Home » اردو زبان، ملکی وحدت کی پہچان – ڈاکٹر خولہ علوی
بلاگز

اردو زبان، ملکی وحدت کی پہچان – ڈاکٹر خولہ علوی

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :(وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه ليبين لهم.) (سورۃ ابراهيم: 4)ترجمہ: ” اور ہم نے جو رسول بھیجا ہے، اس نے اپنی قوم کی زبان میں انہیں پیغام دیا تاکہ وہ ان کے لیے ہر بات واضح بیان کردے۔ “ہر قوم و ملت کی فہم و فراست، شعور واحساس اور پہچان اس کی اپنی قومی زبان سے صحیح طریقے سے ممکن ہو سکتی ہے۔ اردو ہماری قومی زبان اور ملکی وحدت کی پہچان ہے۔ یہ بڑی پیاری، میٹھی، فصیح و بلیغ، افکار و اعمال کی علمبردار اور کانوں میں رس گھولنے والی زبان ہے۔ شاعر نے اردو زبان کے بارے میں اپنے جذبات و احساسات کا کتنا بھرپور استعمال کیا ہے!!!

؎ کسے تہذیب کہتے ہیں؟ وہ خود ہی جان جائیں گے
 تم اپنے بچوں کو فقط ” اردو“ سکھا دینا

زبان وہ پائپ لائن ہے جس کے ذریعے کسی قوم کی صرف زبان نہیں بلکہ تہذیب و تمدن، ثقافت، اقدار وروایات کی منتقلی بھی خود بخود عمل میں آجاتی ہے۔ مثلاً ابتدائی کلاسوں کا طالب علم اگر ” چرچ “ کا لفظ پڑھتا ہے تو اس کے بولتے یا لکھتے پڑھتے ساتھ اس کے ذہن میں عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث اور ان کے مجسموں و تصاویر والے عبادت خانہ کا تصور ذہن میں آتا ہے اور وہ اس کو مقدس سمجھنے لگتا ہے۔ ” وائن “ اور ” وڈکا “ کے الفاظ اس کے دل سے شراب کی نفرت ختم کر کے الٹا ان حرام چیزوں کا شوق پیدا کر سکتے ہیں۔اقوام عالم میں ترقی یافتہ قوموں نے ہمیشہ اپنی زبان، لباس، تہذیب و ثقافت اور تشخص کو قائم ودائم رکھنے کے لیے بھرپور محنت کی اور جہان میں اس کی پہچان کے لیے فعال کردار ادا کیا۔ فرانس، جاپان، جرمنی، چین، بھارت، روس وغیرہ سب نے اپنی اپنی زبان کو زندہ رکھا، حتیٰ کہ اسرائیل نے اپنی مردہ ہوئی مذہبی عبرانی زبان کو دوبارہ زندہ کردیا۔ اور اب ان کا سارا نظام تعلیم اور دفتری نظام وغیرہ عبرانی زبان میں کام کررہا ہے۔جب کسی قوم کے زوال کی ابتدا ہوتی ہے تو اس کا تشخص یعنی زبان ، لباس، اقدار، تہذیب و ثقافت سب کچھ بدلنا شروع ہو جاتے ہیں اور وہ دوسری قوم کی زبان اور طور طریقوں کی نقالی کرنے لگتی ہے جو غلامانہ ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے۔

