیں اس تھوڑی سی چاپلوسی کے بدلے نوںٹس وغیرہ بیٹھے بٹھائے مل جایا کرتے تھے۔ “السّلام علیکم کامیابی بہت مبارک ہو صدف۔ میری دعا ہے کہ تمہیں بورڈ میں بھی بہترین کامیابی حاصل ہو۔”نرم سے لہجے اور شہد جیسی میٹھی آواز پر تینوں نے رخ موڑ کر دیکھا۔ ہدیٰ پرخلوص مسکراہٹ سے سجے چہرے کے ساتھ اپنی ذہین اور چمکتی آنکھوں سے صدف کو دیکھ رہی تھی ۔وہ تینوں ایسے رخ پر بیٹھے تھے کہ انہیں ہدیٰ کی آمد کا پتہ نہ چلا۔ ان تینوں کو ہی اندازہ نہیں تھا کہ ہدیٰ کب وہاں آئی اور ان کی کتنی باتیں سن چکی ہے۔ صدف کو محسوس ہوا جیسے اس کی چوری پکڑی گئی ہے ۔ اس کے غصے میں مزید اضافہ ہوا کیونکہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہونا تو اس نے سیکھا ہی نہیں تھا ۔اس نے چبھتے ہوۓ لہجے میں ہدیٰ سے کہا: “تم آخر سمجھتی کیا ہو خود کو ؟ تمہیں شرم نہیں آئی ہماری باتیں چھپ کر سنتے ہوۓ ویسے تو بڑا دوسروں کو درس دیتی ہوئی پھرتی ہو.”صدف کی اتنی تلخ گفتگو سن کر ہدیٰ کے چہرے کا رنگ زرد پڑگیا ۔آس پاس بیٹھی لڑکیاں ملامت بھری نظروں سے صدف کو دیکھ رہی تھیں مگر کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ صدف کو کچھ کہہ پاتیں۔ وہ سب صدف کی بدلحاظی سے خائف تھیں۔

“آپ غلط سمجھ رہی ہیں میں نے آپ لوگوں کی کوئی بات نہیں سنی۔ میں تو بس آپ کو پوزیشن حاصل کرنے پر مبارک۔۔۔۔”ہدیٰ نےوضاحت دینے کی کوشش کی مگر صدف نے اسے بات پوری کرنے کا موقع نہیں دیا۔ “مبارک؟کیا کہا مبارک؟ تم میری ہار کی مبارکباد دینے آئی ہو مجھے ؟ وہ کوئی اور لوگ ہوں گے جو تمہاری ان چکنی چپڑی باتوں میں آتے ہوں گے۔ تم اوروں کو تو بے وقوف بنا سکتی ہو مگر مجھے نہیں ۔ میں اچھی طرح سمجھتی ہوں تم جیسے لوگوں کی مکاریاں۔ مبارکباد دینے کے بہانے تم مجھے میری ہار جتانے آئی ہو۔ تمہارے ظاہر کی طرح تمہارا باطن بھی بدصورت ہے ۔ میرا بس چلے تو تم جیسے لوگوں کو اپنے آس پاس پھٹکنے بھی نہ دوں۔”صدف کے الفاظ تیر کی مانند ہدیٰ کے دل پر ضربیں لگا رہے تھے لیکن وہ اپنے جذبات ضبط کیۓ وہاں سے پلٹ گئی۔ ہدیٰ کے پلٹنے سے پہلے صدف کو اس کی آنکھوں میں نمی دکھائی دی تھی جسے دیکھ کر صدف کے دل میں ٹھنڈک سی پڑ گئی۔ یہی تو وہ منظر تھا جو وہ دیکھنا چاہتی تھی۔ ہدیٰ مبشر کو صدف نے پہلی مرتبہ کالج میں داخلہ لینے کے بعد طالبات کی تعارفی کلاس میں دیکھا تھا ۔ صدف کو ہدیٰ کی شخصیت میں کچھ بھی خاص نظر نہیں آیا تھا۔ سانولی رنگت اور عام سے نقوش اور پھر اس پر اس کا حجاب لینا صدف کو مزید برا لگا تھا۔ ہدیٰ کے چہرے پر بلا کی کشش اور لہجے میں ہمہ وقت نرمی اور مٹھاس ہوتی تھی۔

