Home » خود کشی – جویریہ سعید
بلاگز

خود کشی – جویریہ سعید

آپ کو خود کشی فیسی نیٹ کرتی ہے؟آپ سوچتے ہیں کہ مر گئے تو لوگوں کو قدر ہوگی آپ کی؟” جو آپ کے دل میں بستا ہے ۔۔۔ کبھی اس کا دل آپ کے لیے تڑپے۔۔۔ بس یہی ایک آرزو ہے؟یا کسی کی آنکھوں میں اپنے لیے آنسو دیکھنے کی خواہش ہے۔۔۔ وہ جسے آپ کا احساس نہیں۔۔۔ شاید آپ کو یاد کر کے پچھتائے ؟وہ جو آپ کو زخم دیتے رہے ہیں ۔۔۔ شاید شرمندہ ہوجائیں۔۔۔ہاااہ ہ ہ ۔۔۔ کیسا خوش کن خیال ہے ؟

آپ سوچتے ہیں کہ فلاں جو خود کشی سے مر گیا تھا۔۔ کیسے ایک دنیا اس پر روئی تھی۔۔۔ مجھ پر بھی روئیں گے رونے والے۔۔ یہی بات ہے نا؟پتہ بھی نہیں چلتا اور درد کی تہوں سے نمودار ہوکر لبوں پر مسکراہٹ پھوٹ پڑتی ہے۔۔۔ آئیے ۔۔۔۔ وہاں چل کر بیٹھتے ہیں ۔۔۔ درختوں سے گھری پگڈنڈی کے اس موڑ پر ایک چھوٹا سا پہاڑی نالہ بہتا ہے۔ اس کا پانی درختوں کے عکس سے سبز نظر آتا ہے۔ وہاں اس کے دوسرے کنارے کے پاس بیٹھیں گے۔ جہاں کاسنی پھول کھلے ہیں۔جی۔۔تو آپ سوچتے ہیں کہ لوگ پچھتائیں گے آپ سے کی گئی زیادتیوں پر؟یا انہیں آپ کے دکھ کا احساس ہوگا؟ ہائے ! ہم کیسے بے درد تھے اور اسے کیسا غم تھا؟ کاش ہم یوں کرتے ۔۔ کاش ہم ووں کرتے۔۔ ؟اس مسرت انگیز خیال کے بعد موت کی سختی کس کو یاد رہتی ہے؟میں وہاں گہرے سبز پانی پہ نظریں جمائے آپ سے کچھ کہتی ہوں۔۔۔ آپ سنیے گا۔۔۔۔ کیا کہا۔۔۔ آپ جانتے ہیں کہ میں کیا کہوں گی۔۔۔ یہی کہ کوئی نہیں روتا۔۔؟ کسی کو احساس نہیں ہوتا۔۔۔؟ سب خود غرض ہیں۔۔ سب ظالم اور بے حس ہیں۔ مگر یہ خیال تو کئی مرتبہ آپ کو بھی آچکا ہوگا۔۔ کئی مرتبہ آپ خود بھی ایسی باتیں کرتے ہیں کہ دنیا میں کسی کو کسی کا خیال نہیں۔اور اس خیال کی وجہ سے آپ کو اپنے آپ سے، لوگوں سے دنیا سے بے زاری محسوس ہوئی ہوگی۔۔۔ مایوسی اور بڑھ گئی ہوگی۔۔ تلخ سا غصہ رگ و پے میں بھر گیا ہوگا۔۔ اور سوچا ہوگا ۔۔۔ کہ Let’s just end it all in the most painful and aggressive way….ہے نا؟ آپ کو بھی یہ پتہ ہے نا؟

