Home » جناح اب کون آپ کا دفاع کریں گا – شہلا ارسلان
بلاگز

جناح اب کون آپ کا دفاع کریں گا – شہلا ارسلان

آج یہ خبر سن کر دلی افسوس ہوا کہ ڈاکٹر صفدر محمود اس دنیا میں نہیں رہے ،یہ خبر میرے شوہر نے واٹس اپ میسیج پر دی ،میں حیران کے سوشل میڈیا پر اس خبر کا کوئی پرسان حال نہ تھا چلے میں تو سوشل میڈیا کو رو رہی ہوں یہاں تو ڈاکٹر صاحب نے جس اخبار کو اپنی پوری جوانی دے دی اس نے اندر کے صفحات پر چھوٹی سی خبر لگائی -صد افسوس صد افسوس

اگر کوئی ملک کو لوٹنے والا بیمار ہو یا بڑی مشکل سے گزر جائے تو اس کی خبر بڑے زوروں شور کے ساتھ مین پیج پر لگتی ھےڈاکٹر صاحب کے پوری قوم کے اوپر بڑے احسان ہیں جب جب ملک دشمن لبرل اور بیرون ملک دشمنوں نے قائد اعظم پر طرح طرح کے الزامات لگائے ،ڈاکڑ صاحب نے ان سب الزامات کا بڑی جوان مردی سے جواب دیا،قائد اعظم کا بمبئی والا بنگلہ اور اس حوالے سے پاکستان میں ہندوستانی سفیر سے خط وکتابت کو ہمارے دانشوروں کا ایک گروہ ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت ہوا دیتا رہا اور قائد اعظم کے بارے میں بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے ،قائداعظم کی زندگی،جدوجہد اور کردار کو سامنے رکھیں اور سوچیں کہ کیا وہ کبھی پاکستان کو عارضی شے سمجھ سکتے تھے -قائداعظم نے قیام پاکستان کے بعد کوئی دو درجن بار اعلان کہ پاکستان بہرحال قائم رہے گا اپنی عظیم جہدوجہد اور طویل تناظر میں کیا یہ گمان بھی کیا جاسکتا ہے کہ قائد اعظم پاکستان کو عارضی سمجھتے تھے اور وہ ریٹائر ہو کر بمبئی میں رہنا چاہتے تھے (جھوٹا الزام) سیکولرازم کا بہتان بھی قائد پر لگا ان حضرات کو بھی ڈاکٹر صاحب نے نہایت اچھے طریقے سے سمجھایا

قائد نے آزادی سے قبل اور قیام پاکستان کے بعد بارہا دفعہ یہ کہا کہ پاکستان کے نظام کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی،ہم نے جمہوریت تیرہ سو سال پہلے سیکھ لی تھی ہماری تعلیمات اور قوانین کا منبع قرآن مجید ہے اور اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے لہذا نہ قائد اعظم سیکولر تھے اور نہ ہی پاکستان سیکولرازم ملک ہے-/ایسی طرح کے کئ الزامات جناح صاحب پر لگتے رہے جن کا جواب ڈاکٹر صاحب دیتے رہےآج کے دور میں ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کی بہت کمی محسوس ھوگی آپ ایک بےداغ محب وطن پاکستانی تھے اللہ آپ کی مغفرت فرمائے آمین
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا