Home » مسئلۂ فلسطین پر غامدی صاحب کا تازہ بیان: ایک سنجیدہ تجزیہ (1)
بلاگز

مسئلۂ فلسطین پر غامدی صاحب کا تازہ بیان: ایک سنجیدہ تجزیہ (1)

غامدی صاحب کا یہ بیان، حسبِ سابق، بہت سی غلط فہمیوں پر مبنی ہے۔ میرا ان کے لیے بالکل سنجیدہ مشورہ ہے کہ قانون، بالخصوص بین الاقوامی قانون، سے استدلال سے قبل انھیں کافی مطالعے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر وہ یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ نے جب 1947ء میں (یاد رہے کہ وہ بار بار اسے 1948ء کہتے ہیں، حالانکہ یہ منصوبہ نومبر 1947ء کا ہے) فلسطین کی تقسیم کا فیصلہ کیا تو فلسطینیوں کو یہ فیصلہ مان لینا چاہیے کیونکہ یہ عالمی برادری کا فیصلہ ہے اور یہ قانون کا فیصلہ ہے ۔

یہ بظاہر سادہ موقف کتنی غلط فہمیوں کا مجموعہ ہے؟ چند ایک غلط فہمیاں تو یہیں پر نوٹ کیجیے:یہ منصوبہ “تنظیمِ اقوامِ متحدہ” کا “فیصلہ” نہیں تھا، نہ ہی “عالمی برادری” کا، بلکہ یہ تنظیمِ اقوامِ متحدہ کے ایک عضو، جنرل اسمبلی، کی قرارداد تھی اور بین الاقوامی قانون کے مبتدی طلبہ بھی جانتے ہیں کہ جنرل اسمبلی کی قرارداد کی حیثیت محض ایک سفارش کی ہوتی ہے جس پر عمل درآمد قانوناً لازم نہیں ہوتا۔ اگر یہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا فیصلہ ہوتا، تو وہ فیصلہ قانوناً نافذ ہوتا، لیکن اس کے ساتھ بھی یہ بات ماننی پڑتی کہ سلامتی کونسل کا ہر فیصلہ قانون کے مطابق نہیں ہوتا۔ جنرل اسمبلی کی قرارداد ہو یا سلامتی کونسل کا فیصلہ، یہ سیاسی اقدامات ہوتے ہیں، نہ کہ قانون کا فیصلہ ۔ سیاسی فیصلے اور عدالتی فیصلے میں فرق یہ ہوتا ہے کہ سیاسی فیصلہ سیاسی مفادات کی بنا پر کیاجاتا ہے جبکہ قانونی فیصلہ قانون کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا کہ بین الاقوامی قانون کی رو سے کیا پوزیشن بنتی ہے، اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی تصریح کے مطابق بین الاقوامی عدالتِ انصاف کا کام ہے، جو اقوامِ متحدہ کی تنظیم ہی کا ایک اور عضو ہے۔ چنانچہ یہ بات قطعی غلط ہے کہ تقسیم کا یہ منصوبہ قانون کا فیصلہ تھا۔باقی رہا، اس کا “عالمی برادری”کا فیصلہ ہونا، تو اس کی حقیقت جاننے کےلیے صرف یہ دیکھیے کہ جب جنرل اسمبلی نے یہ قرارداد منظور کی، تو اس وقت اقوامِ متحدہ کی تنظیم میں کل کتنی ریاستیں تھیں ،

ان میں کتنوں نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور ان میں مسلمان یا غیر یورپی ریاستیں کتنی تھیں؟ تاریخی دلچسپی کےلیے نوٹ کیجیے کہ اس وقت کل 57 ریاستیں تھیں۔ 33 ریاستوں نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جن میں ایک ملک کا تعلق بھی مشرقِ وسطیٰ سے نہیں تھا! پاکستان سمیت 13 ممالک نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا اور ان 13 ممالک میں بھارت اور یونان جیسے غیر مسلم ممالک بھی شامل تھے۔ 10 ممالک نے ووٹ ہی نہیں ڈالا اور 1 ملک غیر حاضر رہا۔ آدھی سے زیادہ دنیا تو ابھی مغربی طاقتوں کے زیر تسلط تھی اور جو ممالک ان کے تسلط سے آزاد ہوگئے ان میں بھی 24 نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور آپ اسے عالمی برادری کا فیصلہ کہتے ہیں! (مکرر عرض ہے کہ جنرل اسمبلی کی قرارداد محض ایک سفارش ہوتی ہے اور اس پر عمل درآمد اس ملک کےلیے بھی لازم نہیں ہوتی جس نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہو!) پھر آپ نے اس پر بھی غور نہیں کیا کہ جنرل اسمبلی کو یہ منصوبہ پیش ہی کیوں کرنا پڑا اور تقسیم کس چیز کی ہورہی تھی؟ آپ بھول گئے ہوں، تو یاد دلاؤں کہ مسئلہ یہ تھا کہ برطانیہ نے یہ علاقہ 1918ء میں قبضے میں لے لیا تھا اور تب سے 1947ء تک یہ اس کے پاس بطورِ “امانت”(Mandate)تھا۔ اس امانت میں اس نے کیسے خیانت کی، اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگائیے کہ جب اس نے قبضہ لیا تو اس وقت اس علاقے میں یہودیوں کی آبادی ایک لاکھ سے بھی کم تھی اور جب 1947ء میں برطانیہ یہ علاقہ چھوڑ رہا تھا تو اس وقت یہودیوں کی تعداد ساڑھے چھ لاکھ تک پہنچ گئی تھی!

اور اس پر طرفہ تماشا یہ کہ اب زمین ان یہودیوں اور یہاں صدیوں سے آباد مقامی آبادی کے درمیان تقسیم کی جارہی تھی! تو سوال یہ ہے کہ یہ تقسیم کس قانون کے تحت کی جارہی تھی، اگر غامدی صاحب اسے قانون کا فیصلہ سمجھتے ہیں؟ واضح رہے کہ میں اس فیصلے کی غلطی پر بات نہیں کررہا (وہ اپنی جگہ ایک مستقل موضوع ہے) بلکہ یہ کہہ رہا ہوں کہ غامدی صاحب کی یہ بات غلط ہے کہ یہ قانون کا فیصلہ تھا۔یہ بھی واضح رہے کہ غامدی صاحب پچھلے کچھ عرصے سے یہ بات ماننے لگے ہیں کہ 1928ء کے بعد سے بین الاقوامی قانون کی رو سے کسی ملک کو قبضے کے ذریعے مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہوتے۔ (اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ میری یہ بات اب کم از کم وہ ماننے اور دہرانے تو لگے ہیں، خواہ حوالہ دیے بغیر ہی کرتے ہوں!) تو سوال یہ ہے کہ 1928ء کے بعد سے برطانیہ کے زیر تسلط علاقے میں بڑے پیمانے پر یہود کی آباد کاری کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
ان سوالوں پر بحث کیے بغیر اور ان کا جواب دیے بغیر 1947ء کے منصوبے کو قانون کا اور عالمی برادری کا فیصلہ کہنا نری سادہ لوحی ہے۔ (جاری ہے)

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。