تو جب آپ کو یہ علم ہے ۔۔۔ اور جب اس قسم کی بات سے آپ کی خود سے، اور دنیا سے نفرت میں کمی نہیں آئے گی تو میں ایسی بات کیوں کہوں گی؟آپ یہاں سامنے بیٹھ جائیے اس بنچ پر اور میں آپ کے سامنے چٹان پر بیٹھتی ہوں۔۔ میری بات کو ذرا غور سے سنیے گا۔۔۔ خود کشی کرکے مرنے والوں یا خود کشی کی کوشش کرنے والوں کے پیاروں سے میری ملاقات ہوتی رہی ہے۔۔۔ آپ کو بتاوں کہ آپ کا پہلا خیال درست ہے۔۔۔ جی ہاں ۔۔ آنکھیں آنسوؤں سے بھی بھرجاتی ہیں۔۔دل میں ناختم ہونے والی خلش بھی پیدا ہوتی ہے۔۔۔مگر ایک بات کہوں ۔۔۔؟آپ یہ قدم اٹھا کر اپنے پیاروں کو ایسا زخم لگائیں گے ۔۔۔ جس کا درد انہیں شدید ترین زلزلوں میں مبتلا کردے گا۔ انہیں ایسا صدمہ پہنچائے گا کہ انہیں اپنے جذبات سمجھنا مشکل ہوگا۔۔۔۔ آپ نے ان کے سپاٹ اور نفرت بھرے چہرے نہیں دیکھے۔۔۔ میں نے دیکھے ہیں۔ میں اس ٹین ایج لڑکی سے ملی تھی۔۔۔ جو اپنے ہاتھوں پر زخم ڈال کر آتی ہے۔۔۔ اس کے باپ نے خود کشی کی کوشش کی تھی۔۔۔ اور اب وہ اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتی۔۔ نہ اس سے کوئی رابطہ رکھنا چاہتی ہے ۔ اٹھاون برس کی ایک عورت دو برس سے شدید ڈیپریشن میں مبتلا تھی ۔ پتھر جیسے چہرے پر بھی ناک پھلا کر سختی سے کہتے۔۔ آنسو ڈھلکے آئے تھے۔۔ “میں اپنے شوہر کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔ اس نے مجھے دھوکہ دیا۔۔”

اگر کسی کی اولاد نے خود کشی کر ڈالی۔۔۔ تو ماں کا اپنی ذات سے اعتبار ختم ہوجاتا ہے۔۔ جی ہاں ۔۔۔ پینتالیس سالہ عورت شاک تھیراپی کے لیے آرہی تھی۔۔۔ اس کے جوان بیٹے نے خود کشی کی تھی ۔۔ اس کی اپنی وجوہات تھیں۔۔ مگر یہ ماں بے چاری پچھتاوے کی آگ میں جل کر راکھ ہوئی جاتی تھی۔۔ کسی زندہ لاش کو دیکھنا ہو تو اسے دیکھ لیجیے ۔۔پچاس برس کے نیلی آنکھوں والے گورے کو ۔۔۔ شدید ڈیپریشن میں سایکوسس لاحق ہوگیا۔ ہنستا کماتا کھاتا بال بچوں والا آدمی تھا۔۔ آفس میں کسی کولیگ کی موت واقع ہوگئی۔۔ کہا گیا اس نے خود کشی کر لی تھی۔۔۔ یہ شخص دیوانہ ہوگیا ۔۔ اسپتال میں قیام کے دوران علم ہوا کہ لڑکپن میں اس کی اپنی ماں نے خود کشی کی تھی اور اس نے اپنے بھائی کے ساتھ اپنی ماں کو لٹکا ہوا دیکھا تھا۔۔ اتنے عرصے میں سمجھتا تھا کہ اس نے یہ صدمہ سہہ لیا ہے۔۔ مگر پچاس برس کی عمر میں ۔۔ خوف، جنون ، شک شدید ڈیپریشن میں لپٹا مہینوں کے لیے اسپتال میں داخل ہوا۔ایک اور لمبے چوڑے مرد نے خود کشی کی کوشش کی تو اس کی بیوی نے اسے ساتھ رکھنے سے انکار کردیا۔۔۔ ہم اسے بہت سخت عورت سمجھے تھے۔۔۔ مگر اس سے ملاقات ہوئی تو اس کے مضبوط وجود سے بھرائی ہوئی آواز برآمد ہوئی۔۔۔”میں اپنے ایک ڈس ایبل بچے اور کینسر کی آخری اسٹیج سے لڑتے اپنے باپ کی بیک وقت نگہداشت کررہی ہوں۔۔۔ میں یہ سب نہیں سہہ سکتی۔۔ اگر اب اس نے پھر یہ حرکت کی۔۔ تو میں پاگل ہوجاوں گی۔۔ میرا اپنا بوجھ کم نہیں ہے۔ میں مزید نہیں سہہ سکتی۔ ”