یہی وجہ تھی کہ چند ہی دنوں میں کلاس کی تقریباً ہر لڑکی ہدیٰ کی گرویدہ ہو چکی تھی اور اپنی اچھی عادات کی بنا پر وہ تمام ٹیچرز کی پسندیدہ ترین اسٹوڈنٹ بن چکی تھی۔ صدف کا مزاج اس کے بالکل برعکس تھا۔ اسے اپنی ذہانت اور خوبصورتی پر بڑا ناز تھا ۔ کھلتی ہوئ رنگت، تیکھے نین نقش، ذہانت سے چمکتی آنکھیں۔ اس کا شمار کالج کی حسین ترین لڑکیوں میں ہوتا تھا اس پر مستزاد کالج کی لڑکیوں نے اس کی تعریفیں کرکر کے اسے پہلے سے زیادہ مغرور بنا دیا تھا ۔اب وہ صرف اسی لڑکی سے ملنا پسند کرتی تھی جو اس کی ہاں میں ہاں ملاتی اور اس کی تعریفیں کرتی۔ بریرہ اور کشف اس کے مزاج سے بخوبی واقف تھیں اور وہ اس بات کا بھرپور فائدہ بھی اٹھاتی تھیں۔ باقی لڑکیاں صدف کی بد مزاجی اور متکبرانہ لہجے کی وجہ سے اس سے دور ہی رہتیں۔ہدیٰ عام لڑکیوں کی طرح نہیں تھی۔ صدف کےمزاج سے واقف ہونے کے باوجود وہ اس سے ہمیشہ بہت اچھے اخلاق سے پیش آتی تھی ۔ صدف کی نظر میں وہ ایک عام سی لڑکی تھی اس لئے وہ اسے ہمیشہ نظرانداز کر دیتی تھی اور اس کی کسی بات کا بھی جواب دینا گوارہ نہیں کرتی تھی۔ پہلی مرتبہ صدف کو ہدیٰ کا وجود تب کھٹکا جب فرسٹ ایئر میں ہدیٰ نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اس کے بعد بورڈ کے امتحانات میں بھی ہدیٰ نے صدف سے زیادہ اچھے نمبرز حاصل کر کے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ صدف سے یہ بات برداشت نہیں ہورہی تھی کہ ایک عام سی لڑکی اسے مات دے سکتی ہے۔

تب سے ہی صدف نے یہ بات جیسے ٹھان لی تھی کہ کسی نہ کسی طرح ہدیٰ کو نیچا دکھانا ہے۔ وہ ہر وقت ہدیٰ کو اپنا ہدف بناۓ رکھتی تھی۔ بات بے بات طنز کرنا ، اس کی سانولی رنگت پر چوٹ کرنا ، اس کے پردے کا مزاق اڑانا غرض ہدیٰ کے جزبات کو مجروح کرنا صدف کا وطیرہ بن چکا تھا۔ اس کی ہر بات کے جواب میں ہدیٰ کی خاموشی اور اطمینان بھرا انداز صدف کا مزید خون کھولاتا تھا۔ اس بار بھی امتحانات میں صدف نے دن رات ایک کر دیئے تھے اور پہلے سے زیادہ محنت کی تھی۔ اسے کامل یقین تھا کہ وہ اس بار ضرور پہلی پوزیشن حاصل کر لے گی اور ہدیٰ کو پیچھے چھوڑ دے گی ۔ لیکن ایک دفعہ پھر وہ ہار چکی تھی۔ فروری کا مہینہ تھا۔رات سے ہلکی ہلکی پھوار وقتاً فوقتاً جاری تھی جس کی وجہ سے ارد گرد کا ماحول تروتازہ اور خوشگوار محسوس ہورہا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا ماحول کو مزید تازگی بخش رہی تھی۔ صدف کالج جانے کی تیاری کر رہی تھی ۔ طالبات کو ایڈمٹ کارڈز دینے کیلئے کالج بلایا گیا تھا۔ کالج اس کے گھر سے کافی دور تھا۔ وہ عموماً بریرہ کے ساتھ کالج جایا کرتی تھی۔ بریرہ اس کے پڑوس میں ہی رہائش پذیر تھی۔ اگر بریرہ کسی مجبوری کی وجہ سے کالج نہ جاپاتی تو صدف اپنے ابو کے ساتھ چلی جایا کرتی تھی لیکن آج بریرہ نے کالج جانے سے منع کردیا تھا کیونکہ اس کی طبیعت ناساز تھی ۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بھائی کو بھیج کر ایڈمٹ کارڈ منگوا لے گی۔

