Home » سید علی گیلانی – اظہار الحق
بلاگز

سید علی گیلانی – اظہار الحق

اظہار الحق صاحب نے سید علی گیلانی پر کیا شاندار کالم لکھا ہے. حق ادا کر دیا…سید علی گیلانی نے وہ راستہ چنا جو ٹیپو سلطان نے چنا تھا۔ جو امام شامل نے چنا تھا۔ جو نیلسن منڈیلا نے چنا تھا۔ انہوں نے وہ راستہ چنا جو ان کے آبائواجداد نے امویوں اور عباسیوں کے عہد میں چنا! وہ سید تھے۔ سادات کے راستے پر چلے! سادات کا راستہ زنداں کا راستہ ہے یا شہادت کا! کربلا تو محض آغاز تھا! اس کے بعد کیا کیا نہیں ہوا۔

امام حسنؓ کے پوتے امام عبداللہؒ کا انتقال جیل میں ہوا۔ حافظ ابن کثیرؒ نے لکھا ہے کہ آپ کی موت زنداں میں طبعی نہیں تھی! امام نفس ذکیہؒ کے ایک درجن سے زیادہ قریبی اعزہ کو محبوس رکھا گیا، شہادت کے بعد آپ کا سرِ مبارک کاٹ کر عباسی حکمران کو بھیجا گیا۔ امام ابو حنیفہؒ اور امام مالکؒ نے امام نفس ذکیہؒ کی حمایت کی تھی۔امام باقرؒ کو امویوں نے جیل میں ڈالا۔ جب قیدی آپ سے متاثر ہونے لگے تو رہا کر دیا مگر ان کے راستے میں پڑنے والے شہروں کے بازار بند کرا دیے تا کہ اشیائے خور و نوش نہ خرید سکیں۔ امام موسیٰ کاظمؒ کا انتقال جیل میں ہوا۔علی گیلانی سیّد تھے۔ انہوں نے سیّد ہونے کا حق ادا کیا۔ انہوں نے تخت کا نہیں تختے کا راستہ چنا۔ لوگ سادات سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں مگر سادات کی اتباع نہیں کرتے‘ اس لیے کہ سادات کی سنت سر جھکانا نہیں، سر کٹانا ہے۔ آخری گیارہ سال تو سید علی گیلانی مستقل نظر بند رہے۔ا س سے پہلے بارہا قید رہے۔ ان کی قید اور نظر بندی کا کُل عرصہ انتیس سال پر محیط ہے۔ ایک سال کم تیس سال! نیلسن منڈیلا کا عرصۂ اسیری ستائیس برس بنتا ہے۔ منڈیلا کے لیے ایک دنیا نے شور برپا کیا۔ سید علی گیلانی مسلمان تھے، کشمیری تھے! اس لیے دنیا نے اغماض برتا! بانوے سال کے ضعیف اور نحیف انسان کو بھارتی استعمار نے ہر اس سہولت سے محروم رکھا جو کسی بھی انسان کا بنیادی حق ہے۔ پوتوں اور نواسوں، پوتیوں اور نواسیوں سے نہ ملنے دیا۔

پاسپورٹ معطل رکھا، مواصلات سے، رسل و رسائل سے، ملنے ملانے سے، احباب اور متعلقین سے، غرض پوری دنیا سے کاٹ کر رکھا! یہاں تک کہ فرشتے آئے اور سعید روح کو حفاظت سے لے گئے۔ فرشتے لے چلے سوئے حرم تابوت میرا کفِ افسوس ملتے رہ گئے بد خواہ میرے غاصب بھارتی حکومت کے ہاتھ ان کا جسد خاکی لگا۔ رات کے اندھیرے میں تدفین کر دی۔ اعزہ و اقارب کو شریک نہ ہونے دیا۔ جتنے راستے ان کے گھر کو جاتے تھے، سب پر پہرے اور ناکے لگا دیے۔ وفات کے بعد بھی بھارتی حکومت کے خوف کا یہ عالم تھا کہ فوج کی پلٹنوں کی پلٹنیں کھڑی کر دیں۔ اس بزدلانہ حرکت کو علی گیلانی آسمانوں سے دیکھ کر مسکر ائے ہوں گے۔
ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں
جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے

سید علی گیلانی کی طویل قید اور قید میں بے بسی کی موت رائیگاں نہیں جائے گی۔ یہ خدا کی سنت ہے۔ اس کے ہاں قربانی اور ایثار کا حساب رکھا جاتا ہے۔ کشمیر پر برستی ہوئی آگ ایک دن پھولوں میں تبدیل ہو گی۔ سیب اور انار کے درخت اُس آنے والے دن جو پھل دیں گے‘ اُن پھلوں تک غاصب بھارتی حکومت کے ہاتھ نہیں پہنچ سکیں گے۔ یہ ہاتھ آج طاقت ور اور لمبے دکھائی دے رہے ہیں مگر یہ ہاتھ ٹوٹ جائیں گے۔ کنول کے خوبصورت پھول کشمیر کی جھیلوں کو ڈھانپ لیں گے۔ انگور کے خوشوں تک صرف کشمیریوں کے ہاتھ پہنچیں گے۔ بنفشی اور ارغوانی رنگ کشمیر کے مہکتے باغوں کو بہشت میں تبدیل کر دیں گے۔ علی گیلانی کی قبر پر پھول کھلیں گے۔ جگنو دیے جلائیں گے۔ کرنیں اتریں گی۔ تتلیاں قبر کا طواف کریں گی۔ آسمان پر لگے ہوئے دریچوں سے علی گیلانی کشمیر کو آزاد ہوتا دیکھیں گے!

چاندنی اور دھوپ کو کبھی کوئی روک پایا ہے؟
خوشبو کو کبھی کوئی ختم کر سکا ہے؟

Add Comment

Click here to post a comment