Home » جانے کب ہونگے کم اس دنیا کے غم – غازیہ وقار
بلاگز

جانے کب ہونگے کم اس دنیا کے غم – غازیہ وقار

اس دنیا پر ہونے والے مظالم میں جب جب ستم ہوا بے گناہ لاچار مسلمانوں پر ہوا کہیں پر انگریز حکومت قابض ہے تو کہیں انڈین آرمی کی بربریت جاری ہے تو وحشی اسرائیلی فوجی معصوم انسانوں کا خون بہا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود مسلمان ہی دنیا میں دہشت گرد کہلاتے ہیں یعنی الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے -نصف تہائی سے زیادہ کے عرصہ سے کشمیر، فلسطین، برما، یمن جیسے مقبوضہ علاقوں میں مسلمانوں پر وحشیانہ ظلم و ستم جاری ہے جبکہ ان کے خلاف آواز اٹھانے والا کوئی بھی نہیں ہے

مسلمان حکمران صرف مذمتی بیانات دے کر ان مسلمانوں کو تسلیوں سے ٹرخا دیتی ہے -5 اگست 2019 سے اپنے گھروں میں محصور نہتے کشمیری مسلمان جانے کس حال میں بھوک و پیاس برداشت کیے قفس میں زندگی گزار رہے ہیں 70 سالوں سے یہ قوم آزادی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے اپنی جانوں کا، اموال اور عقیدتوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے لیکن ظالم حکمران مودی کشمیریوں کی نسل کشی پر اتر آیا ہے اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس میں دنیا بھر کے ممالک نے بھارت کو دہشت گرد ملک کہا اور اس کے جارحانہ اقدامات کی روک تھام کی اپیل کی گئی لیکن مودی سرکار کے سر پر جوں تک نہ رینگی -ہمارے ملک میں کرونا کی وبا کے تحت کچھ عرصے کے لیے لاک ڈاؤن لگایا گیا ہم تو بلبلا اٹھے کہ اتنی آسائشوں اور عیش و آرام کی زندگی کے باوجود ہم اپنے گھروں میں محصور نہیں رہ سکتے تو ان مظلوم کشمیریوں کے بارے میں سوچیں جو غذا کی قلت میں بھارتی فوج کے جارحانہ مظالم کے پہروں میں تقریباً دو سال سے قفس کی زندگی گزار رہے ہیں جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں گلی کوچوں بازاروں میں آزادی کے لیے نکلنے والے کسی بھی بے گناہ کشمیری کو بے دردی سے شہید کردیا جاتا ہے لیکن خدا کی لاٹھی بھی بے آواز ہے بھارتیوں نے بے گناہ کشمیریوں کی زندگیاں چھینیں اللہ نے ان کے ملک میں عوام کا سانس لینا محال کردیا

بھارت میں آکسیجن کی کمی کیا ہوئی پوری دنیا تلملا اٹھی اور پوری دنیا سے آکسیجن سلنڈرز، وینٹیلیٹرز اور طبی امداد کے انبار لگ گئے لیکن اگر نہیں خیال آیا تو صرف کشمیریوں کا نہ آیا-اب فلسطین قبلہ اول مسجد اقصی کی حالیہ صورتِ حال پر دل خون کے آنسو روتا ہے اور پوری امت مسلمہ خاموش ہے جہاں ظلم وبربریت کی انتہا کردی جمعتہ الوداع سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت گیارہ روز تک جاری رہی اور ان گیارہ دنوں میں یہودیوں نے فلسطینی مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ دئیے معصوم کلیوں جیسے ننھے بچوں کا سرِ عام بےدردی سے قتل و غارت، جوانوں پر تشدد، بوڑھوں کو اذیت ناک موت کے گھاٹ اتارا اور عورتوں کی عزت کو پامال کیا گیا وہ سب شہداء رب العزت کے آگے سرخرو ہیں جو اپنے پاس ہتھیار نہ ہوتے ہوئے بھی اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے مسجد اقصی کی حفاظت کرتے رہے ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا وہ قبلہ اول صرف فلسطینی مسلمانوں کا ہے ہمارا نہیں؟ اقوام متحدہ سلامتی کونسل بالکل خاموش اور بے بس ہے جبکہ او آئی سی بالکل مردہ ہو چکی ہے جن میں مسلمانیت اور ایمان کے ساتھ ساتھ انسانیت بھی مر چکی ہے گزشتہ ہونے والا او آئی سی کا اجلاس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو جانا اور عرب ممالک کا خاموش تماشائی بن کر سب کچھ دیکھنا نہ صرف ان کی بے حسی، خود غرضی اور کمزور ایمان کی علامت ہے بلکہ انھوں نے تو اپنے ایمان کو دنیاوی فائدوں اور اپنے عیش و آرام کی خاطر انگریزوں اور یہودیوں کے آگے بیچ دیا ہے جنہیں مسلمانوں پر ہونے والے تشدد کی پرواہ ہے نہ ہی قبلہ اول کی حرمت کی –

