Home » شادی کلچر کا خاتمہ – عظمی خان
بلاگز

شادی کلچر کا خاتمہ – عظمی خان

“مجھے شادی نہیں کرنی۔””ابھی شادی نہیں کرنی۔”ہمت اور بے زاری بڑھے تو جملہ سوال میں تبدیل ہوجاتا ہے۔”کیوں کروں میں شادی۔”چھوڑیں کیا رکھا ہے شادی میں۔””شادی کرنے کا فائدہ۔مطلب میں اپنا سکون ختم کردوں۔””شادی کی ضرورت ہی کیا ہے ایسے ہی ٹھیک ہے۔زندگی میں سکون تو ہے۔””آپ کو کیا ملا شادی کرکے جو میری بھی کروانا چاہتی/چاہتے ہیں۔”

نہیں نہیں یہ جملے کسی کے انگریزی انٹرویو کے اردو ترجمہ کے نمونے نہیں ہیں۔ یہ جملے حقیقی زندگی میں عام سی لڑکیوں نے بولے ہیں۔ روز ہی بولتی ہیں کسی نہ کسی گھر میں ایسی گفتگو چل ہی رہی ہوتی ہے۔ کسی نہ کسی محفل میں سہیلیاں مل کر بیٹھتی ہیں تو شادی کے موضوع کو لیکر ایسے جملے سننے کو مل جاتے ہیں۔ بڑے بوڑھے اسے معمول کی شرم سمجھتے ہیں لیکن لہجہ کی بیزاری پر غور نہیں کرتے۔ یہ وہ جملے ہوتے ہیں جو بظاہر بولے جاتے ہیں لیکن انکے پیچھے unsaid/untold stories ہوتی ہیں۔چلیں ان unsaid/untold stories پر ایک جھلک ڈالتے ہیں۔”اللہ کا شکر ہے میری دعا قبول ہوگئی۔” “کونسی دعا؟””تمہارا حشر دیکھ کر دعا مانگی تھی کہ اللہ تعالی ڈرائنگ پریڈ کے بغیر رشتہ طے کروادے۔””مجھے نہیں کرنی شادی۔ بند کریں یہ روز روز کی پریڈ۔لگتا ہے بہو نہیں گائے پسند کرنے آئے ہیں۔ بلکہ گائے کو بھی تھوڑی عزت دے لیتے ہیں۔ یہاں وہ بھی نہیں۔””رنگ گورا کرنے کا انجیکشن کا کورس کتنے میں ہوتا ہے؟””کیوں تم کیوں پوچھ رہی ہو اتنا پیاری اسکن ہے۔”” یار تمہیں پتا ہے آج کل سب کو گوری چٹی لڑکی چاہیئے۔ سانولہ رنگ دیکھ کر سب انکار کردیتے ہیں۔ امی بہت پریشان ہیں۔ تم پتا کرو یہ کورس کتنے کا ہے۔””گھر آپ کا اپنا ہے؟” تنقیدی نگاہ گھر پر ڈالتی خاتون کا سوال۔”نہیں کرائے کا ہے”۔ “معاف کریئے گا ہمیں کرائے والے گھر میں بیٹی نہیں دینی۔””آپ کا گھر کس علاقے میں ہے؟”

