Home » والدین کا صبر- ایمن طارق
بلاگز

والدین کا صبر- ایمن طارق

اولاد میں سے کچھ حد سے زیادہ ستانے والے اور صبر کا امتحان لینے والے ہوتے ہیں ۔ والدین کے صبر و برداشت کا پیمانہ لبریز ہو دل دُکھی ہو تو وہ اُسی بچے کے سدھار اور اس کے اچھے ہوجانے کی دعا کرتے نہیں تھکتے ۔ بہت سے والدین جس بچے سے زیادہ پریشان ہوں اُسی کی فکر میں باقی کو فراموش کردیتے ہیں ۔

یہاں دو باتیں ممکن ہیں اور وہ یہ کہ ہوسکتا ہے بچے کی پرسنیلیٹی ٹائپ کو سمجھے بغیر انہوں نے اس کی تنگ کرنے والی عادات کو ضد بنالیا ہو کہ سدھار کے دم لینا ہے اور یا واقعی بچے کو اللہ سبحان و تعالی نے آزمائش بناکر بھیجا ہو ۔ دونوں ہی صورت والدین کی دعاوں کا مرکز بننے والے یہ بچے عموماً کسی عمر میں ایسا بدلتے اور سدھرتے ہیں کہ یقین نہیں آتا وہی ہیں ۔ یہاں بھی دونوں ہی باتیں ہیں کہ اُن کے لیے وافر مقدار میں کی گئی دعائیں اُن کی قسمت بدل دیتی ہیں اور وہ سُکھ چین اور خوشیاں پاتے ہیں اور دوسروں کے لیے باعث سکون بنتے ہیں دوسرا اُن کو والدین کی طرف سے ملنے والے لیکچر اور نصیحتیں اور اُن کی غصیلی اور شکایت بھری نظریں بھی ایسی سدھر جانے اور کچھ کرکے دکھانے کی ضد میں مبتلا کردیتی ہیں ۔ اسی درمیان میں بحیثیت والدین ہم اپنے دوسرے بچوں کو بھول جاتے ہیں اُن کی خدمت اُن کی اچھائی اور اُن کے مستقبل کے لیے دعائیں ویسی شدت نہیں رکھتیں کیونکہ ہم اُن کی طرف سے متفکر نہیں ہوتے اور مطمئن ہوتے ہیں اور وہ خدمت گزار بچے اپنی زندگی میں ہماری دعاوں سے ویسے مالا مال نہیں ہوتے ۔

لیکن اولاد کے لیے دعاوں میں جب گڑگڑائیں تو سب کے لیے ہر ہر بچے کے لیے دل بھر کر مانگیں چاہے وہ ستانے اور رُلانے والا ہو یا دامن پکڑ کر پیچھے پیچھے پھرنے والا ۔ جھولی پھیلا کر مانگیں کیونکہ والدین کی دعا دنیا میں جنت دکھا دیتی ہے ، آزمائشوں سے بچا لیتی ہے اور آسانیوں کے راستے کھلتے جاتے ہیں ۔کیا پتا ہماری کتنی زندگی ہے اور ہمارے بعد ہماری دعائیں ہمارے بچوں کے لیے آسانیوں دروازے کھولنے والی ہوں ۔

۔۔