Home » “تم اسلام بیزار کیوں ہو ملالہ ؟ ” – شہلا خضر
بلاگز

“تم اسلام بیزار کیوں ہو ملالہ ؟ ” – شہلا خضر

ملالہ یوسفزئی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہی ۔علم کی شمع روشن کرنے کے لیۓ اپنی جان کی بازی لگا دینا ‘اس کا جرائت مندانہ اور قابل ستائش کارنامہ ہے ۔۔ 9 اکتوبر ،2012 سوات میں تحریک طالبان کے جان لیوا حملے سے معجزانہ طور پر بچ جانا اور دماغی سرجری کے لیۓ انگلینڈ لے جایا جانا سب کچھ غیر معمولی نوعیت کا واقعہ ہے ۔اس کے بعد مغرب نے کیسے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور کیسے اعزازات سے نوازا گیا ‘ بی بی سی کے آفیشئیل پیج پر مراسلے لکھواۓ گۓ ۔’

ایک عدد ضہیم فلسفیانہ کتاب “لکھوائئ” گئی اس کی تفصیلات سے بھی سب آگاہ ہیں ۔غیر معمولی شہرت اور راتوں رات عام شہری سے دنیا کی” ٹاپ موسٹ سیلیبریٹیز “میں شامل ہوجانا یہ ہر کسی کے مقدر میں نہی ہوتا _یہ بات الگ ہے کہ ملالہ کی شخصیت کے بارے میں عوام الناس میں بہت سے شکوک وشبہات ہمیشہ سے موجود رہے _ جبکہ بہت بڑی تعداد میں لوگ اس کی شہرت یا پھر مغرب کی پشت پناہی سے مرعوب ہو کر اسے ایک “لیجینڈ” قراردینے لگے _ گزشتہ دنوں مغرب کی اس “انوکھی لاڈلی” نے ایک جانے مانے انگریزی جریدے کو “الحاد پرستانہ “متنازعہ بیان دیا_اس نے کہا کہ ” اگر دو افراد ساتھ رہنا چاہیں تو شادی کا ایگریمینٹ سائن کرنا کیوں ضروری ہے اور یہ کہ وہ پاٹنر کی طرح بھی تو ساتھ رہ سکتے ہیں . ” اس بیان نے ثابت کر دیا کہ “سات سمندر پار” قوم کی یہ ہونہار بیٹی تعلیم تو دنیا کے اعلی ترین اداروں سے حاصل کر رہی ہے پر اس کی ‘اخلاقی اور روحانی ‘ تربیت اسلامی شعائر اور احکامات کے بلکل بر عکس مغربی انداز فکر کے مطابق ہو رہی ہے _ سوشل میڈیا پر ملالہ کے اس بیان کو لے کر کئ روز تک بحث مباحثے چلتے رہے _ کسی نے کہا یہ ملالہ نہی ضلالہ ہے ۔کسی نے غصہ یوں۔نکالا کہ اسے ملالہ سے گندا نالا بنا ڈالا ۔۔۔۔کسی کو وہ لگی گڑ بڑ گوٹالا ۔۔۔۔کسی نے شجرۀ نسب سنا ڈالا ۔اور کسی نے تو اسے یہودی ایجنٹ بنا ڈالا ۔۔۔۔۔۔۔

سب کا غصہ بجا سب کی ناراضگی بجا ہے ان محترمہ نے بیان ہی ایسا دیا ہے جو مسلم معاشرے میں کسی صورت بھی قابل قبول نہیں _آئیے اس پورے معاملے کو ہم ایک دوسرے تناظر سے دیکھتے ہیں _ ہر سال پاکستان سے لاکھوں افراد روزگار اور تعلیم کے حصول کے لیۓ بیرون ملک جاتے ہیں اور بڑی تعداد میںں وہیں مستقل سکونت اختیار کر لیتے ہیں _دنیا کے تقریبا” تمام ممالک میں پاکستان نثراد مسلم رہائش پزیر ہیں _ غیر مسلم ممالک میں رہنے کے باوجود انہوں نے اسلامی کلچر کے عین مطابق ” مضبوط مسلم سوسائٹی سسٹم “قائم کر رکھے ہیں _ ان سوسایٹیز کے تحت دینی تعلیم بھی دی جاتی ہے اور اسلامی خطوط پر اپنی نسل نو کی تربیت بھی کی جاتی ہے سال ہا سال دیار غیر رہنے کے باوجود وہ کم از کم اسلام کے بنیادی اساسی اخلاقیات سے مضبوطی سے جڑے رہتے ہیں ۔۔۔ ان افراد کے بچوں میں اگر کوئ اسلام بیزاری دکھاۓ تو اس سے ہمارے معاشرے پر کوئ اثر نہی پڑتا مگر ملالہ کا معاملہ کچھ الگ ہے ‘وہ کوئی عام پاکستانی لڑکی نہی وہ مغرب کی منتخب کردہ منظور نظر ہستی ہے ملالہ کی شخصیت کو تمام دنیا میں” مسلم پاکستانی عورت ” کی نمائندہ کی حیثیت سے دیکھا اور سنا جاتا ہے ۔اس پر کیۓ گۓ قاتلانہ حملے سے لے کر اب تک پیش آنے والے حالات و واقعات کا جائزہ لیں تو اس کے حالیہ نامعقول بیان تک سب کچھ واضع ہوجاتا ہے ۔۔

