Site icon نوک قلم

جمعیت۔۔۔ایک احساس ایک محبت – خولہ زبیری

مجھ سے کہا گیا کہ یوم تاسیس کے حوالے سے تحریر لکھیں۔۔ پہلے تو سمجھ نہیں آیا کہ لفظوں میں اظہار کیسے کروں؟ لیکن کرنا تو ہے ہی تو شروع کرنے بیٹھی۔۔۔مجھے جمعیت میں بہت زیادہ عرصہ تو نہیں ہوا لیکن ان دو سالوں کی یادیں بھی اتنی وسیع ہیں کہ ان کو لفظوں میں پرونا تھوڑا مشکل ہے۔۔ وہ ایک زندگی کا بہت خوبصورت دن تھا جب میں جمعیت میں شامل ہوئی۔۔

کرونا نے ہر چیز کو اپنے حصار میں لیا ہوا تھا جس کی وجہ سے ملاقاتیں نہیں ہو سکتی تھیں۔ آن لائن کاموں کا زمانہ عروج پر تھا جب میں نے جمعیت کی باجی کو اللہ کے پیارے لوگوں میں مجھے بھی شامل کرنے کی درخواست کی تھی۔۔ وہ ردعمل اور وہ لمحے اتنی خاص ہیں کہ پتہ نہیں کیوں ان باتوں کے سکرین شاٹس آج بھی میرے پاس رکھے ہیں۔۔۔ بس پھر کیا تھا بس شامل ہونے کی دیر تھی اور جمعیت کا ہر شخص مجھے ایسا لگتا کہ سوچنے پر مجبور ہوجاتی کہ اللہ نے کیا ایسے بھی لوگ بنائے ہیں؟ آپ شاید اسے مبالغہ آرائی سمجھیں لیکن یہ مبالغہ ہرگز نہیں۔۔۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو دل سے نکل رہے ہیں اور دل سے نکلے ہوئے الفاظ کبھی مبالغہ نہیں ہوا کرتے۔۔۔جمعیت میں شامل ہونے سے حلقہ کی نظامت تک کا سفر میرے لئے بہت خاصیت رکھتا ہے۔۔نامحسوس طریقے سے میرے اندر جو تبدیلیاں پیدا ہوئیں وہ بیان نہیں کی جاسکتیں۔۔۔ جمیت کی خاص بات یہ ہے کہ کوئی بھی صاف الفاظ میں آپ کی اصلاح نہیں کرتا کوئی آپ کو یہ نہیں بولتا کہ آپ غلط ہیں لیکن وہ ماحول اور وہ لوگ ایسے ہیں کہ خود بخود ان سے محبت ہو جاتی ہے۔۔۔ میں نہیں جانتی تھی کہ اللہ کے لیے اللہ کے لوگوں سے محبت کرنا کیسا ہوتا ہے یہ مجھے جمعیت نے سکھایا۔۔۔ گھر بیٹھے بیٹھے ان لوگوں کا یاد آنا اور ان سے ملنے کی خواہش اپنے دل میں رکھنا جن سے آپ کا بظاہر کوئی گہرا تعلق نہیں ہوتا لیکن ہاں وہ تعلق جو اللہ خود بناتا ہے۔۔۔