ہمارا اپنی زبان کو کمتر سمجھ کر دوسری زبان کو فوقیت دینا دراصل احساس کمتری ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ بحیثیت قوم ہم ہر معاملے میں احساس کمتری کا شکار ہیں تو یہ بات درست ہے۔وائسرائے ہند ، مولانا ابو الکلام آزاد سے ملنے ان کی رہائش گاہ پر آیا۔ وائسرائے نے جو بات کی، ترجمان اس کا ترجمہ کرکے مولانا کو بتاتا رہا۔ پھر مولانا کی ہر بات کا انگریزی ترجمہ کرکے وائسرائے کو بتاتا رہا۔ دوران گفتگو ترجمان کچھ ترجمہ صحیح نہ کر سکا تو مولانا آزاد نے اس کی غلطی کی اصلاح کرکے فرمایا کہ” یوں بات کہو۔” “جب آپ کو انگریزی آتی ہے تو آپ نے ساتھ ترجمان کیوں بٹھایا تھا؟”ملاقات کے اختتام پر وائسرائے نے مولانا آزاد سے پوچھا تھا۔ “آپ ہزاروں میل چل کر اپنی زبان نہیں چھوڑ سکتے۔ تو میں اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے کیسے اپنی زبان چھوڑ دوں؟”مولانا نے جواب دیا تھا۔در حقیقت غیور لوگوں کا اپنی زبان اور دیگر معاملات میں ایسا ہی غیرت مندانہ رویہ ہوتا ہے!!!آج ہم جس طرح اپنے دین سے دور ہوتے جارہے ہیں، بالکل اسی طرح ہم اپنی قومی زبان سے بھی دور ہو چکے ہیں۔ اور عصرِ حاضر میں ہم اپنی قومی زبان اردو کو انگریزی حروف (رومن اردو) میں اور بائیں طرف سے لکھتے ہیں تو شاید کسی پردیسی کا پردیس میں ایسا حال نہیں ہوتا جو ہماری پیاری زبان کا اس کے اپنے دیس میں کر دیا گیا ہے۔

اردو افکار و اعمال کی بہترین آئینہ دار زبان ہے۔ اس کو ضائع کرنےکے بجائے اس کی حفاظت کریں۔ اس کو زوال پذیر ہونے سے بچانے کے لیے اس کے عروج میں اپنا کردار ادا کریں۔انگریزوں نے برصغیر میں دفتری و تدریسی زبان فارسی کو ختم کر دیا تھا اور اس کی جگہ انگریزی زبان کو سرکاری زبان قرار دے کر اس کو فروغ دیا تھا جس کےنتیجے میں مسلمانوں کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔1923ء میں خلافت کے خاتمے کے بعد، کمال اتاترک نےترکی میں عربی رسم الخط کو ختم کر دیا تھا جس کے نتیجے میں ترکوں کا اسلام سے تعلق کمزور ہو گیا تھا۔ہم صرف زبان کے معاملے میں نہیں بلکہ اپنی ترقی اور آگے بڑھنے کے لیے ہر معاملے میں یہود و نصاریٰ اور کفار کے طرزِ زندگی کی نہ صرف نقالی کرتے ہیں بلکہ اس پر فخر بھی محسوس کرتے ہیں۔ایک دفعہ ایک لیڈر کسی عوامی جلسے میں تقریر کر رہے تھے۔ ان کی تقریر کے دوران پنڈال میں زیادہ تر لوگ سو رہے تھے۔ تقریر کے اختتام پر انہوں نے اچانک کہا کہ ” لوگ سوتے سوتے ہاتھ کھڑے کریں۔“یہ سننا تھا کہ سب نے ہی ہاتھ اوپر اٹھا دیے۔ وہ بولے :” واہ بھئی واہ! واقعی آپ لوگ ہمارے ملک و قوم کا روشن مستقبل ہیں۔“اردو زبان کے معاملے میں ہماری قوم کی اکثریت ایسا کردار ادا کررہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے۔

دور حاضر کے طالب علموں کی اردو کا حال نہایت قابل افسوس ہے۔ ہزاروں روپے فیسیں دے کر انگریزی میڈیم اسکولوں کے بچے انگریزی تو بڑے انداز سے بولتے ہیں لیکن اردو بولتے یا لکھتے ہوئے اردو کا معیار نہایت گرا دیتے بلکہ اس کا جنازہ نکالتے ہیں۔کالجوں میں میٹرک پاس کرکے داخلہ لینے والے طلبہ کی زبان اور تحریر واملا کی بدترین صورتحال سامنے آتی ہے۔ الا ماشاءاللہ۔ ایسا معاملہ دیکھ کربہت دکھ ہوتا ہے۔مقام افسوس ہے کہ جس قوم کی قومی زبان “اردو“ ہو، وہاں اردو کے حوالے سے نظام تعلیم اور معیار تعلیم ایسا ہو، تو اس پر ” انا للّٰہ وانا الیہ راجعون “ اور ” استغفار “ ہی پڑھنے کا مقام ہے۔
؎   وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