والد صاحب بھی کام کے سلسلے میں بیرونِ شہر گۓ ہوئے تھے۔ جس کی وجہ سے صدف کو تنہا ہی کالج جانا پڑ رہا تھا۔ عادت نہ ہونے کی وجہ سے وہ اندر سے کچھ گھبرائی ہوئی تھی۔ صدف یونیفارم پہن کر تیار ہو چکی تھی اور اب آئینے کے سامنے کھڑی چہرے کے گرداسکارف لپیٹ رہی تھی۔
“صدف بیٹا راستے میں دعائیں پڑھتے ہوئے جانا اور میں نے کتنی دفعہ تمہیں سمجھایا ہے کہ چہرہ ڈھک کر نکلا کرو مگر تم نے تو جیسے میری کوئی بھی بات نہ سننے کی قسم کھائی ہوئی ہے۔” امی نے صدف کو جوتے پہنتے ہوۓ دیکھ کر کہا۔”افوہ امی میں نے کتنی بار آپ کوبتایا ہے کہ دم گھٹتا ہے میرا نقاب میں اور یہ آپ کے دور میں ہوتا ہوگا پردہ وغیرہ۔اب ماڈرن دور ہے کوئی نہیں ڈھکتا چہرہ اور میں تو پھر بھی آپ کی زبردستی پر یہ اسکارف پہن لیتی ہوں ورنہ آج کل تو لڑکیاں یہ بھی نہیں اوڑھتیں بلکہ اتنا تیار ہو کر آتی ہیں کہ کیا بتاؤں۔ کچھ ہی عجیب و غریب لڑکیاں ہیں جو نقاب لگائے گھومتی ہیں اور منہ تو وہی چھپاۓ ناں جس نے کوئی جرم کیا ہو۔ ” یہ بات کہتے ہوئے صدف کی نگاہوں میں ہدیٰ کا نقاب اور گاؤن میں چھپا سراپا لہرا گیا۔ تب ہی اس کی نظر گھڑی پر پڑی۔”اوہ امی!آپ نے بھی کن باتوں میں لگا دیا میں پہلے ہی لیٹ ہو رہی ہوں ۔ اللّٰہ حافظ!”صدف امی کو کچھ بولنے کا موقع دیے بغیر اپنی بات مکمل کر کے تیزی سے گھر سے نکل گئی۔ “مجال ہے جو یہ لڑکی کبھی کوئی بات سن لے .”امی سر تھام کر بیٹھ گئیں۔

وہ کالونی کی ایک غیر مصروف سڑک پر چلتی چلی جارہی تھی۔ آج اسے راستہ معمول سے زیادہ سنسان لگ رہا تھا یاشاید اکیلے ہونے کی وجہ سے اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا۔ کافی دیر بعد اکا دکا کوئی گاڑی پاس سے گزر جاتی. وہ امتحانات کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ اس کے پاس ہدیٰ کو ہرانے کا یہ آخری موقع تھا۔ امتحانات سے ہوتے ہوئے اس کی سوچوں کا رخ ہدیٰ کی طرف مڑ گیا۔ “یہ ہدیٰ بھی عجیب لڑکی ہے اس کو جتنا بھی برا بھلا کہہ لو پھر بھی اس کے ماتھے پر ایک شکن نہیں آتی۔ اونہوں اصل میں وہ خاموش اس لئے رہتی ہے تاکہ مجھے مزید ٹارچر کرے ۔” وہ انہی سوچوں میں گم تھی کہ ایک کار اس کے پاس سے گزرتی ہوئی تھوڑا سا آگے جاکر رک گئی۔ ایک لڑکا کار سے اترا اور موبائل پر کسی سے بات کرنے لگا ۔ صدف کار سےکچھ فاصلہ رکھ کر تیزی سے گزرنے لگی تھی کہ اچانک ہی اسے اپنے بازو پر کسی نوک دار چیز کا احساس ہوا اور وہ اپنی جگہ پر جم سی گئی۔ “مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو اپنی جان سے جاؤگی۔ ” صدف کی ٹانگوں میں سنسنی سی دوڑ گئی ۔کچھ لمحے پہلےجو لڑکا کار سے اترا تھا وہ اب صدف کے برابر آ کھڑا ہوا تھا۔ پستول اس نے اس انداز میں رکھا ہوا تھا کہ کسی کو شک نہ گزرتا ۔ “کک…کیا چاہتے ہو تم مجھ سے؟” صدف نے کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا۔ “چپ چاپ گاڑی میں بیٹھو۔ اور خبردار کوئی ہوشیاری کی کوشش مت کرنا۔ ” اس کی دھیمی آواز میں غراہٹ تھی۔

