Home » نصیبوں کے کھیل – فوزیہ قریشی
بلاگز

نصیبوں کے کھیل – فوزیہ قریشی

وہ مجھے کہہ رہی تھیں کہ تم جانتی ہو، کہ میں نے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی” اور میں یہ سوچ رہی تھی کہ اگر انہوں نے نہیں کی، تو کس نے کی؟میری ماں نے، باپ نے ، بھائی نے یا پھر میرے رب نے جس نے میری تقدیر ایک ایسے انسان کے ساتھ جوڑ دی جس کی زندگی میں میرا وجود سوائے گھر کی فالتو شئے کے کوئی اور حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ میرا شکایتی لہجہ بھی وقت کے بدلتے رنگوں کی طرح خود غرض ہوگیا تھا۔ خود غرضی کے سبھی رنگ اس پر غالب آ چکے تھے۔

شائد میں تھک چکی تھی یا مذید ذلت سہنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی۔ میں!! بات کو سمیٹتے ہوئے “مجھے آپ سے یا کسی اور سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ وہ !! تم اب کہاں جاؤ گی؟ کہاں جانا ھے؟ 3 سال کے بچے کو لے کر، ظاہر ہے والدین کے گھر ھی جاؤں گی۔میرے لہجے کی تلخی ان کو ناگوار گزری۔ لیکن!! مجھے اب اس بات سے غرض نہیں تھی کہ “کون کیا سوچے گا؟وہ اپنا فیصلہ سنا کر جا چکا تھا۔ پھر میں کس آسرے پر یہاں رہتی۔ جس کی خاطر لاہور سے کراچی آئی تھی۔ جب وہی سبھی رشتے ختم کرکے چلتا بنا تو میں اب دوسروں کی پرواہ کیوں کرتی؟مجھے آج ہی شام کی فلائٹ سے لاہور جانا تھا۔۔ مجھے اپنوں کے سامنے بھی اُن ناکردہ گناہوں کا سہرا اپنے ماتھے پر سجانا تھا جو میرے ماتھے پرزبردستی تھوپ دئے گئے تھے- میری ساس نے میری ماں کو اطلاع دے دی تھی ۔ اماں کے لئے ہم چار بہنیں کسی بوجھ سے کم نہیں تھیں۔ ہمارے بوجھ سے آزاد ہوئے انہیں زیادہ عرصہ نہ بیتا تھا۔ میرے اختیار میں ھوتا تو میں شادی ہی نہ کرتی۔ لیکن!! ہمارے گھر میں ہماری چلتی ہی کب تھی؟ کہ ہم کوئی فیصلہ خود سے لے سکتے۔۔ خیر نصیبوں کا لکھا مجھے ہی بُھگتنا تھا۔ زوہیب مجھ سے دس سال بڑا تھا ۔ میرے گھر والوں نے اُن کا فیملی سٹیٹس دیکھ کر ھاں کر دی تھی۔
جانچ پڑتال کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہ کی اورمجھ سے پوچھے بغیر میری ھی زندگی کا فیصلہ بھی کر دیا۔

میں بیاہ کر کراچی آ گئی۔۔ یہاں آکر مجھے احساس ھوا مجھے تو ایک بزرگ خاتون کی خدمت کے لئے بیاہ کر لایا گیا ہے۔ ویسے تو اس گھر میں کسی بھی قسم کے آرام و آسائش کی کمی نہیں تھی۔ یہ لوگ کسی کو بھی خدمت کے لئے ہائر کر سکتے تھے پھر مجھے ہی بہو نامی ویکینسی کے لئے کیوں چنا گیا ؟ یہ بات مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی۔ خیر وقت بھی کُڑھتا ، سِسکتا گزر ھی گیا اور وہ وقت بھی آ پہنچا جب مجھے اسی جاب سے سِسپینڈ کر دیا گیا۔۔ زوہیب کو کبھی کبھی میری ضرورت محسوس ہوتی تو وہ میرے پاس آجاتا ۔ دو سال اسی طرح گزر گئے۔ ماں کے بیٹے کو احساس دلانے پر میرے ٹیسٹ کروائے جانے لگے۔ اسی مخصوص سوچ کے تحت کہ آخر “میں ماں کیوں نہیں بن رہی؟”کہیں میں بانجھ تو نہیں۔ ٹیسٹ کے دوران مجھے ڈاکٹر نے بارہا یہ احساس دلایا کہ تمہارے شوہر کو بھی ٹیسٹ کی ضرورت ھے کیونکہ تمہارے ٹیسٹ پازیٹو ھیں۔ میری کس نے سننی تھی؟ بس مجھ پر بانجھ کا لیبل لگا کر احسان جتاتے ھوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ اگر تم چاہو تو بچہ اڈاپٹ کر سکتی ہو۔میں نے حالات سے سمجھوتہ کرنے کو ہی عاقبت جانی اور ایک لڑکا اڈاپٹ کرلیا۔وقت گزرتا گیا میں بچے میں مصروف ہو گئی۔ پھر ایک دن وقت رک گیا اورمیرے سامنے وہ حقیقت آ گئی۔اس دن میں بہت روئی۔ یا میرے مالک اتنا بڑا دھوکہ– نقص مجھ میں نہیں تھا۔ پھر یہ احسان کی گٹھڑی مجھ پر کیوں لادی گئی؟ آج میں نے وہی پیپر ساس اور شوہر کے سامنے پھینک دئے اور اپنا قصور پوچھا۔ بجائے میرے اوپر لادی اس گٹھڑی کو اتارا جاتا۔

