Home » تیرے بعد تیری یادیں ۔۔ افشاں نوید
بلاگز

تیرے بعد تیری یادیں ۔۔ افشاں نوید

اس وقت میں عائشہ منور کے برابر بیٹھی ہوں۔منصورہ میں اجلاس ہورہا ہے۔ وقفہ میں میں نے پوچھا،”عائشہ باجی یہ ایک برس کیسے بیتا؟”وہ ساتھی سے بچھڑ کر کچھ کھو سی گئی ہیں۔لگتا ہے لفظ فضا میں ڈھونڈ رہی ہیں۔

بولیں” وہی کمرہ ہے،وہی پلنگ اور دروازے کے پیچھے کھونٹی، جہاں کپڑے اور جناح کیپ رہتی تھی۔وہ کپڑے اب بھی اسی کھونٹی پر لٹکے ہوئے ہیں۔ماسی سے کپڑے دھلوا کر سوچتی ہوں کہ کسی کو دے دوں۔ پھر اسی کھونٹی پر لٹکا دیتی ہوں کہ اس پر اور کیا لٹکے گا؟ یہ تو انہی کے کپڑوں کی ہے۔ان کا سامان بھی جوں کا توں رکھا ہے۔ہاتھ لگانے کی ہمت ہی نہیں پڑتی۔بیٹی کہتی ہے میں آؤں گی تو ہم مل کر دیکھیں گے۔ وہ آتی ہے تو ہمارے اندر اس موضوع پر بات کرنے کا شائد حوصلہ ہی نہیں ہوتا۔وہ کتابیں جن کے لیے فرش سے چھت تک کی الماری بنوائی تھیں۔کمرے کے بیچ رکھی میز پر ایک دن میں کتنی کتابوں کو جگہ بدلتے دیکھتی تھی۔ وہ میز آج بھی وہیں پڑی ہے کتابیں بھی الماری سے جھانک رہی ہیں۔اب بہت سی کتابوں پر گرد پڑ جاتی ہے۔ہم دونوں کا عشق کتابیں تھیں۔کبھی کوئی کتاب سنانے لگتےکبھی مجھے کھول کر دیتے کہ یہ صفحہ سنادو۔پھر ہم اسی پر باتیں کرتے رہتے۔اب سوچتی ہوں میاں بیوی کے تو گفتگو کے اور بھی بہت سے عنوانات ہوتے ہوں گے۔ ہم کتابوں ہی کی باتیں کرتے تھے۔جب یہ کمزور ہوگئے تھے تو میں اخبار پڑھ کر سنانے لگی تھی۔ اخبار کے بغیر خود کو ادھورا سمجھتے تھے۔کتنا آزردہ ہوتے تھے،کشمیر کے حالات پر، کبھی شام کی صورتحال پر۔

کبھی غزہ کے بارے میں ۔۔۔۔لگتا تھا یہ مسائل تو ہماری گلی محلے کے مسائل ہیں۔ جیسے لوگ محلہ کا گٹر ابلنے پر،چولھے میں گیس یا نل میں پانی نہ ہونے پر تڑپ اٹھتے ہیں ہم ملکی اور امہ کے حالات میں اپنے گھر،کچن،ان سب سے بے نیاز ہی زندگی سے گزر گئے۔جب رعشہ سے توازن بگڑ گیا تو فکر اسی کی رہی کہ اب کتاب کیسے اٹھائیں۔”میں نے کہا اتنا بوجھ اٹھایا تھا اپنے کاندھوں پر اپنے دل کو بڑے دکھ میں مبتلا رکھا چھوٹے غم ہم جیسوں کے لیے چھوڑ دئے۔ایک زندگی تو گزر ہی جاتی ہے۔بات بس اتنی سی ہے کہ کون کس شان سے گیا۔کس لیے جی کر گیا۔۔۔پچھلے برس آج کے دن چلے گئے تھے اور۔۔۔ عملی سبق دے کر گئے تھے کہ ‘جو شہادت کی موت مرنا چاہتے ہیں وہ شہادت کی زندگی گزارنا بھی سیکھیں۔”مولا ان سے راضی ہو۔۔۔۔قبول کرلے انھیں۔۔۔ اور بعد والوں کو ان کے نقوش پا عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین

Add Comment

Click here to post a comment