Home » سپیشل بچے اور والدین – نگہت حسین
بلاگز

سپیشل بچے اور والدین – نگہت حسین

ڈاکٹر ناصر سلمان اسپیشل ایجوکیشن کے ایک شارٹ کورس میں میرے استاد رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ ۔۔۔۔۔۔ہم تو ایک ایسے معاشرے میں ہیں جہاں صحت مند ہنستے کھیلتے سوچتے سمجھتے افراد کو ذہنی نفسیاتی اور جسمانی عارضوں میں مبتلا کر کے معذور بنانے میں کوئی کسر نہیں رکھی جاتی چہ چائیکہ کسی اسپیشل نیڈز بچے کے لئے آپ سہولیات ، رویوں اور آسانیوں کا مطالبہ کریں ۔۔۔۔۔۔۔

عام سمجھدار افراد بھی اکثر اسپیشل نیڈز بچوں کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ ایسے بچوں پر خرچہ کرنا ؟ اتنے مہنگے ڈاکٹر کو دکھانا اس کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ان کو پڑا رہنے دیں ۔۔۔کوئی تو یہ بھی مشورہ دیتے کہ کہیں کسی ادارے میں جمع کروادیں ۔۔۔۔۔جہاں وہ دن رات دیکھ لیں ۔۔ ناسمجھی ، لاعلمی ۔۔۔حد درجہ بڑھی ہوئی بے حسی ۔۔۔۔کیا کہیں ۔۔ ایسی باتوں سے پہلے بس یہ سمجھ لیں کہ ایسے تمام بچوں کو ری ہیب ہیلپ دینا ان کی زندگی کی ضروریات میں سے ہے ۔اگر آپ کسی کونے میں پھینک دیں گے تو اس کی وجہ سے وہ بچہ مزید تکالیف ، صحت کے مسائل اور زندگی کی مشکلات کا شکار ہوگا ۔۔۔۔ری ہیب سینڑز کے ذریعے مدد فراہم کرنے سے بچے کے اندر بہتری آئی گی آپ بحیثیت والدین خود بھی بہتر محسوس کریں گے ۔فزیو تھراپی ، ری ہیب سینٹرز کو جوائن کرنا ان بچوں کی بنیادی ضرورت ہے ۔جو کہ بچے کے جسمانی پوسچر ، ہڈیوں ، مسلز اور دوسری بہت سی چیزوں کو درست رکھنے میں مدد دیں گی جو کہ حرکت نہ کرنے کی وجہ سے اپنی ساخت میں خراب ہورہی ہوتی ہیں اور بچہ مشکلات کا شکار ہوتا ہے یعنی زندگی اور مشکل ۔۔۔یہ خرچہ اس بچے کی زندگی ہے اس کی آسانی ہے اس کی خدمت ہے اس کوبوجھ نہ سمجھیں۔

ظاہر ہے کہ ان تمام کاموں میں خرچہ بھی ہوتا ہے اور کرنا بھی پڑے گا کہ یہ زمہ داری بحیثیت والدین آپ کے اوپر اللہ تعالی نے ڈالی بھی ہے ۔اس کو کسی مجبوری کی بغیر لاپرواہی کی وجہ سے ادا نہیں کریں گے تو آپ بحیثیت والدین جواب دہ بھی ہوں گے ۔ہر فرد کا رزق اللہ تعالی کے ذمے ہے ۔۔۔اس کا حصہ لازمی دنیا میں اتر رہا ہوگا ۔۔۔۔ہاں یہ بھی ممکن ہے کہ اس بچے کا حصہ کسی رشتے دار جاننے والے یا کسی اور کی جیب میں اللہ تعالی نے رکھا ہو جو دل کی تنگی کا شکار ہوکر خرچہ بچائے اور والدین کو سو سو طعنے دے ۔اس لئے والدین اگر لوگوں کی باتیں سنیں گے تو ان کا بس نہ چلے کہیں کہ ایسے بچوں کو بھیک مانگنے بٹھا دو کہ دو چار سکے ہی کما لے ۔ ان بچوں کے والدین کو ترس والی ہمدردی سے بھی بچنا چاہیے اور ظلم والے مشوروں سے بھی ۔۔۔ مجھے احساس ہے کہ اگر ان والدین کے احساسات پوچھیں جائیں تو ایک کتاب مرتب ہوجایے جس کے ہر صفحے پر معاشرے کی تلخی کا زہر گھلا ہوگا ۔احمد کے لئے آج کل ایک فزیو تھراپسٹ سے روزانہ ملاقات ہوتی ہے ۔۔۔۔۔بہت سے موضوعات پر بات ہوتی رہتی ہے ۔۔۔میں نے تھراپسٹ سے پوچھا کہ کیا کوئی ایسا بہت ہی فعال فورم ہے جہاں اسپیشل نیڈز بچوں کی ماؤں کو ایک دوسرے سے ملنے کا موقع دیا جائے تاکہ وہ اپنے مینٹل اسٹریس کو ایمویشنل اتار چڑھاؤ کو ایک دوسرے سے شئیر کر سکتی ہوں ۔۔۔۔؟

اس کا جواب اس کے پاس کوئی خاص نہ تھا ۔۔ ۔۔۔۔پاکستان سے باہر اس طرح کے فورمز ان کے کام ان کی گیدرنگز سب ایسی ہیں کہ ایک فرد ایمویشنلی دباؤ کی وجہ سے ڈپریشن میں جانے کے بجائے اپنا حوصلہ ہمت اور جذبہ بحال کرتا ہے ۔لیکن ہم بنیادی طور پر حوصلہ شکن معاشرے میں رہتے ہیں ۔۔ ۔۔۔حوصلہ شکنی کی تمام تدابیر تو اختیار کر سکتے ہیں لیکن حوصلہ قائم رکھنے ہمت سلامت رکھنے والے بہت ہی کم ہیں ۔۔۔۔۔شکر یہ ہے کہ الحمد للہ موجود ہیں ۔ یہی حال ان بچوں کے اسپیشل چیزوں ک بھی ہے ایسے فورمز ہوں ، افراد رابطے میں ہوں خیراتی اداروں کے علاؤہ تو بہت سی مہنگی چیزیں بآسانی ایک دوسرے کو دے کر ضروریات پوری ہوجاییں بجائے اس کے کہ ہر دفعہ نئے سرے سے خرچہ ہو ۔ بہرحال کرنے کے کام بہت ہیں ۔۔۔۔۔کچھ نہیں تو اپنے رویوں کو ہی درست کر لیں ججمنٹل باتیں ، تبصرے اور زبان کے شر سے محفوظ کر کے ہی نیکیاں کما لیں ۔۔۔۔۔زیادہ محنت نہی۔ کرنی پڑتی صرف آپ کے چپ رہنے سے بہت سے لوگ سکون میں آجائیں گے ۔

Add Comment

Click here to post a comment

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。