“آپ کی بیٹی بہت پیاری ہے لیکن علاقہ ہمارے اسٹیٹس کے حساب سے نہیں۔””بیٹی کا قد کتنا ہے؟”پانچ فٹ چارانچ۔معاف کریئے گا میرا بیٹا پانچ فٹ آٹھ انچ ہے۔ لڑکی ساتھ میں کھڑی بھلی نہیں لگے گی۔”” آپ کی بیٹی چشمہ تو نہیں لگاتی؟”معذرت میرے بیٹے کو چشمش لڑکی نہیں پسند۔””بیٹا جاب کرتی ہو؟ کونسی کمپنی میں ۔اچھا تنخواہ کتنی ہے؟ ہمیں تو جاب پر کوئی اعتراض نہیں مرضی ہے آپ کی۔”آنٹی میں شادی کے بعد جاب نہیں کرنا چاہتی۔” “کیوں بیٹا۔اتنا پڑھنے لکھنے کا فائدہ۔””بس آنٹی جاب نہیں کرنی شادی کے بعد۔ گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ فل ٹائم جاب مشکل ہے۔””اچھامیرے بیٹے کو تو جاب والی لڑکی ہی چاہیئے۔ دونوں میاں بیوی مل کر کمائیں گے تو گھر چلے گا۔””بیٹی جاب کرتی ہے؟ معذرت ہمیں جاب والی لڑکی نہیں چاہیئے۔گھر داری نہیں آتی اور بہت تیز ہوتی ہیں۔” (لیکن لڑکی پھر بھی پروفیشنل ڈگری ہولڈر چاہیئے۔)” چھوٹی فیملی ہو لڑکی کی۔”جب خدا خدا کرکے کسی طرح کہانی آگے بڑھتی ہے اور نوبت شادی تک پہنچتی ہے تو کہانی کچھ یوں ہوجاتی ہے۔”ہم دوسال سے پہلے شادی نہیں کرسکتے ہماری تیاری نہیں ہے۔” ” مکان بنوا رہے ہیں جب تک شادی نہیں ہوسکتی۔””کمیٹی ملے گی تو شادی ہوگی اگلے سال۔””ابھی تو ایک شادی سے فارغ ہوئے ہیں اتنی جلدی دوسری بیٹی/بیٹے کی شادی ممکن نہیں۔”خیر کسی نہ کسی طرح شادی وقوع پذیر ہوہی جاتی ہے۔ کہانی آگے بڑھتی ہے۔

“ہمارے ہاں چاول ایسے نہیں بنتے اور دال ویسے نہیں بگھاری جاتی۔”(آپ نے بہو سے ریسیپی مینویل شئیر کیا تھا؟)”اب گھر کی ساری ذمہ داری تمہاری لیکن آج کھانے میں کیا پکانا ہے سے لیکر تم نے کیا پہننا ہے یہ میں بتاوں گی۔ میری مرضی کے بغیر گھر میں کچھ نہیں ہوتا۔””زمانے بھر کی لڑکیاں جاب کرتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ گھرداری نہیں کرنی۔ بیبی تم جہاز اڑا لو گھر کے کام تو تم نے ہی کرنا ہے۔ ہم سب کا ناشتہ، دوپہر کا کھانا بنا کر جاو۔ تم تو نوکری پر ہوگی ہم سب کیا دھول پھانکیں گے۔””نوکری چھوڑ دی تو گھر کیسے چلے گا۔ابھی تو شادی کے لئے ڈالی کمیٹیاں ہی ختم نہیں ہوئی ہیں۔”بس اتنی کہانیاں لکھ کر ہی میں تھک گئی ہوں۔جب صرف لکھنے سے اور آپ پڑھنے سے تھک گئے تو بتایئے جس پر بیتتی ہوگی انکی تھکاوٹ اور بیزاری کا کیا عالم ہوتاہوگا۔ اپنے اردگرد سے عبرت پکڑتے ہوئے لڑکیاں اور لڑکے کہتے ہیں “شادی” کرنی ہی نہیں ہے۔آپ نے غور کیا اس جملے میں unsiad کیا ہے؟اس جملے میں شادی کی نفی کی گئی ہے نکاح کی نہیں۔ ہمارے معاشرے میں شادی ہوتی ہے۔ جی جی انگریزی میں نکاح اور شادی کا مطلب ایک ہی ہے یعنی کہ میرج۔ اسی لئے میرج بیورو سے لیکر میرج ہال کھل گئے ہیں۔ نکاح کو تو ہم ایک ثانوی حیثیت دیتے ہوئے مسجد میں انجام دیتے ہیں اور شادی کے لئے اہتمام سے شادی ہال کا رخ کرتے ہیں۔”شادی” اور “نکاح” کا بنیادی فرق کیا ہے یہ کووڈ کے دنوں میں زیادہ بہتر سمجھ آیا ہے۔ جب لوگ کہتے ہیں۔ “نکاح” مسجد میں کردیتے ہیں۔”شادی” لاک ڈاون کے بعد کریں گے۔