“جلدی کر باس کسی نے دیکھ لیا تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔”گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے لڑکے نے کہا۔” جان پیاری ہے تو جلدی سے گاڑی میں بیٹھو۔” صدف کو محسوس ہوا جیسے اس کی ٹانگیں بے جان ہو چکی ہیں۔ جب لڑکے نے صدف کو اپنی جگہ بت بنا دیکھا تو غصے میں اس نے صدف کو گاڑی کی طرف دھکا دیا۔”رک جاؤ!” ایک نسوانی مگر بارعب آواز پر اس لڑکے نے رک کر پیچھے دیکھا۔ اسی لمحے ایک پتھر زور سے اس لڑکے کے بازو پر لگا اور پستول اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر گیا۔ “بھاگ جاؤ صدف!”وہ ہدیٰ تھی جو ہاتھ میں بڑے سائز کے دو تین پتھر اٹھاۓ ان سے کچھ فاصلے پرکھڑی ہوئی تھی۔صدف نے یہ موقع غنیمت جانا اور تیزی سے ہدیٰ کی طرف بھاگی۔ اتنے میں اس لڑکے نے تیزی سے جھک کر پستول اٹھا لیا۔ ہدیٰ نے اتنی ہی تیزی سے دوسرا پتھر پھینکا جو اس لڑکے کی ٹانگ پر لگا۔اب وہ لڑکا گاڑی کا دروازہ کھول کر کھڑا ہوگیا۔ اپنا منصوبہ ناکام ہونےپر اسے شدید غصہ آرہا تھا اور وہ مغلظات بک رہا تھا۔ ہدیٰ نے تیسرا پتھر پھینکا اس بار پتھر گاڑی کے شیشے پر لگا اور شیشہ کرچی کرچی ہو گیا۔اچانک ہی فائر کی آواز آئی اور صدف جو کہ ہدیٰ سے چار پانچ قدم دور تھی چیختے ہوۓ زمین بوس ہوگئی۔ اس کے بازو سے فوارے کی صورت خون بہہ رہا تھا۔”جلدی کرو باس پیچھے سے کوئ گاڑی آرہی ہے۔ ” گاڑی میں بیٹھے لڑکے نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا۔

