Home » “جو شاخ نازک پر آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا” – ضحی شبیر
بلاگز

“جو شاخ نازک پر آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا” – ضحی شبیر

نہیں چلتے وہ بے سواری قدم بھر
نہیں رہتے بے نغمہ و ساز قدم بھر

دو ماہ میں متوقع الیکشن کی تیاری زور شور سے جاری ہوتی ہے تو میوزک لگائے کثیر تعداد میں لش پش گزرتی گاڑیوں میں سوار اپنی موج مستی میں گم منتخب نامزد امیدواروں کے نعرے لگاتے ہوئے لوگ جو اپنی پسندیدہ پارٹی کے جھنڈے بھی گاڑیوں پر سجائے جھوم رہے ہوتے ہیں. وہ الیکشن کی تیاری کرتے، اپنی پارٹی کو برسرِ اقتدار لانے کی مہم چلاتے نظر نہیں آتے بلکہ یوں لگتا ہے ڈھول کی تھاپ پر ناچنے والے پتلے ہیں. نامزد امیدوار کی ووٹ مانگنے کے لئے آنے پر استقبال کے مناظر کوٹھے پر آنے والے مالدار سیٹھ جیسے ہوتے ہیں الیکشن مہم کے دوران منظر ایسا ہوتا ہے کہ امیدوار مالدار سیٹھ ہے اور عوام سڑکوں کو کوٹھے سا بنا کر اس پر ناچتی ہوئی “رقاصہ” ہیں ۔ جیسے سیٹھ کی آمد پر کوٹھے والے تمام کام چھوڑ کر اس کے استقبال کے لیے لپک پڑتے ہیں باقی سب کاموں اور مہمانوں کو مکمل نظر انداز کر لیتے ہیں. رقاصہ” سیٹھ” کو خوش کرنے کے لیے ناچ ناچ کر پاؤں میں چھنکتے گھنگھرو کو توڑ دیتی ہیں اور وہ ٹوٹتے گھنگھرو پاؤں لہولہان کر دیتے ہیں. اپنے دل کو بہلانے کی غرض سے آیا “سیٹھ” کھا پی کر اپنا دل بہلا کر یعنی مقصد پورا کر کے جاتے ہوئے چند نوٹ تھما کر پھر آنے کی آس تھمائے روانہ ہو جاتا ہے کہ وہ پھر آئے گا اور پیسوں کے انبار دے کر جائے گا.

“سیٹھ” وقتی طور پر حالات سے تنگ دماغی سکون کے لیے ایک بار رقص دیکھ کر دل بہلانے کا مقصد پورا کر کے چلا جاتا ہے پھر اس کو زندگی کی مصروفیات میں کہاں ان کوٹھے والوں کو دیے جانے والے انعام کا یاد رہتا ہے اور ادھر ناچ ناچ کر گھنگھرو سے بننے والے گہرے زخم جو سیٹھ کے سامنے درد نہیں دیتے ہیں آتے وقتوں میں ناسور بنتے چلے جاتے ہیں یہ ناسور مسئلے پیدا کرتے ہوئے رقاصہ کی جان لے لیتے ہیں یا ا س کے پاؤں ناکارہ کر دیتے ہیں.بلکہ ایسے ہی الیکشن مہم کے دوران میوزک کی آواز اور ڈھول کی تھاپ پر ناچنے والے لوگ “جو سیاستدانوں کے نام سے قافیہ ملا ملا کر نعرے تیار کرتے ہیں اور دن رات گاڑیوں، موٹر سائیکل اور دو ٹانگوں پر چلتے ہوئے لگاتے نظر آتے ہیں” بلکل کوٹھے والی رقاصہ کی طرح ہوتے ہیں. جو اپنا قیمتی ترین وقت بامقصد کاموں کے بجائے بے مقصد کاموں میں صرف کر کے اپنے لیے لیڈر کی جگہ سیٹھ کا انتخاب کر لیتے ہیں جو نچانا جانتے ہیں اور انعام کی لالچ دے کر مقصد پورا کروانا جانتے ہیں. اپنی اس حکمت عملی کو ہمیشہ آزمانا مانتے ہیں. سیاستدان ہر حلقہ کے مرکز کو کوٹھے سمجھ کر ویاں قیام کرتے ہیں. کھانے پینے کی محفلیں کرتے اور عوام کو چند نوٹ انتظامات کے لیے تھما کر جھوٹے دلاسے دیتے اور امیدیں تھما کر اگلے مرکز کو روانہ ہو جاتے ہیں. عوام ان امیدوں کے سہارے رہتے ہوئے اپنے مسائل کا سیاستدانوں سے حل چاہتے ہیں.