اگر کسی ماں نے ایسا کیا۔۔۔ تو بچوں کو زمانے کے رحم و کرم پر ۔۔ خود اپنے اختیار سے کس کس درندے کے حوالے کرکے چلے جانے پر۔۔۔ اس کے بچے کن کن احساسات سے گذریں گے؟ ذرا سوچیے۔۔۔ ایک پینتیس سالہ ایتھلیٹ عورت سے اس کا گیارہ برس کا بچہ اسپتال میں ملنے آتا تھا۔۔۔ اس لیے کہ ماں نے خود کشی کی کوشش کی تھی ۔۔۔ آپ بچے کے احساسات کا اندازہ لگا سکتے ہیں؟ اس کی دہشت کا اور اس ٹراما کا جو اس کے معصوم ذہن کو پہنچا۔۔وسیع و عریض فارم اور کئی بیلوں کے مالک کو اسپتال میں داخل کیا گیا۔۔۔ مستقل شراب پی کر خود کشی کی کوشش کی تھی۔۔ شراب مایوسی اور تنہائی اور پچھتاوے کو بہلانے کے لیے پی رہا تھا۔۔ مگر کارگر نہ ہوئی۔۔ جب جب اس سے گفتگو کی۔۔ یہی دہراتا رہا کہ تین برس پہلے میرے بھائی نے خود کشی کرلی تھی۔۔ البتہ خود اپنی حالت بتانے سے گریز کرتا تھا۔خود کشی کر کے جانے والوں کے پیاروں کو صرف اس لیے اذیت کا سامنا نہیں ہوتا کہ معاشرہ ان کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کرتا ہے ۔۔ بلکہ خود کشی کرنے والا بھی انہیں شدید ترین صدمے سے دوچار کرتا ہے۔ موت مذاق نہیں ہوتی۔۔۔ یہ ایک ایسا صدمہ ہے۔۔۔ جو انسان کو اندر سے ہلا مارتا ہے۔۔۔ بے یقینی، پچھتاوا، شاک، بے اعتباری، شدید ترین روحانی کرب کبھی غصے اور کبھی شدید ترین مایوسی میں مبتلا کردیتا ہے۔۔

جس آنسو ، اور دل کی جس تڑپ کو آپ گلیمرائز کررہے ہیں ۔۔ اس کی تہوں میں دہشت، تلخی، نفرت، بے اعتباری اور self hatred چھپی ہوگی۔۔ اور یہ کرب ان کے حصے میں آئے گا ۔۔ جن سے آپ اور جو آپ سے پیار کرتے ہیں۔۔ باقی دنیا۔۔ کے پاس یاد کرنے کو اور بہت سی چیزیں ہیں۔۔ مدد جلدی لیجیے۔۔ اپنے اندر کی منفی سوچ اور تلخی پر اعتبار نہ کیجیے۔۔ یہ آپ کی دوست اور ہمدرد نہیں ہے۔۔ شیطان کا وسوسہ ہےجو آپ کو جہنم میں دھکیل کر پیچھے سے ہاتھ جھاڑ لے گا۔۔۔ کہ میں نے کب کہا۔۔ یہ تو تم نے خود کیا تھا۔۔۔شدید ڈیپریشن میں منفی سوچ کی مثلث بن جاتی ہے۔1. اپنے آپ سے نفرت۔۔ پچھتاوا، احساس کمتری، ناامیدی2. لوگوں سے غیر حقیقی اور غیر ضروری توقعات۔۔ اور نہ پوری ہونے پر لوگون سے شکوے، غصہ اور مایوسی3. دنیا سے اور اپنے مستقبل سے مایوسی -جلد مدد ڈھونڈیے۔ یوں سوشل میڈیا کے ان باکسز میں نہ دستک دیتے رہ جائیں۔۔ نہ ہی ادھر ادھر گروپوں میں لکھ کر سمجھیں کہ آپ کو ٹوٹکے مل جائیں گے۔یہ آپ کی جسمانی، روحانی اور نفسیاتی زندگی کا سوال ہے۔۔۔ اس کا زندگی کا جس سے کئی اور زندگیاں جڑی ہیں۔۔ البتہ یہ آپ کو ابھی سمجھ نہیں آئے گا۔۔ کیونکہ آپ ڈیرپشن کے چنگل میں گرفتار ہیں۔ پوری سنجیدگی اور ذمہ داری سے علاج کروائیے۔۔
کسی ماہر نفسیات سائکائٹرسٹ یا سایکولوجسٹ سے ملیے۔

مثبت سرگرمیاں فائدہ دیتی ہیں وہ بھی اختیار کیجے مگر کسی مستند معالج سے ملیے۔۔۔لاکھوں کروڑوں کا گھر یا گاڑی فیس بک ان باکس میں کھڑکی کھٹکٹا کر یا گروپوں میں پوچھ کر نہیں لیتے۔۔ تو کیا آپ اور آپ سے متصل پیاروں کہ زندگی اتنی ارزاں ہے کہ ان سستے چلتے پھرتے طریقوں سے اسے بہلا لیا جائے؟خود کشی حل نہیں ہے۔۔۔ دھوکہ ہے۔۔اور اللہ کریم کی دامن رحمت میں آپکے لیے بہت جگہ ہے۔۔ اس کا دروازہ کھلا ہے۔ اسے خود سے آگے بڑھ کر بند نہ کیجیے۔۔ یہ شیطان کا وسوسہ ہے جو آپ کا کھلا دشمن ہے۔