“چل بھگا گاڑی۔” وہ دونوں تیزی سے وہاں سے فرار ہوگئے۔ ہدیٰ صدف کے نزدیک بیٹھ گئی اور اپنے بیگ میں سے ایک کپڑا نکال کر اس کے بازو پر لپیٹنے لگی۔ صدف کی آنکھوں کے سامنے آہستہ آہستہ مناظر دھندلے ہونے لگے ۔ آخری منظر جو اس نے دیکھا وہ حجاب سے جھانکتی ہدیٰ کی پر نم اور پریشان آنکھیں تھیں۔”بیٹا آپ نے بہت ساتھ دیا ہے میرا۔میں اس عمر میں اکیلے یہ سب کچھ کیسے سنبھالتی ۔صدف کے ابو بھی شہر سے باہر گئے ہوئے تھےکل ہی لوٹے ہیں۔ آپ واقعی ہمارے لیۓ فرشتہ ثابت ہوئی ہو۔ اگر اس دن آپ نہ ہوتیں تو ۔۔۔”اس کی آنکھیں بند تھیں لیکن وہ اپنی امی کی دھیمی دھیمی آواز سن سکتی تھی۔اب کمرے میں سسکیاں گونج رہی تھیں۔ “آنٹی آپ پلیز روئیں نہیں اور برےوقت کو بھول جائیں۔ اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے صدف کو کسی بڑے نقصان سے بچا لیا ہے۔ یہ کام اللّٰہ تعالیٰ کو مجھ سے لینا تھا اس لیے اس وقت مجھے وہاں پہنچا دیا ۔”صدف نے دھیرے سےاپنی آنکھیں کھول دیں۔ وہ ہسپتال کے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔ بیڈ سے کچھ فاصلے پر ایک بینچ بچھی تھی جس پرہدیٰ اورصدف کی امی بیٹھی ہوئی تھیں۔ہدیٰ ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں تسلی دے رہی تھی تب ہی اس کی نظر صدف پر پڑی تو اس کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔”دیکھیں آنٹی صدف کو ہوش آگیا ہے۔

“اس نے صدف کی امی کو بتایا۔ انہوں نے جلدی سے اپنے آنسو پونچھے اور اللَٰہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اٹھ کر صدف کے پاس چلی آئیں۔”کیا ہوا ہے مجھے؟”صدف کی آواز میں نقاہت تھی ۔اس نے اپنا بازو دیکھا جس پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔”گولی آپ کے بازو کو چھو کر گزر گئی تھی۔ اللّٰہ کا شکر ہے کہ کچھ نقصان نہیں ہوا۔ ڈاکٹر نے بینڈیج کر دی ہے۔آپ بالکل ٹھیک ہیں اب الحمدللہ ۔ آنٹی آپ یہیں بیٹھیں میں ڈاکٹر کو بلا کر لاتی ہوں۔”یہ کہہ کر ہدیٰ کمرے سے باہر چلی گئی ۔ صدف نے آنکھیں موند لیں۔ ایک بھیانک خواب جیسے بیت چکا تھا۔ “تمہیں پتہ ہے ناں کہ امتحانات سر پر ہیں۔ تم امتحانات کی تیاری کیسے کرو گی؟” سحرش کی آنکھوں میں حیرت و استعجاب واضح نظر آرہا تھا۔ سحرش ہدیٰ کی سب سے زیادہ قریبی دوست تھی۔ صدف کے حادثے کی اطلاع بھی ہدیٰ نے ہی اسے دی تھی۔ حادثے کا سن کر وہ صدف کی عیادت کے لیے چلی آئی تھی۔ حیرت کا جھٹکا اسے تب لگا جب صدف کی امی کی زبانی اسے یہ پتہ چلا کہ ہدیٰ نے کس طرح اس مشکل وقت میں ان کا سا تھ دیا ہے ۔ “ماشاءاللہ بہت ہی نیک سیرت بچی ہے ۔ اس نے اس مشکل گھڑی میں ہمارا بہت ساتھ دیا ہے۔مجھ بوڑھی جان سے نہیں ہو پاتا یہ سب کچھ۔” وہ ہدیٰ کی تعریفوں میں رطب اللسان تھیں ساتھ ہی ساتھ وہ ہدیٰ کو دعائیں بھی دے رہی تھیں۔ سحرش مکمل حقیقت جاننے کے لیے بے چین تھی ۔ اس سے رہا نہیں گیا اور وہ ہدیٰ کو لیے کمرے سے باہر کوریڈور میں چلی آئی۔دونوں اب باہر بچھی کرسیوں پر آمنے سامنے بیٹھی ہوئی تھیں۔

