Home » فقط صرف ساتھ ہونے کا احساس – سارہ فردوس
بلاگز

فقط صرف ساتھ ہونے کا احساس – سارہ فردوس

ڈھلتے سورج نے تاریکی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے روشنی کی آخری کرن بھی گل کر دی۔ وہ تنہا سرد رات کو خوبصورت راستے میں پڑے پتھروں کو پاؤں تلے کچل کر اپنی دھن میں آگے بڑھ رہی تھی۔ نا جانے کس منزل کی تلاش میں وہ راستے کو جلد از جلد مکمل کر لینا چاہتی تھی۔ دور دور تک کوئی ذی روح نہیں تھا۔ وہ بنا کسی احساس کے رواں تھی گویا دریا کا پانی سمندر سے ملنے کے لئے بے قرار ہو۔اس کے تیزی سے اٹھتے قدم ایک دم سے رک گئے ۔

دائیں جانب ایک بے کس بلی کا بچہ پڑا کراہ رہا تھا ۔ نہیں معلوم کیا حادثہ ہوا مگر اس کی نگاہیں تکلیف کا پتہ دے رہی تھیں۔ ان میں کچھ ایسا تھا کہ پتھر دل انسان بھی نظر انداز نہ کر پائے ۔ وہ تو پھر دوسروں کے درد کے احساس سے بھری ایک لڑکی تھی ۔ہاں مگر اپنے درد سے لاعلم! اس نے کانپتے ہاتھوں سے اس بلی کے بچے کو اٹھایا. اس کی ٹانگ زخمی تھی اور آنکھیں…. ان میں دنیا جہان کا کرب تھا ۔وہ وہیں کنارے بیٹھ گئی اور اپنے کندھے سے بیگ اتار کر اس نے ایک رومال نکالا جو کسی کی یاد میں ہمیشہ اس کے پاس رہتا تھا ۔وہ ایک لمحے کو رکی مگر پھر پانی کی بوتل سے آہستہ آہستہ پانی اس بلی کے بچے کی ٹانگ پر ڈال کر صاف کرنا شروع کیا۔وہ ماحول سے بیگانہ ہو کر اس کی مدد میں محو ہوگی۔اور پھر رومال اس کے پیر پر باندھ دیا ۔زخم گہرا نہیں تھا مگر زخم تو زخم ہوتا ہے اور وہ اس سے اچھی طرح واقف تھی! بلی کا بچہ آرام دہ نظر آ رہا تھا.اب منزل تک پہنچنے میں اسے کوئی جلدی نہیں تھی۔ اس نے بہت پیار سے اس بلی کے بچے کو اپنی بانہوں میں لے لیا ۔وہ بھی بغیر جدوجہد کے خود اس کی گود میں سمٹ گیا۔اففف!! کیا احساس تھا یہ بھی..!!کسی کو کسی کے ہونے کا احساس پھر درد بھی ہو تو محسوس نہیں ہوتا ،پھر مایوسی کے قد آور پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں ،پھر خوشی کا مادہ دوام پاتا ہے اور پھر اس خود غرض دنیا میں بے غرض محسن کی موجودگی کا یقین آجاتاہے۔ ہمیں بھی تو اپنی منزل کے راستوں میں کئی زخمی ملتے ہیں۔ ہر نوعیت کے زخمی۔۔۔ لفظوں کے زخمی، جذبوں کے زخمی، دلوں کے زخمی اور امیدوں کے زخمی۔۔۔ ہرنوعیت کے زخمی ۔۔۔! بس انہیں بھی مرہم پٹی کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی کے ہونے کے احساس کی! یوں منزل کے راستے میں کئی لوگوں کو ان کی منزل تک پہنچا دینااور زندگی کے خوبصورت ہونے کا یقین دلا دینا ہی کافی ہوجاتا ہے ۔