Home » زنا کے قریب نہ پھٹکو ! -عظمیٰ پروین
بلاگز

زنا کے قریب نہ پھٹکو ! -عظمیٰ پروین

ولاتقربواالزنی انہ کان فاحشہ۰۰وساء سبیلا۔-زنا کے قریب نہ پھٹکو۔وہ بہت برا فعل ہےاوربڑاہی براراستہ(۳۲:۱۷)کس قدرحکمت اور شفقت سے میرےرب نے اس گھناؤنے جرم سےروکاہےجس کاتصوربھی فطرت سلیمہ پربارہے۔آیت کی جامعیت اور گہرائی خودہی منہ بولتاثبوت ہےاس بات کاکہ ایسا بہترین کلام رب العالمین ہی کو زیب دیتاہے۔سچی بات تویہ ہےکہ غلیظ جنسی خواہش کی تکمیل کےلیےاس راہ کواپنانےوالا مقام حیوانیت سے بھی گرجاتا ہے۔دائمی مجرم کےلیے تو اسفل السافلین ہی کےالفاظ موزوں ہوسکتے ہیں۔

گھناؤناجرم:آیت زیرنظرمیں زنا کا تذکرہ قتل اولاداورقتل نفس کے احکامات کےدرمیان کیا گیاہے۔سورہ فرقان میں شرک قتل اورزناکاایک ساتھ ذکرکیا گیاہے۔دراصل عقیدےاورایمان کی خرابی کی بدولت محض مذہبی مراسم کی ادائیگی میں کمزوری نہیں آتی بلکہ سوسائٹی کااجتماعی نظام بھی خراب ہو جاتاہے۔ افرادکوزناکی آزادی دینادراصل سوسائٹی کا قتل ہے۔یہ بات کسی صاحب نظرسےپوشیدہ نہیں کہ جس سوسائٹی میں زنا عام ہوجائے اس میں ازدواجی زندگی کی ضرورت نہیں رہتی اورخاندانی نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔آنےوالی نسلوں کو حیوانیت اوربےراہروی سے بچانا ممکن نہیں رہتا- شہوانیت اور عیش پرستی پوری قوم کےاخلاق کوتباہ کردیتی ہے۔گھریلو سسٹم مفقودہونے کے باعث ذہنی،جسمانی اورمادی قوتوں کا تنزل بھی ہوکررہتا ہے جس کا آخری انجام ہلاکت وبربادی کے سوا کچھ نہیں۔اس طرح زناکاراپنی خودغرضی سے تمدن کی جڑکاٹ دیتاہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم سے پوچھاگیا سب سےبڑاگناہ کیا ہے،فرمایا یہ کہ تو کسی کو اللہ کا ہمسراورمدمقابل ٹھہراۓ حالانکہ تجھےپیدااللہ نےکیاہے۔پوچھااسکےبعد،فرمایا یہ کہ تواپنے بچےکواس خوف سے قتل کرڈالےکہ وہ تیرے ساتھ کھانے میں شریک ہوجائے گا۔پوچھاگیا پھر،فرمایا یہ کہ تواپنے ہمسائے کی بیوی کےساتھ زناکرے۔ (بخاری،مسلم،ترمذی،نسائ،احمد)

سلامتی کی راہ:اسلام میں زنابدترین گناہوں میں شمارکیاگیاہے لھذا اسکےقریب جانے سے بھی روکاگیاہے۔زنا کی ممانعت کی سخت تاکیدہے یہ نہیں فرمایاکہ ارتکاب نہ کرو بلکہ فرمایا کہ قریب نہ پھٹکو کیونکہ سلامتی اسی میں ہے کہ آدمی اس گھناؤنے جرم کی سرحد سےدورہی رہے تاکہ بھولے سے بھی قدم اس پار نہ چلا جائے ۔ہروقت انسان اپنے نفس کی نگرانی نہیں کرسکتا۔پھر یہ بھی حقیقت ہےکہ عیں گناہ کی سرحدپرپہنچ کراپنے آپ کوقابومیں رکھناہرایک کےبس کا کام نہیں۔خصوصا جہاں انسان کےلیے غیرمعمولی لذت اور کشش کاسامان بھی موجودہو۔ اسلام انسانی معاشرے کوزناکے خطرےسےبچانےکےلیےوسیع پیمانےپراصلاحی وانسدادی تدابیراستعمال کرتاہے۔وہ سب سے پہلےایمان کےذریعےآدمی کے نفس کی اصلاح کرتاہے۔پھروہ نکاح کے لیے تمام ممکن آسانیاں فراہم کرتاہے۔دل نہ ملےتومردوں کےلیےطلاق اور عورتوں کےلیےخلع کاراستہ کھلارکھاگیا ہے۔غیرضروری اختلاط مردزن کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے،خواتین کو پردےکےاحکام دیے گیے اورگھروں سے غیر ضروری اخراج سےروک دیاگیا ہے- غیرعورت اورمردکےایک جگہ تنہائی میں رہنے کوبھی گناہ کبیرہ قراردیاگیاہے تاکہ فخاشی میں مبتلا ہونےکاکوئی راستہ ہی نہ رہے۔ان سب کے باوجود بھی جولوگ اس جرم سےبازنہ رہیں ان کےلیے قرآن وحدیث میں عبرت ناک سزائیں تجویز کی گئی ہیں تاکہ انسانی معاشرےکواس جرم عظیم کی نحوست سےپوری طرح پاک کردیاجاۓ۔

