Home » غضِ بصر – جویریہ ساجد
بلاگز

غضِ بصر – جویریہ ساجد

میں کوئی عالم دین نہیں کہ فتوی دوں،نہ ھی لبرل کہ جس کا دین سے کچھ لینا دینا نہیں۔لیکن میری زندگی کا اوڑھنا بچھونا دین ھے میں کوشش کرتی ھوں کہ اپنے معاملات کو ممکن حد تک دین کے احکامات کے مطابق رکھوں۔ بہت سادہ سی بات کر رھی ھوں کہ ھمارا دین دین فطرت ھے لیکن اس پہ عمل مشقت ھے۔ حج بھی مشقت ھے ۔ تمام دنیاوی کاموں کو جہاں کا تہاں چھوڑ کے پانچ وقت باجماعت نماز ادا کرنا بھی مشقت ھے۔

دنیا بہت دلفریب ھے اس کی دلفریبی سے خود کو بچا کے چلنے کے لیے اپنے نفس سے مسلسل جنگ لڑنی پڑتی ھے۔ دین کے احکامات پہ عمل کرنے کے لیے خود کو روک لینا مشقت ھے۔بلا شبہ یہ مشقت ھم سب بلا تفریق کرتے ھیں عورت ھو یا مرد۔جون کی گرمی میں گھر سے زرا سے کام کے لیے باہر نکلتے ھوئے عبایا پہننا ، سکارف اوڑھنا، بڑی چادر اوڑھنا بھی ایک مشقت ھے۔ بلکل اسی طرح مرد کا عورت پہ سے نظر ہٹا لینا بھی مشقت ھے۔جس طرح یہ کہنا ٹھیک نہیں کہ بھئی ھمیں تو گرمی لگتی ھے ھم عبایا نہیں پہن سکتے یا چادر نہیں اوڑھ سکتے یا دوپٹہ سر پہ نہیں رکھ سکتے گرمی ھو گی تو ھم بھی کھلے ڈھلے کپڑے پہن کے ھی نکلیں گے- اسی طرح یہ کہنا بھی مناسب نہیں کہ عورت چست لباس میں نظر آئے گی تو ھم بھی اسے دیکھیں گے۔ یا صرف نظر ھی آئے گی تب بھی ھمارا تکنا فرض ھے۔اگر مرد کی فطرت میں اللہ نے عورت کے لیے اٹریکشن رکھی ھے تو عورت کی فطرت میں بھی اللہ ھی نے بننا سنورنا اچھا لگنا رکھا ھے لیکن دونوں کو رک جانے کا حکم ھے عورت کو اپنی زیبائش کی نمائش سے رک جانے کا اور مرد کو نظر ہٹا لینے کا۔ یہ تقابل میں نے اس لیے کیا کہ ھمیشہ عورت کے پردے کو یا لباس کو مرد کے بھٹکنے کا جواز بنایا جاتا ھے۔ نہ پردے کی اہمیت سے انکار ھے نہ ھی مرد کے بھٹکنے کا یہ مناسب جواز ھے۔ دین کے احکامات میں چونکہ چناچے کی گنجائش نہیں ہر ایک کا راستہ الگ اور حد متعین کر دی گئی ھے سب اپنے اپنے دائرہ عمل میں دین پہ عمل کرئیں اور قائم رھیں اسی میں ھم سب کی بقا ھے۔

Add Comment

Click here to post a comment