“اب بتاؤ کیا ہوا تھا اس دن ؟کیسے ہوا یہ حادثہ؟” سحرش کا سوال سن کر ہدیٰ نے گہری سانس لی۔ وہ واقعہ یاد آتے ہی اس نے جھرجھری سی لی۔
“اس دن میں معمول کے مطابق کالج جارہی تھی کہ گلی سے نکلتے ہی سامنے موجود منظر دیکھ کر مجھے شدید حیرت کا جھٹکا لگا۔ کچھ دور ایک کار کھڑی ہوئی تھی اور اس کے قریب ایک لڑکا صدف کے ساتھ کھڑا ہوا تھا ۔ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ معاملہ کیا ہے لیکن اتنی دور سے بھی صدف کے چہرے پر پھیلا خوف اور دہشت صاف نظر آرہا تھا جس سے مجھے معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہوگیا۔ آس پاس کوئی بھی شخص اس وقت موجود نہیں تھا اور سڑک مکمل سنسان تھی۔میں اسی وقت ایک دیوار کے پیچھے چھپ گئ اور اپنے بابا کو کال کرکے وہاں بلوالیا ۔ تبھی میں نے دیکھا کہ وہ لڑکا زبردستی صدف کو کار میں بٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بابا کو آنے میں وقت لگتا جب تک مجھے ان لوگوں کو روکنا تھا۔ میں نے زمین پر پڑے کچھ وزنی پتھر اٹھاۓ اور۔۔۔” باقی پورا واقعہ ہدیٰ نے من و عن سنا دیا۔”صدف کا کوئ بھی رشتے دار اس شہر میں نہیں ہے۔ ایک بہن ہیں شادی شدہ ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں وہ بھی اپنی مصروفیات کی وجہ سے یہاں نہیں آسکتیں۔ صدف کی امی ضعیف اور بیمار ہیں وہ سارا وقت ہسپتال میں نہیں گزار سکتی تھیں اس لیے میں نےان سے کہا کہ وہ رات یہاں رک کر دن میں گھر چلی جایا کریں کیونکہ انہیں آرام کی شدید ضرورت ہے۔ دن میں مجھے اپنے والدین کی طرف سے یہاں رکنے کی اجازت بھی مل گئی اور گھر بھی نزدیک ہی ہے اس لیے آسانی سے یہاں آجاتی ہوں۔

جہاں تک رہی امتحانات کی بات تو پورا سال تیاری ہی تو کی ہے ۔اب اگراللّٰہ تعالیٰ نے مجھے اپنی ایک بہن کی خدمت کرنے کا موقع دیا ہے تو میں اس موقع کو کیسے گنوا دوں؟رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے کہ:”اللّٰہ اپنے بندے کی مدد فرماتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔”مجھے پوری امید ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ مجھے اس امتحان میں ضرور کامیاب کریں گے۔”ہدیٰ کے لہجے میں اطمینان تھا۔ سحرش کسی حد تک مطمئین ہوگئی لیکن ایک بات ابھی بھی اسے الجھا رہی تھی۔”لیکن صدف نے تو ہمیشہ تمہاری بے عزتی کی اور تمہیں برا بھلا کہا۔اس کے باوجود بھی تم نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر اس کی جان بچائی اوراب بھی اسکی خدمت میں لگی ہوئی ہو۔ آخر کیسے تم وہ سب باتیں بھول سکتی ہو؟”سحرش کی الجھن زبان پر آہی گئی جسے سن کر ہدیٰ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔”میں جانتی تھی تم یہ سوال ضرور کرو گی۔قرآن مجید کی سورۃ المؤمنون میں اللَٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں:” برائی کو اس طریقے سے دور کرو جو سراسر بھلائی والا ہو۔” ہم سب کےلیے اپنے رسول محمد کی سیرت کاملہ بہترین نمونہ ہے اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمیشہ عفو و درگزر اور حسن اخلاق کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے۔ یاد ہے ناں وہ بوڑھی عورت جو کچرا پھینکا کرتی تھی ، قصۂ طائف، فتح مکہ کے موقع پر آپٌ کا حسن عمل غرض ہر موقعے پر آپٌ نے صبر اور حسن سلوک کا درس دیا ہے۔کافروں تک سے آپٌ کا یہ سلوک رہا جبکہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر اس سے کئی گنا زیادہ حق ہے۔

نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:”مومن مومن کا آئینہ ہے اور مؤمن مؤمن کا بھائی ہے۔ اس کے مال کی حفاظت کرتا ہے اور اسے تحفظ دیتا ہے۔” ایک دوسری حدیث کا مفہوم ہے کہ مسلمان اپنے مسلمان بھائ کی عزت جان اور مال کا محافظ ہے۔ یہاں پر عزت اور جان دونوں خطرے میں تھیں۔ میں کس طرح منہ پھیر کر چل پڑتی؟ اگر ایسا کرتی تو میرا عمل اللّٰہ اور اس کے رسول کے احکامات کے منافی ہوتا۔ “ہدیٰ کی بات کے جواب میں سحرش نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔ وہ ہدیٰ کی باتوں سے مکمل طور پر متفق تھی۔” کیسا لگا سوپ؟” ہدیٰ نے استفسار کیا۔”ہاں بہت مزے دار ہے ۔ شکریہ .”صدف نے مسکراتے ہوۓ سچائی کے ساتھ تعریف کی۔ صدف کو ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہوۓ تیسرا دن تھا۔ ان تین دنوں میں صدف کا رویہ بالکل بدل چکا تھا ۔ وہ بالکل بھی پہلے جیسی مغرور اور بد زبان نہیں رہی تھی ۔ بہت ہی کم کسی سے بات کرتی تھی اور اکثر گہری سوچوں میں گم رہتی ۔ بریرہ اور کشف امتحانات کا بہانہ کر کے ایک دفعہ بھی صدف کی عیادت کرنے نہیں آئے تھے ۔ ان دونوں کی حقیقت جان کر صدف تاسف میں گھر گئی تھی۔ ہدیٰ دن میں صدف کے پاس ٹھہرتی اور ہر وقت اس کی خدمت میں جتی رہتی ۔وہ صدف کی کیفیت سے بخوبی آگاہ تھی ۔ اس لیے خود بھی بہت کم اسے مخاطب کرتی تھی ۔ ہدیٰ اپنے بیگ میں سے چھوٹے سائز کا قرآن مجید نکال کر دھیمی آواز میں خوش الحانی سے سورہ السجدہ کی تلاوت کرنے لگی ۔

صدف آنکھیں موندے خوبصورت تلاوت قرآن سن رہی تھی ۔ تلاوت ختم کر کے ہدی ترجمہ پڑھنے لگی ۔ “میں بھی قرآن سننا چاہتی ہوں ۔” صدف نے کہا۔ ہدی کے چہرے پر گہری مسکراہٹ چھا گئی۔” کیوں نہیں ۔ ضرور۔”ہدیٰ نے بلند آواز کے ساتھ ترجمہ پڑھنا شروع کیا۔”ا۔ل۔م۔ بلا شبہ اس کتاب کا اتارنا تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے ۔ ” صدف کی تمام تر توجہ قرآن کے الفاظ پر مرکوز تھی۔جیسے جیسے ہدیٰ پڑھتی جا رہی تھی صدف کے دل میں لگی گرہیں کھلتی جارہی تھیں۔” جس نے نہایت خوب بنائی جو چیز بھی بنائی اور انسان کی بناوٹ مٹی سے شروع کی ۔ “صدف کو اپنا مغرور اور حقارت بھرا انداز یاد آیا۔ ” کہہ دیجئے! کہ تمہیں موت کا فرشتہ فوت کرے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔”وہ ہولناک دن جب اس نے موت کو بہت قریب سے محسوس کیا تھا۔ صدف نے بے اختیار جھرجھری لی۔” اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت نصیب فرما دیتے ، لیکن میری یہ بات بالکل حق ہو چکی ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو انسانوں اور جنوں سے پُر کر دونگا ۔”صدف کی آنکھوں سے آنسو لڑی کی صورت میں بہنے لگے۔” جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال بھی کیے ان کے لئے ہمیشگی والی جنتیں ہیں ، مہمانداری ہے ان کے اعمال کے بدلے جو وہ کرتے تھے ۔ “آہستہ آہستہ صدف کے دل و دماغ میں اطمینان و سکون اتر رہا تھا۔