اپنے نیک بندوں سے محبت کا تعلق ان سے اپنائیت کا تعلق۔۔۔ ان لوگوں سے روز روز ملاقات نہیں ہوتی بلکہ کبھی تو مہینوں مہینوں نہیں ہوتی لیکن وہ بھلائے نہیں بھولتے۔۔ آخر کیوں؟ کیونکہ وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں اور پھر اللہ ان کو ایسے لوگ دیتا ہے جو ان سے اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں۔۔۔ کتنا پیارا تعلق ہے ناں؟ اللہ،محبت اور انسان۔۔۔۔یہ تعلق میں نے جمعیت سے سیکھا۔۔ آپ ایسا ہرگز نہیں سمجھیں کہ میں جمعیت میں ہونے کی وجہ سے ایسے الفاظ کہہ رہی ہوں۔۔نہیں ایسا نہیں ہے۔۔ آپ ان لوگوں کے بیچ جا کے تو دیکھیں! پہلے مجھے لگتا تھا یہ تو اتنے سنجیدہ مزاج کے لوگ ہوتے ہیں ان کے ساتھ میں کیسے رہوں گی؟ ہاہاہا۔۔۔ معلوم نہیں کتنا سوچتی تھی مگر یقین کریں وہ لوگ جو سنجیدہ مزاج اور خاموش طبیعت نظر آتے ہیں ان سے زیادہ گھلنے ملنے والے لوگ میں نے آج تک نہیں دیکھے اور مجھے نہیں لگتا کہ یہ عام لوگ ہیں۔۔۔۔ آپ خود سوچیں کہ وہ لوگ جو اور لوگوں کو زندگی کے ہر موڑ پہ مدد دیں ان کو چھوٹی سی چھوٹی باتیں سمجھائیں اور ان کو زبردستی گھسیٹ کے اللہ کے دروازے کی طرف لائیں اس کے باوجود کہ ان کو اس دنیا میں اس کا معاوضہ تو نہیں ملتا ناں!! تو یہ لوگ عام ہو سکتے ہیں؟؟ ہر گز نہیں یہ تو خاص لوگ ہیں۔۔۔ اللہ کے خاص۔۔۔! آپ یقین کریں ان ورک شاپس ان پروگرامز ان نشستوں کا ماحول ایسا ہوتا ہے کہ وہاں جتنا بھی زنگ آلود دل جائے وہ صاف شفاف بن کے ہی نکلے گا۔۔

وہ ترانے اور وہ باتیں دل میں ایسا جوش پیدا کرتی ہیں کہ پھر معلوم نہیں وہاں سے واپس آنے کا دل کیوں نہیں چاہتا۔۔ میں نے بہت سے لوگوں سے سنا کہ “آپ اپنی جمیعت اپنے پاس رکھیں” میری بہنوں اتنی خاص قیمتی چیز جس سے یقیناً اللہ بھی بے پناہ محبت کرتا ہے وہ اپنے پاس تو نہیں رکھی جاتی ناں! وہ تو دوسروں میں کھلے دل سے تقسیم کی جاتی ہے تاکہ لوگ اس سے مستفید ہوں اور اللہ کی محبوب بندیوں کی تعداد بڑھتی جائے اور بس بڑھتی جائے۔۔۔ مجھے نہیں پتا کہ میں اللہ کی محبوب بندی ہوں یا نہیں لیکن اللہ سے امید یہ ہے کہ ان سیپوں میں قید خوبصورت موتیوں کی صحبت سے ہم سب کو بھی اپنا نیک اور محبوب بنا لے۔۔۔ جمعیت۔۔۔ یہ الفاظ بھی مجھے بہت پیارا لگتا ہے دیکھیں ناں یہ ظاہر کرتا ہے ہماری پہچان کو کہ یہ وہ لڑی ہے جس کے اندر موتیوں کی ایک قطار لگی ہے چاہے وہ موتی ظاہری طور پر سیاہ ہو یا سفید اپنے اندر ایک صاف اور حسین روح لے کے گھومتا ہے جس نے سب کو رشک آئے۔۔۔ اللہ اس لڑی کی اور اس میں پروئے ہوئے حسین موتیوں کی حفاظت کرے اور ہمیشہ اسے اس کے مقصد پر قائم رکھے۔۔اس لڑی اور اس کے موتیوں کو ہر آنکھ اور ہر نقصان سے محفوظ رکھے ۔۔۔آمین۔۔

اگر مجھ سے محبت ہے میرا یہ کام کر دینا
کسی صورت بھی دنیا میں محبت عام کر دینا
میں اسلامی جمعیت ہوں میرا پیغام اتنا ہے
قرآن و حرمت آقا پر سب قربان کر دینا

تم بھی افکار مودودی تم ہی اقبال کے شاہین
خدا کی رحمتیں تم پر نہ آئے غم کی پرچھائی
اسی رستے پہ تم اپنی صبح و شام کر دینا
کسی صورت بھی دنیا میں محبت عام کر دینا

میں اسلامی جمعیت ہوں میرا پیغام اتنا ہے
قرآن و حرمت آقا پہ سب قربان کر دینا
تم ہی امید روشن ہو محبان وطن تم ہو
تمہیں مٹی کی خوشبو ہو بہار انجمن تم ہو

چراغ علم سے روشن ہر اک تم کام کر دینا
کسی صورت بھی دنیا میں محبت عام کر دینا
میں اسلامی جمعیت ہوئی میرا پیغام اتنا ہے
کسی صورت بھی دنیا میں محبت عام کر دینا
محبت عام کر دینا۔۔۔۔

Exit mobile version