تمدن کابگاڑ:خاندان کانظام عورت اورمردکےاس مستقل تعلق سے بنتاہےجس کانام نکاح ہے۔مرداپنی فطرت کے تقاضے عورت کےپاس اورعورت اپنی فطری مانگ مردکےپاس پاتی ہےاوردونوں ایک دوسرےکے ساتھ وابستہ ہوکرہی سکون واطمینان حاصل کرتےہیں۔اس طرح وہ ایک دوسرےکےخیر خواہ،ہمدرد،غمخواراورشریک رنج وراحت بن جاتےہیں۔انکے درمیان مستقل رفاقت کاایسا پائدار رشتہ استوارہوجاتاہے اوروہ دونوں کچھ اس طرح پیوستہ ہوجاتے ہیں کہ عمربھر زندگی کی منجدھارمیں اپنی کشتی ایک ساتھ کھینچتے رہتے ہیں۔اسی تعلق کی بدولت افراد کی زندگی میں سکون،استقلال اور ثبات پیداہوتاہے۔اسی نظام کے دائرےمیں محبت،امن،ایثارکی وہ پاکیزہ فضا پیداہوتی ہےجس میں نئی نسلیں بہترین اخلاق،عمدہ تربیت اورتعمیرسیرت کےساتھ پروان چڑھ سکتی ہیں۔جذبہ مادری انسانی جذبات میں سے سب سےاعلی واشرف روحانی جذبہ ہے،جس کی بقاپرنہ صرف تہذیب وتمدن بلکہ انسانیت کی بقاکاانحصار ہے۔لیکن خودغرض، نفس پرست اور عیاش لوگ اس خدمت کی انجادہی کے لیےکسی طرح راضی نہیں ہوسکتے کیونکہ بچوں کی پرورش ایک اعلی درجہ کااخلاقی کام ہےجو ضبط نفس،خواہشات کی قربانی ،تکلیفوں اورمحنتوں کی برداشت اور جان ومال کاایثار چاہتا ہے۔ جوشخص خواہش نفس کی تسکین کاغلط راستہ اپناتاہےوہ اپنےاپکو نسل اور خاندان کی خدمت کے لیے نااہل بناتاہےاور انسانی اجتماع کے ساتھ کھلی بددیانتی کرتا ہے۔

اپنی جسمانی قوتوں کونہایت خودغرضی کے ساتھ لذت پرستی میں بربادکرتا ہے۔فطرت نے جس لذت کوحقوق وفرائض اورذمہ داریوں کی ادائیگی کےساتھ مشروط کیا ہےوہ اسےاپنے حصےکی محنت کے بغیر ہی چرالیتاہے۔اسی وجہ سے خاندان کاادارہ منتشر ہوکر بکھرجاتاہےاور انسان حیوانوں کی سی زندگی بسرکرنےپرمجبور ہوجاتےہیں۔گھرکاسکون بہم نہ پہنچنے کی وجہ سےافرادکی زندگیاں تلخ سےتلخ تر ہوتی چلی جاتی ہیں اوردائمی اضطراب کسی کل چین نہیں لینے دیتا۔ پھر یہ بھی حقیقت ہےکہ تمدن اور معاشرت میں ہرغلط طریقے کی ابتدا بہت معصوم ہوتی ہے۔بہت ممکن ہے کہ عورتوں کی بےپردگی اوربیرون خانہ بھاگ دوڑاپنافوری اثرنہ دکھاۓ۔بہت ممکن ہےکہ موجودہ نسل اسکی مضرتوں سےمحفوظ رہ جاۓ مگرایک نسل سےدوسری نسل اوردوسری سے تیسری نسل تک پہنچتے پہنچتے یہی غلط اطوار معاشرتی بربادی کا باعث بن جاتےہیں اور صورتحال سنبھالے نہیں سنبھلتی۔آج آدھی سے زیادہ دنیا لذتوں کے پیچھےدوڑ لگاکرجانوروں سےبھی بدترزندگی گزارنے پر مجبورہے۔ہماری حالت زار:ہمارا الیکٹرانک میڈیابےحیائی اوربداخلاقی کی ساری حدیں پارکرچکاہے۔ناجائز تعلقات کوقطع بےضرربناکردکھایاجارہاہے۔عورتوں کو غیرشرعی آزادی کاسبزباغ دکھاکر گھروں سےباہر گھسیٹاجارہاہے۔زنا کو اسان اورزناکومشکل بنادیاگیا ہے۔یہی وجہ ہےکہ نوجوان نسل بڑی تیزی سےاخلاقی بگاڑ کی طرف بڑھ رہی ہے۔