امتحانات ختم ہوۓ آج دوسرا دن تھا ۔ ہدیٰ اور صدف چہل قدمی کرنے کیلیے قریبی پارک آۓ ہوۓ تھے۔ صدف کی شخصیت میں واضح بدلاؤ آیا تھا ۔ وہ مکمل پردہ کیے ہوۓ تھی۔ کافی دیر چہل قدمی کرکے اب وہ دونوں قریب ہی ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔ ” امتحانات کیسے ہوۓ؟”صدف نے ہدیٰ سے پوچھا۔” الحمد للّٰہ بہت اچھے رہے اور تمہارے؟””الحمد للّٰہ بہت اچھے ۔ تمہارا بہت شکریہ تم نے امتحانات کے دنوں میں میری بہت مدد کی۔ ان شاءاللہ اللّٰہ تعالیٰ ہم دونوں کو بہترین کامیابی سے نوازیں گے۔ “صدف نے جواب دیا۔اس نے باقاعدہ قرآن مجید کا مطالعہ شروع کر دیا تھا۔ بدگمانی کے بادل چھٹ چکے تھے اور اب چہار سو روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ اسے سمجھ آگیا تھا کہ مقابلہ اور ہار جیت کوئی معنی نہیں رکھتے۔ ” اصل امتحان جو آخرت کا امتحان ہے اللّٰہ تعالیٰ اس میں بھی ہمیں کامیابی عطا فرمائیں۔””آمین!”صدف نے صدق دل سے کہا۔”میں کافی دنوں سے تم سے کہناچاہ رہی تھی لیکن الفاظ ہی نہیں مل رہے تھے۔ میں نے تمہارا بہت دل دکھایا ہے ، حسد کی آگ میں جلتے ہوۓ میری آنکھوں اور دل پر پردہ پڑا گیا تھا جس کی وجہ سے میں نے تمہارے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا۔ لیکن تم نے ہمیشہ جواب میں اچھا رویہ اختیار کیا یہی نہیں بلکہ جب میری زندگی ایک خوفناک موڑ سے گزر رہی تھی تو تم نے میری ہر ممکن مدد کی۔ میں اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہوں۔ میں نے جو برا رویہ اختیار کیا میں اس کے لیے تم سے معافی مانگتی ہوں ۔

مجھے معاف کر دو پلیز۔ ” صدف گڑگڑاتے ہوۓ ہدیٰ سے معافی کی درخواست کر رہی تھی۔ ہدیٰ پہلے ہی سے دل سے معاف کر چکی تھی ۔کچھ یاد آنے پر اس نے اپنے پرس سے ایک خوبصورت گلابی رنگ کا باکس نکالا۔” یہ میں تمہارے لیے چھوٹا سا تحفہ لائی تھی۔” ایک جوبصورت سلور چین میں سلور رنگ کا سیپ کی شکل کا لاکٹ جس کو کھولنے پر اندر موجود سفید موتی جگمگا رہا تھا۔” تم جانتی ہوصدف ۔ تمہارے نام کا مطلب کیا ہے؟ ‘سیپی’ ۔ جو سمندر کی گہرائیوں میں اپنے اندر موجود موتی کی حفاظت کرتا ہے ۔ تمہارا دل بھی ایک چمکتا ہوا سفید موتی ہے جو اندھیروں میں کچھ دیر کے لیے ماند تو پڑ گیا تھا لیکن اس کی چمک ہمیشہ برقرار رہے گی” ہدیٰ کے کہنے پر صدف نے پہلی بار اپنے نام کے مطلب پر غور کیا تھا۔ ” مجھے روشنی دکھانے کے لیے اللّٰہ تعالیٰ نے ہدیٰ کو بھیجا ۔ اور ہمیں ایک دوسرے کا سچا ساتھی بنا دیا۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمارا یہ ساتھ ہمیشہ قائم رکھیں اور جنت میں بھی ہم ایک دوسرے کے اسی طرح ساتھی بنیں ۔ “”آمین! اور حقیقی محبت تو وہی ہے ناں جو ایک دوسرے سے اللّٰہ کے لیے کی جاۓ۔ ” “بے شک!” ہدیٰ کے کہنے پر صدف نے بے اختیار کہا۔ ان کے چہرے حقیقی مسرت سے جگمگا رہے تھے۔ وہ جو ایک دوسرے کے سچے ساتھی تھے۔

Add Comment

Click here to post a comment