Home » قدر – زبیر منصوری
بلاگز

قدر – زبیر منصوری

اونچے گھنے درختوں کے بیچوں بیچ بہتی نہر لاہور کے حسن کا دلآویزاستعارہ ہے! میں ٹھوکر نیازسے چلتے ہوئے دور بارڈر کے قریب تک گیا،یہ خاموش بہتی کینال واقعی مسحور کن احساس دیتی ہے اسّی کے عشرے میں پہلی بار لاہور آیا تو اس کی محبت میں مبتلا ہوا تھا اور اب اس طویل تعلق کو دہائیاں گزر گئیں ۔۔

مجھے یاد ہےجب جامعہ پنجاب کے کچھ ساتھیوں کے ساتھ ایک گرم دوپہر کو پہلی باراس کے سرد پانی میں اترا تھا تو جھرجھری سی محسوس ہوئی تھی یہ بھلے دن تھے جب اس کا پانی صا ف اور گندگی سے پاک ہوتا تھا آج پھر نشتر کے ساتھ ائیرپورٹ کے لئے گزرہوا تو بہت دیر اطراف سے بے نیاز ہو کر اس کی خاموشی اور اپنے من میں ڈوب کر بہتے بہاو میں کھویا رہا گزرتی گاڑیوں کی روشنیاں اس کے پانی پر پڑ کر اسے اور خوبصورت بنا رہی تھین ٹریفک کا شو ر اور رش مگر وہ سب سے سے بے نیاز اپنی موج میں اپنی منزل کی طرف بڑھتی کھیتیوں کو سیراب کرنے اور زمینوں کو لہلہاتے کھیتوں میں بدلنے کے مشن پر روان دوان ہر دم جواں محو سفر۔۔۔ پھر مجھے یاد آیا میں ایسے کچھ لوگوں کو بھی جانتا ہوں وہ بھی اس خوبصورت کینال کی طرح اردگرد کی چکا چوند سے لاتعلق ہوئے خود کو مسلسل بہتے اور اپنے بہاو کی قوت سے بہت کچھ کو ساتھ بہاتے اپنے جلو میں لئیے چلتے چلے جاتے ہیں

کبھی دھیمے تو کبھی تیز تُرک گامزن ،ٹھنڈے میٹھے سایہ دار درختوں جیسے لوگ جن کی منزل دلوں کی زمینوں کو سیراب کرنا طمانیت اور عافیت کی طرف سفر مسلسل جاری رکھنا اور اپنی بساط بھرمحو جستجو رہناہے کینال اور یہ لوگ کتنے ملتے جُلتے ہیں ناں ؟ جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے۔۔۔! کوئی ہے آپ کے اردگرد؟ قدر کیجئیے گا۔۔۔!

Add Comment

Click here to post a comment