مجھے تین بول سے یہ کہہ کر آزاد کردیا گیا۔ تم جا سکتی ہو۔ پہلے زخم ابھی بھرے نہ تھے کہ نئے زخم میری جھولی میں ڈال دئے گئے۔اس کے نزدیک معاملات پہلے کی طرح آسان اور سیدھے تھے۔” ہائے رے یہ بے حسی”شام کی فلائٹ سے میں لاہور پہنچ گئی ۔ائر پورٹ لینے صرف چھوٹا بھائی آیا کیونکہ گھر والے سب بابا جانی کے ساتھ ہاسپیٹل تھے۔ ان کا نازک دل یہ صدمہ برداشت نہ کر سکا اور اسی رات وہ چل بسے۔ ہمارے گھر میں تو جیسے قیامت کا سماں تھا۔ اماں کے لئے تومیں پہلے بھی منحوس تھی۔ بابا جانی اس دنیا میں نہیں تھےاور بہنیں اپنے اپنے گھر کی تھیں۔ میں نے پھر سے ایک سکول میں پڑھانا شروع کردیا اور گھر میں بھی ٹیوشنز کا سلسلہ شروع کردیا تاکہ اپنے اور اپنے اس بچے کو پال سکوں جس نے میری گود سے جنم نہیں لیا تھا لیکن پھر بھی میری کُل کائنات یہی بچہ تھا۔ اماں کچھ عرصے بعد چھوٹی بہن کے پاس امریکہ چلی گئیں۔ پیچھے صرف میں اور چھوٹا بھائی رہ گئے۔ میں پھر سے اپنے مسائل کو سمیٹنے اور سُلجھانےمیں لگ گئی۔ کاشف چھوٹے بھائی کا دوست تھا اور شادی سے پہلے میرا سٹوڈنٹ بھی۔ جب میری شادی ھوئی تو وہ دسویں کلاس میں تھا۔ میں نہیں جانتی تھی کہ وہ مجھے تب سے پسند کرتا ھے کیونکہ میرے لئے تو چھوٹے بھائیوں جیسا ھی تھا۔
یہی وجہ ہے کہ اُس وقت مجھے اُس کی ہمدردی نے یہ احساس ہی نہ ھونے دیا کہ وہ مجھ سے کس قدر محبت کرتا ہے؟

وہ ہمارا ہمسایہ بھی تھا مجھے پھر سے اِس حال میں دیکھ کر اُس نے مجھے احساس دلایا کہ مجھے بھی جینے کا حق ھے۔ مجھے بھی محبت کرنے کا حق حاصل ھے۔مجھے خود کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے۔ لیکن مجھے اس وقت محبت سے زیادہ تحفظ اور سہارے کی ضرورت تھی۔ وقت بہت عجیب تھا وسوسے مجھے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھے۔ کیا کاشف میرا سہارا بن پائے گا؟ کیا کاشف میرے لئے اس زمانے کی فرسودہ رسموں سے لڑ پائے گا؟ دوسری طرف کاشف ہر آزمائش کے لئے تیار تھا۔ اُس کی محبت نے مجھے اتنا طاقتور کر دیا کہ پہلی دفعہ میں نے خود کے لئے سوچا اور قدم اٹھایا۔ یوں یہ نادیدہ سی گرہ ایک مضبوط تعلق میں بندھ گئی ۔اسکی چاہ نے میرے ہجر کے سارے زنگ حسین و رنگین رنگوں میں بد ل دئے۔میں نے فیصلہ کرلیا یہ سوچے بغیر کہ انجام کیا ھوگا؟ آج میں بہت خوش ہوں کاشف سے میرے دو بچے ہیں۔ مجھ پر لگا بانجھ کا داغ اب دُھل چکا ہے۔یہ بھی معاشرے کا المیہ ہے کہ میری جیسی بہت کم ہیں جن کو کاشف جیسا ہم سفر ملتا ہے۔آخر میں میرا معاشرے سے یہ سوال ہے کہ کیا عورت ہی قصور وار ہوتی ہے؟ میں کہاں قصور وار تھی؟

Add Comment

Click here to post a comment