خدارا مسلمانوں کے اس درد کو محسوس کریں جس میں ایک لاچار، بے بس باپ کی سسکیاں اپنی معصوم اولاد کی بے درد موت پر کانوں میں گونجتی ہیں ان ماؤں، بہنوں کی چیخ و پکار کو ذہن نشین کر لیں جو اپنی عزتوں کی پامالی، اپنی گود کے اجڑنے اور شریکِ حیات کے چلے جانے پر بھی صبر کرتیں ہیں ان معصوم بچوں کے آنسوؤں کے درد اور چھپے خوف کو محسوس کریں جو اپنا بچپن اسی خوف میں جی رہے ہیں کہ کب ان کے گھر پر میزائل گر جائے کب ان کا کوئی اپنا ان سے بچھڑ جائے کب ان کے والدین کو ان کے سامنے اذیت ناک موت دی جائے -آہ….. ان سب دل خراش واقعات کو تصور کر کے بھی روح کانپ جاتی ہے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں جی چاہتا ہے کسی طرح وہاں اڑ کر پہنچ جائے اور اپنے قبل اول ان مسلمانوں کے آگے ڈھال بن جائیں اور دشمانانِ اسلام کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں لیکن جہاد اور کشمیری و فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ ہمدردی میں ہمارا کردار اتنا کھوکھلا ہے کہ ہم ان کی مصنوعات تک کا تو بائیکاٹ کر نہیں سکتے کیونکہ ہم نے اپنی زندگیوں کو ان کی مصنوعات کا اس قدر عادی بنا لیا ہے کہ ان کے بغیر جینا نا ممکن لگتا ہے اس لیے ان کے ساتھ ہماری صرف خالی ہمدردی اور مذمتی بیانات ہی کافی ہیں کیا یہ ہمارے کمزور ایمان اور انسانیت سے گری حرکات نہیں ہیں اگر ہم 58 ممالک متحد ہو جائیں اور دشمانانِ اسلام کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر لیں تو ان کو کتنے بلین کا نقصان پہنچا سکتے ہیں

ہمیں اپنے نفس کا آرام زیادہ مطلوب ہے اگر 58 ممالک سر جوڑ لیں اور اپنی افواج فلسطین و کشمیر کی سرزمین میں اتار دیں تو یہ کھوکھلے، ڈرپوک یہودی اور بھارتی فوجی اسلحے سے لیس ہو کر بھی ہمارا بال بیکا نہیں کر سکتے اور یہ جنگ ہم نمایاں فتح کے ساتھ کچھ ہی عرصے میں جیت سکتے ہیں اور دنیا بھر میں نہ صرف اسلام کے جھنڈے کو فروغ ملے گا بلکہ دشمانانِ اسلام کی کمر ٹوٹ جائے گی اور وہ ایسی بربریت کا کبھی سوچے گے بھی نہیں لیکن یہاں جہاد کو سب بھول چکے ہیں اپنے اپنے اسلحے کو سینے سے تان کر کھڑے ہیں لیکن بندوق اور ٹینکوں کا رخ ان کو تباہ کرنے کے لیے نہیں بدلے خدارا ابھی بھی وقت ہے شیطانی آغوش میں سوۓ ہوۓ ہم خواب غفلت سے جاگے جو ہمیں صرف نفس کا غلام، آرام پرست اور کاہل بناتا ہے – ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی مالی امداد دل کھول کریں کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی جذبہ حضرت عقیل انصاری رضی اللہ عنہ کا سا دکھائیں اور سب کچھ ہوتے ہوئے بھی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جیسا ولولہ دکھائیں جتنا بھی ہمیں رب العزت نے نوازا ہے اس میں سے خلفائے راشدین، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ، اہلِ بیت جیسا ایثار دکھائیں جن میں ایمان کی اتنی مضبوطی تھی کہ اپنا گھر بار، آل اولاد، مال و دولت حتیٰ کہ اپنی جانیں اللہ کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہ کیا جبکہ ہم پیسہ ہوتے ہوئے بھی مال سینت سینت کر رکھتے ہیں اور یہی مال روز قیامت ہمارے گلے کا طوق بن جائے گا –

مسلم دنیا پر ہونے والی اس بربریت کا جواب جہاد، معاشی بائیکاٹ، مالی امداد، قلمی جہاد اور جہاد بالنفس سے کریں تاکہ اسلام کو فروغ ملے اور ہم اپنے کمزور ایمان کے باعث اپنے مظلوم مسلمان بہن بھائیوں کے آگے شرمندہ نہ ہوں ہماری کی گئ ایسی کوششیں رب کے حضور ہمیں سرخرو کروا سکتی ہیں –