مسائل زخم بنتے اور پھر وہاں سے ناسور بن کر پھوٹتے ہیں اور پانچ سال تک یہ زخم گہرے ہوتے جاتے ہیں ان کا مرہم نہیں ملتا ہے.ہم عوام کبھی لفظوں کو درست استعمال نہیں کر پاتے ہیں شاید ہم شعور سے عاری ہوتے ہیں یا شعوری بیدار نہیں ہوتے ہیں. شاید ہم اپنی زندگی میں علم حاصل نہیں کر پاتے ہیں اور سیاستدانوں کو ہماری باتیں شور لگتی ہیں جو وقت کے ساتھ کم ہو جائے گا. شعور سے لبریز گفتگو کو جھٹلایا تو نہیں جا سکتا ہے.ہم سیاستدان کو اس وقت “لیڈر” کہتے ہیں جب وہ “سیٹھ” بن کر آ رہا ہوتا ہے یا ہم اپنے انداز سے اسے “سیٹھ” بنا رہے ہوتے ہیں. پھر آنے والے وقتوں میں جب “” “لیڈر” بن جاتے ہیں اور ماننے کی ضرورت ہوتی ہے ہم انہیں “لٹیرے مالدار سیٹھ” بلا رہے ہوتے ہیں.سیاست دان جو مستقبل کے لیڈر بننا چاہتے ہیں اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر لیڈ کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں. ان کا استقبال ایک لیڈر کی طرح ہونا چاہیئے نا کہ ایک تماشا دیکھنے والے تماش بین یا رقص سے دل بہلانے والے سیٹھ کی طرح. جو ڈھول کی تھاپ اور میوزیکل دھنوں اور سروں پر جھوم جھوم کے جھوٹے وعدوں کی فہرست تھمائے گا.”لیڈر” رہنما ہوتا ہے جو رہنمائی کرتا ہے جس نے لیڈ کرنا ہوتا ہے آنے والے مسائل کے حل کے لیے، مسائل جس نے سلجھانے ہوتے ہیں، جس کے پاس حکمت عملی ہوتی ہے، جس کا مقصد عوام کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکمت عملی سے منصوبہ بندی کرنا ہوتی ہے. جس کے پاس خالی منصوبے نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے لیے ہمت، حکمت، جذبہ اور ایمانداری ہوتی ہے.

مگر ہم استقبال سے ہی ظاہر کر لیتے ہیں ہم “لیڈر” نہیں “تماش بین” چاہتے ہیں جو تماشے دیکھ کر بس اپنے رائے کا اظہار کرے، “ایسا نہیں ایسا ہے، ایسا ہو گا اور ایسا ہو سکتا ہے، یہ درست نہیں یہ درست ہو گا” ۔ تماشوں میں اپنا مقصد پورا کر کے چلتا بنے.مسلم خوابیدہ اٹھ ہنگامہ آرا تو بھی ہو. لیڈر کا استقبال ایسا ہونا چاہیے کہ ایک تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو. جس کی باتیں کانوں سے ہوتی دل اور دماغ پر گہرے نقوش چھوڑ دیں.، جس کے دعوے جھوٹے نہ ہوں بس دعوؤں میں سچائی ہو.جب ایک سیاستدان یعنی آنے والے وقت کا لیڈر آ کر الیکشن مہم کے دوران جلسہ عام سے خطاب کرے تو اس کو ووٹ مانگنے کی گزارش کے طور پر ہر گز نہ لیا جائے عقل کا استعمال کرتے ہوئے اس کے ہر ایک بات کو دماغ اور دل پر ثبت کر لینا چاہیے بلکہ لکھوا کر رکھ دیا جانا چاہئے تاکہ آنے والوں میں جب عمل نہ ہو تو جھوٹے دعوے ثبوتوں کے ساتھ پوری عوام کے سامنے منہ پر جا کر مار کر حقیقت آشکار کر سکیں. کبھی یہ دعوے نہیں سننے چاہیے کہ ہم یہ کردے گے وہ کر دے گے. یہ اکھاڑ دیں گے وہ جما دیں گے. بلکہ ان سے کہنا چاہیے یہ سب دوسرے بھی کر دے گے آپ بتائیں آپ یہ کر کیسے دیں گے آپ کے پاس ایسا کرنے کے لیے کوئی خاص طریقہ کار ہے. وقت کے مطابق چلنا شروع کر دیں.
وقت پر کافی ہے قطرہ ابر جوش ہنگام
جل گیا کھیت مینہ برسا تو پھر کس کام