بڑوں کااحترام قصہ ءپارینہ بن چکا ہے۔طلاق کی ایسی کثرت ہےکہ ہماری تاریخ میں نام کوبھی اسکی مثال موجود نہیں۔تعلیمی اداروں میں بواۓ فرینڈاورگرلز فرینڈ کلچرکوبڑی تیزی سے فروغ مل رہا ہے۔ یہ سستی کیبل،یہ سستے موبائل پیکیجز اورارزاں مانع حمل دوائیں ہمیں تباہی کےاس گڑھے کی طرف دھکیل رہےہیں جہاں سے واپسی کاکوئی امکان نہیں۔ہماراالیکٹرانک میڈیااورنظام تعلیم یہودوہنود کےمقاصدپورے کررہاہے۔دشمن تودشمن ہے وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ ہم لذت پرستی اور عیاشی میں مبتلاہوکر ضعیف ہوجائیں تاکہ وہ ہمیں اسانی سےاپنا غلام بناسکیں۔ اہل مغرب اپنی کوتاہیوں کے باعث معاشرتی تباہی کابری طرح شکار ہو چکے ہیں۔ہمارے پاس تو نسخہ ءشفاء موجود تھا اورہم قوموں کوبچاسکتے تھے۔ہمارا کام توپورےجہاں کی صفائی تھاہم خودہی گندگیوں پرریجھ رہےہیں۰۰۰۰۰۰اگرہم اپنی آنے والی نسلوں کوان ہولناک اور شرمناک نتائج سےبچاناچاہتے ہیں توہمیں اسلام کےزندگی بخش پیغام کی طرف رجوع کرناہوگا۔ آخرت برباد:زنا وہ فعل شنیع ہےکہ جس کےکرنےوالےدنیاکے اضطراب کےساتھ ساتھ آخرت کے عذاب میں بھی مبتلا ہونے سے نہیں بچ سکتے۔قرآن کا فیصلہ ہےکہ ایسے لوگ توہین آمیز عذاب شدید میں گرفتار ہوں گے۔(۶۹:۲۵) نبی کریم سے پوچھاگیا کیاچیز سب سے زیادہ لوگوں کےآگ میں جانے کاسبب بنےگی،فرمایا منہ اور شرم گاہ۔(ترمذی)

ارشادنبوی ہے:ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں شادی شدہ زانی پر لعنت کرتی ہیں اور جھنم میں ایسے لوگوں کی شرم گاہوں سے ایسی سخت بو پھیلے گی کہ اہل جہنم بھی پریشان ہوجائیں گے اور آگ کے عذاب کے ساتھ انکی رسوائی جھنم میں بھی ہوتی رہے گی۔(معارف القران از مفتی محمد شفیع)
آخری بات:دین اسلام میں کمال درجے کاتوازن،تناسب اور قوانین فطرت کے ساتھ تطابق نظرآتاہے۔سچ یہ ہے کہ مختلف سمتوں میں بہک جانےوالےبنی اآم کو عدل توسط کا محکم سبق خالق کائنات ہی پڑھاسکتاہے۔مصائب سے ماری ہوئی دنیا سلامتی کےاس سرچشمے کیطرف رجوع کرکے ہی اپنے امراض معاشرت کی دوا حاصل کرسکتی ہے۔ حوالہ جات :(پردہ،تفھیم القران،فی ظلال القران)

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。