مغربی قوتیں اسلام دشمنی سے ایک لمحے کے لیۓ بھی غافل نہیں _ گاہے بہ گاہے ناموس رسالتﷺ پر حملے ‘ حجاب کے خلاف نفرت آمیز پراپیگینڈا ‘ انسانی بنیادی حقوق کے نام۔پر عورت مارچ میں انتہائی غیر مناسب سلوگنز اور رقص سے لے کر ۔بیرون ملک مساجد میں بے گناہ نمازیوں پر گولیوں کی بوجھاڑ جیسے نفرت کے مظاہرے دیکھ کر ان کے قلبی جزبات سب پر روز روشن کی طرح عیاں ہیں _ ایسے میں کے ۔پی۔ کے سے تعلق رکھنے والی بظاہر اپنے کلچر سے جڑے رہنے کا مظاہرہ کرنے والی “نوبیل انعام یافتہ ” أکسفورڈ گریجوئیٹ مشہو ر ومعروف کتاب کی۔مصنفہ جس کے ٹویٹر اکاؤنٹ فالوورز بھی لاکھوں نوجوان ہوں اوراسے اپنا ” آئی کون”قرار دیتے ہوں وہ جب اسلام بیزاری کا مظاہرہ کرے توبجا طور پر یہ ہمارے لیۓ لمحۀ فکریہ ہے_ ملالہ کے اسلام مخالف توہین آمیز بیان کا معاملہ اتنا سادہ نہی جتنا کہ ایک مخصوص طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اسے بنانے کی کوشش کر رہے ہیں _ملالہ ہمارے ملک کی بیٹی ہے جس کے لیۓ مستقبل کی وزیر اعظم تک کی پیشن گوئیاں کی جا چکی ہیں _ اس طرز فکر کے ساتھ کل وہ ہمارے معاشرے کو کس پستی کی طرف لے جاسکتی ہے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔الحمدللۀ پاکستانی معاشرے میں ملالہ کے خیالات پر کڑی تنقید نے ثابت کر دیا کہ ہماری عوام اسلامی طرز معاشرت کو دل وجان سے اپناۓ ہوۓ ہیں _

کوئی بھی ذی شعور شخص کسی قیمت پر اپنی بہن۔بیٹیوں کو نکاح جیسے پاکیزہ معاہدے کے بجاۓ “پاٹنر “کے ساتھ گھر سے رخصت کرنا چاہے گا ۔نکاح سنت رسول ﷺ ہے اور اس سنت کو نہ اپنانے والے کے لیۓ نبیﷺ نے کہا کہ وہ جو نکاح نہ أپناۓ وہ ہم میں سے نہیں ” یعنی دین سے ہی خارج قرار دے دیا ۔ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ انسان کے اذلی دشمن شیطان کے لیۓ سب سے بڑا کارنامہ میاں بیوی میں علیحدگی کروانا ہے _”پاٹنر “کی اصطلاح مغربی معاشرے میں شادی کے پاکیزہ رشتے سے بغاوت کے طور پر رائج ہے _ اس طرز ذندگی کی ہمارے مسلم کلچر میں قطعئ گنجائش نہیں _ اسلامی نظام معاشرت کا اولین بنیادی ادارہ “خاندان” ہے _ خاندان کے ادارے میں ہی عورت خود کو ذیادہ محفوظ اور ذیادہ مضبوط محسوس کرتی ہے ۔اس کے نتیجے میں وہ اپنی آنے والی نسل کو محبت ‘ ایثار’ دل سوزی اور خیر خواہی کے ساتھ تیار کرتی ہے _ جس کی وجہ سے اسلامی معاشرہ وجود میں أتا ہے _ نکاح کے زریعے مرد اور عورت دونوں زمہ داریوں کو بانٹ لیتے ہیں ۔مرد ” قوام ” کی حیثیت سے اپنی بیوی بجوں کی کفالت کرتا ہے اور عورت اولاد کی تربیت اور گھریلو ذمہ داریوں کی مکلف ہوتی ہے _ اس کے علاوہ نکاح اور ولیمہ کی تقاریب عزیز واقارب اور سرپرستوں کی موجودگی میں ان کی دعاؤں کے ساتھ انجام دی جاتی ہیں ان سب کی موجودگی میں قائم کردہ اس رشتے میں لا شعوری طور پر بھی نوبیاہتا جوڑا معاشرتی اثر محسوس کر کے اپنی زمہ داریاں نبھانے کی پوری کوشش کرتا ہے

ملالہ ۲۳ سال کی عاقل بالغ سمجھدار لڑکی ہے اس نے مسلم معاشرے کی بنیادوں سے بیزاری اور مغربی طرز معاشرت کی طرف اپنا جھکاؤ دکھاکر ایک بار پھر “اسلام دشمن مغربی پراپیگینڈہ ” کی قلعی کھول دی ہے _عربی کہاوت ہے ” جو شخص فتنوں سے ناواقف ہو اور اس کے بدترین انجام سے تو وہ فتنوں سے کیسے بچ سکتا ہے ” ہمارے پیارے نیی حضرت محمدﷺ نے فرمایا ہے کہ” مومن کبھی غافل نہیں ہوتا ” اسلام دشمن عناصر تو ہر دور میں اپنا کام کرتے رہے ہیں ‘ اور کرتے رہیں گے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بھی اپنے حصے کا۔کام کریں ہمیں اپنے اردگرد پھیلے ان فتنوں سے بیدار مغز مومن کی طرح چوکنا رہنا اور انہیں کچلنا ہے ‘ اور اپنی آنے والی نسلوں کو ان کے شر سے بچنے کے لیۓ” اسلامی تعلیمات “کی مضبوط ڈھال دینی ہو گی _

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。