“شور کی آلودگی، سڑکوں پر ٹریفک جام، بے ترتیبی سے رواں دواں سپورٹرز کی گاڑیاں اور بائیک، قیمتی وقت کا فضول تیاریوں کے دوران ضیاع، رات کے نصف پہر لوگوں کی نیندوں میں خلل (جو دن بھر کی مصروفیات کے باعث رات کو تھکاوٹ دور کرنے کے لیے آرام کی تلاش کرتے ہوئے خود کو اگلے دن کے لیے تیار کرتے ہیں)، اور بے شمار مسائل -جن کا صرف شہر میں استقبال اتنے مسئلے پیدا کرتے ہو ان سیاستدانوں کی اقتدار میں آنے سے کیا حال ہو سکتا ہے. غور و فکر کرنا چاہیے. سوچ کا دائرہ کار بڑھا کر منفی اور مثبت دونوں پہلوؤں سے آگاہی حاصل کرنی چاہیے. سامنے آنے والے لفظوں کی پیچھے کی حقیقت کا علم حاصل کرنا چاہیے اصل بینائی بھی یہ ہے اس تک نظر جائے جو فی الوقت آنکھ سے اوجھل کیا جا رہا ہے.
نعرے شور سے بلند کرنے کے بجائے شعور سے کام لیتے ہوئے قمیتی وقت کا ضیاع کرنے کے بجائے بامقصد کاموں میں صرف کرنا کا شوق بیدار کریں.
وقت کی قدر کر کہ وقت تجھے بتلائے گا
اگر اس کو یونہی ضائع کیا تو طوفان بن کر اڑ جائے گا

جذباتی بلیک میل ہونے سے بچائیں خود کو اس قدر مضبوط رکھنا چاہیے دھیان ہونا چاہیئے کہیں جذبات آپ کے لیے نقصان کا باعث تو نہیں بن رہے ہیں.
عوام کے ایک انگوٹھا کے نشان میں اتنی طاقت ہے کہ ایک شخص کو شخصیت بنا سکتی ہے اس کو اقتدار کی کرسی پر بٹھا سکتی ہے، گزارش سے حکم دینے والے مقام تک پہنچا سکتی ہے تو اس عوام کی خود کی کیا اہمیت ہو گی. خود شناسی سے ہی پرت در پرت زندگی کے حیران کن اسباق مکمل ہوتے ہیں.
بے خودی کیا ہے آگہی کیا ہے؟
تیرگی کیا ہے روشنی کیا ہے؟
آدمی نے سمجھ لیا سب کچھ
یہ نہ سمجھا کہ آدمی کیا ہے؟

اپنا آپ اس قدر اہم تو بنانا چاہیے کہ کل کو وہ آپ کی بات مانے جس کی ماننے کی اوقات آج اپ کی وجہ سے ہے. جو مسائل اس لیے حل کر سکتا ہے کیونکہ اللہ کی مدد کے بعد آپ وہ واحد طاقت ہیں جن نے ان کو حل کرنے کے لیے منتخب کیا ہے. آپ قمیت جانیں. غور و فکر کریں اس سے ہی معاشرے میں بدلاو آئے گا. فرد سے معاشرے تکمیل پاتے ہیں معاشروں سے فرد نہیں.
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہو گا

ایسی ناچ گانا، لوگوں کے آرام میں خلل ڈالنا، بے مقصد سر گرمی میں وقت ضائع کرنا، بے مقصد گفتگو کرنا اور بے مقصد باتوں کو بلند کرنا پھیلانا اسلام میں بھی ناپسندیدہ فعل ہیں. اوپر کہی گئی تمام باتیں آپ کو بے معنی اور فضول لگ سکتی ہیں لیکن اس جملے میں طاقت ہے کہ دلوں پہ اثر کر سکے.”جس کام کے آغاز ہی میں اللہ تعالیٰ کو ناخوش کر دیا جائے اس کام کے اختتام پر انسان بھلا خوش ہو سکتا ہے” ۔