شادی کا ادارہ باقاعدہ ایک کاروبار بن گیا ہے۔ ایک ایسی سودے بازی جس میں بولی لگتی ہے اس نسل کی۔ نکاح جسے اللہ نے مرد و عورت کے لئے سکینت کا ذریعہ بنایا تھا ہمارے معاشرتی رسوم جنہیں مذہب کا لبادہ اوڑھایا ہے نے بوجھ بنادیا ہے۔ نکاح نہ ایمان کی تکمیل کا ذریعہ بن پارہا ہے ناں سکینت کا باعث ہے بلکہ سرسر انتشار کا سبب بن گیا ہے۔ چاہے لڑکا ہو یا لڑکی شادی کے اس کلچر میں دونوں کی عزت نفس کہیں نہ کہیں کچلی جاتی ہے۔ ماں باپ کی شہزادی بیٹیاں جن کی قابلیت پر اور تربیت پر ماں باپ کو مان ہوتا ہے جب ہر ہفتے ڈرائنگ روم پریڈ کے نام پر لوگوں کے ہخودساختہ معیار کی بدولت ریجیکٹ ہوتی ہیں تو انہیں دیکھ کر چھوٹی بہنین اور عمزاد عبرت پکڑتی ہیں کہ نہ شادی کریں گی نہ عزت نفس داو پر لگے گی۔ لڑکوں کا کردار، اخلاق اور قابلیت جب مال کے ترازو میں تولی جاتی ہے اور اخلاق، کردار اور قابلیت کا پلڑا ہلکا ثابت ہوتا ہے تو وہ بھی ادھر ادھر منہ مارنا شادی کر نے سے بہتت سمجھتے ہیں۔سو اگر اپنی نوجوان نسل سے یہ جملے نہیں سننے۔ ان بےزاری بھری خوہشات کو ارادے کا رنگ نہیں دینا۔ وہ راستہ جو انٹرویو کے ذریعےدکھایا گیا ہے تو نکاح کو رواج دیجئے شادی کلچر کا خاتمہ کیجئے۔نکاح کے لئے نہ ڈرائنگ روم پریڈ کی ضرورت ہے نہ گورے رنگ اور پانچ فٹ چار انچ کی پرفیکٹ فگر والی لڑکی کی۔ نہ پروفیشنل ڈگری ہولڈر کی ضرورت ہے نہ گھر داری میں ماہر بہو کی۔ نہ ذاتی مکان والا داماد چاہیئے ہوتا ہے نہ سکس ڈیجیٹ سیلری پیکج۔

نکاح کے لئے نہ کمیٹی ڈالنے کی ضرورت ہے نہ ایسی تیاری کی جسکو کرنے میں سالوں لگ جائیں۔نکاح کے لئے لاک ڈاون ختم ہونے کی ضرورت بھی نہیں۔ نکاح کے بعد گھر بستے ہیں اور شادی کے بعد سسرال۔ نکاح کے بعد میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں ایک دوسرے کے حریف نہیں۔ نکاح سے معاشرےبمیں سکینت آتی ہے انتشار نہیں۔ نکاح کو فروغ دیجئے موجودہ نسل کو بچالیجئے۔ اس نسل کو گھر کی ضرورت ہے ساتھی کی ضرورت ہے۔ روٹی کپڑا مکان سے بڑھ کر خواہش اور ضرورت companionship کی ہے باقی اپنے لئے مکان کا ، کھانےکا، لباس کا بندوبست یہ خود کرلیں گے۔اگر حلال راستہ سے آسانی کے ساتھ یہ companionshipمیسر نہیں ہوئی تو پھر پارٹنرشپ کا راستہ تو دکھا دیا گیا ہے۔ اور یہ راستہ آسان بھی ہے اور پرکشش بھی۔فیصلہ آپ کا ہے آپ اس شادی کلچر کا خاتمہ کرتے ہیں یا نہیں۔

Add Comment

Click here to post a comment