پریشان کن صورتحال تو یہ ہے کہ نئی نسل کے بہت سے والدین کو اپنے بچوں کے انگریزی بولنے اور ان کی اردو اچھی نہ ہونے میں کوئی خرابی بھی نظر نہیں آتی بلکہ وہ اپنے بچوں کے دیسی انگریز بننے اور انگریزی بولنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔اب عملی معاملہ یہ ہے کہ اُردو زبان اپنے ہی دیس میں اجنبی ہوتی جا رہی ہے!!! یہ کہیں گم ہوتی جا رہی ہے!!! اب یہ ہم سے بچھڑتی جا رہی ہے!!! بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ہم خود اسے اپنے آپ سے دور کر رہے ہیں تو یہ سب سے بہتر ہوگا!!!

اردو زبان کو زوال سے بچانے کے لیے چند تجاویز پاکستانی اندرون و بیرون ملک ہر جگہ آپس میں اردو زبان بولنے اور لکھنے کی کوشش کریں۔ اس میں انگریزی زبان کے الفاظ کا استعمال کم سے کم کریں۔تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو بھی خیال رکھنا چاہیےکہ وہ اردو میں سبق پڑھاتے ہوئے، درس (لیکچر) دیتے ہوئے یا طلباء سے گفتگو کرتے ہوئے انگریزی کے الفاظ بالکل نہ بولیں یا کم سے کم الفاظ استعمال کریں۔سوشل میڈیا پر رومن اردو نہ لکھیں بلکہ اردو کی بورڈ کا استعمال کریں اور دائیں جانب سے لکھنے کی عادت بنائیں۔ اپنی زبان کو فوقیت دیں اور اپنی پہچان اور تشخص کو معدوم نہ ہونے دیں۔
؎ سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں،
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

ہمیں خود احتسابی کے عمل سے گزرتے ہوئے اپنے آپ کو دیکھنا چاہیے کہ کہیں ہم خود روزمرہ معمولات میں انگریزی کے الفاظ زیادہ تو نہیں استعمال کرتے؟ ہم اپنے بچوں کے شادی کارڈ وغیرہ انگریزی میں تو نہیں چھپواتے؟ اپنے دستخط انگریزی میں تو نہیں کرتے؟بچوں کی پڑھائی لکھائی میں انگریزی کو پسند تو نہیں کرتے؟ بچوں کی تربیت میں انگریزی کو فوقیت تو نہیں دیتے؟

ایسے اسکولوں میں اپنے بچوں کے داخلہ تو نہیں کرواتے جہاں اسلامیات بھی انگریزی میں پڑھائی جا رہی ہو اور جہاں اردو بولنے پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہو؟اگر ہم یہ سب افعال سر انجام دے رہے ہیں تو پھر ہم خود ذہنی غلامی کا شکار ہیں اور اردو زبان کے زوال میں اپنا منفی کردار ادا کررہے ہیں۔حکومت اردو زبان کو سرکاری زبان قرار دے۔ جو کام ہمارے دائرہ کار کے اندر ہیں، ان کا ہم مکمل خیال رکھیں لیکن جو کام ہمارے اختیار سے باہر ہیں، ہم ان کے لیے بھی کوشاں رہیں۔ مثلاً قومی زبان اُردو کو سرکاری و دفتری زبان قرار دلوانا۔ بابائے اردو مولوی عبد الحق نے کہا تھا کہ”جو لوگ اپنی زبان کے استعمال سے شرماتے ہیں ان میں قومی غیرت نہیں۔ وہ قوم مردہ ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ ہماری قوم میں مردوں کی اکثریت ہو۔“ یاد رکھیں! اردو ہماری پہچان ہے ،اسے مت بھولیں۔ یہ ہمارا وقار ہے، اسے بے توقیر مت کریں۔ یہ ہماری معاشرتی تمدن کی عکاس ہے، اسے تہذیب کا نوحہ مت بننے دیں۔ یہ ہماری ملکی وحدت کا باعث ہے، اس کو ترقی دیں۔ یہ ہمارے افکار و اعمال کی علمبردار ہے، اس کی نگہبانی کریں۔ یہ ہماری اسلامی و مشرقی تہذیب کی آئینہ دار ہے، اسے زندہ و جاوید رکھیں۔

Add Comment

Click here to post a comment