Home » میڈیا اور پروپیگنڈا: “عرب -یہود تنازعے” سے “حماس -اسرائیل تنازعے “تک! ڈاکٹر محمد مشتاق
بلاگز

میڈیا اور پروپیگنڈا: “عرب -یہود تنازعے” سے “حماس -اسرائیل تنازعے “تک! ڈاکٹر محمد مشتاق

جب انگریزوں نے 1918ء سے 1948ء تک فلسطین کا کنٹرول اپنے پاس رکھ کر یہاں بڑے پیمانے پر یہود کو آباد کرانے کا سلسلہ شروع کیا، تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فساد کو مغربی ذرائعِ ابلاغ نے “عرب-یہود تنازعہ” قرار دیا۔ 1948ء میں جب اسرائیل نامی ناجائز ریاست کو جنم دیا گیا، تو اس کے بعد یہ ذرائعِ ابلاغ اسے “عرب-اسرائیل تنازعہ” کہنے لگے۔

عربوں نے اس وقت تک واقعی یہ سمجھا تھا کہ یہ صرف انھی کا تنازعہ ہے اور اس پر “عرب لیگ” کے فورم پر ہی بات ہونی چاہیے۔ جمال عبد الناصر نے ایک جانب عرب قوم پرستی کے پیغمبر کی حیثیت اختیار کرلی اور دوسری طرف “نحن ابناء الفراعنۃ” کے نعرے بلند کرکے یہود کو ڈراوے بھی دینے کی کوشش کی۔ 1967ء کی جنگ میں جب عربوں نے بدترین شکست کھائی، تو عرب قوم پرستی کا بت پاش پاش ہوگیا۔ جلد ہی “اسلامی کانفرنس کی تنظیم” وجود میں لائی گئی اور عرب حکمرانوں نے پہلی دفعہ مان لیا کہ یہ صرف ان کا تنازعہ نہیں ہے، بلکہ پوری امت کا مسئلہ ہے۔ اور جب اسے امت کا مسئلہ مان لیا گیا، تو اس کے بعد اگلے عشرے میں چار اثرات سامنے آئے:ایک یہ کہ 1973ء کی جنگ میں پہلی دفعہ اسرائیل کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا؛دوسرا یہ کہ مسلمان ریاستوں کے جن حکمرانوں سے خطرہ تھا کہ وہ “اسلامی کانفرنس کی تنظیم” کو واقعی ایک مؤثر اتحاد میں تبدیل کرسکیں گے، انھیں ایک ایک کرکے نشانہ بنایا گیا؛ تیسرا یہ کہ مصر، جو اس وقت تک اسرائیل کے خلاف عرب مزاحمت کو لیڈ کررہا تھا، اسے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے ذریعے مزاحمتی کیمپ سے نکال کر امریکا (اور اسرائیل) کے اتحادی کیمپ میں شامل کرلیا گیا؛ اور چوتھا یہ (جو ان تینوں باتوں کا لازمی نتیجہ تھا) کہ اس کے بعد سے مغربی ذرائع ابلاغ اس مسئلے کو “پی ایل او-اسرائیل تنازعہ” کہنے لگے۔

جب نوے کی دہائی تک جاتے جاتے پی ایل او بھی “امن پسند” ہوگئی اور بل کلنٹن کی موجودگی میں عرفات نے اپنے “کزن” سے ہاتھ ملالیا، لیکن اس کے بعد بھی “مسئلہ” باقی رہا، تو اب مغربی ذرائعِ ابلاغ نے اسے “فلسطین -اسرائیل تنازعے”کا عنوان دے دیا۔ اور پچھلے کچھ عرصے سے مغربی ذرائعِ ابلاغ کےلیے اب مسئلہ فلسطین اور اسرائیل کا بھی نہیں رہا، بلکہ فلسطین کے اندر ایک تنظیم اور اسرائیل کا ہوگیا اور اب وہ اسے “حماس-اسرائیل تنازعہ ” کہتے ہیں! یہ ہیں مغربی ذرائعِ ابلاغ کے میٹا مارفوسس کے اہم مراحل! باقی رہے ہمارے ہاں کے لال بجھکڑ، تو وہ تو صرف نقالی اور جگالی ہی کرسکتے ہیں! اچھی طرح یاد رکھیے:یہ تنہا حماس کا مسئلہ نہیں ہے؛نہ ہی صرف فلسطینیوں کا مسئلہ ہے؛ نہ ہی صرف عربوں کا مسئلہ ہے؛ یہ پوری امت کا مسئلہ ہے اور جب تک پوری امت اسے اپنا مسئلہ سمجھ کر اٹھے گی نہیں، یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ حماس اور فلسطینی تو پوری امت کی جانب سے کفارہ ادا کررہے ہیں!