Home » یہ جو ‘پَڑ ‘ جانے والی جراتِ رندانہ ہے – ہمایوں تارڑ
بلاگز

یہ جو ‘پَڑ ‘ جانے والی جراتِ رندانہ ہے – ہمایوں تارڑ

کل شام ایک منظر دیکھا، اور افریقہ کے جنگلات تو ایسے مناظر سے لدے پڑے ہیں۔ لمبے بالوں والا ببّر شیر ایک جنگلی بھینس کی گردن میں دانت گاڑے، اُسے دبوچے بیٹھا ہے۔ دائیں بائیں چند دیگر بھینسے کھڑے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں۔ اور سامنے ۔۔۔؟ سامنے کوئی دو سو بھینسوں کا قطار نما ہجوم لگا ہے۔

اِن میں سے کسی کے پاس شیر کا نوکیلے ناخنوں والا پنجہ، خونخوار دانت، اور پھرتی نہیں۔ یہ ‘ٹیکنالوجی’ اُسی شیر کے پاس ہے، پَلس ایک خاص مائنڈ سیٹ اور کلچر کہ وہ جس خاندانِ عالیہ سے رکھتا ہے، اُس کے افراد ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔ یہ اُن کا حق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکیلے شیر کو سینکڑوں کی تعداد میں اکٹھے ہوئے بھینسوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ وہ جانتا ہے یہ ‘لوگ’ فقط ماتم کرنے اور اپنے ایک ساتھی کو رخصت ہوتا دیکھنے اکٹھے ہوئے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں مجمع چھٹ جائے گا۔۔۔ پاس کھڑے بھینسے گاہے قدم بڑھا کر شیر اور شکار کے قریب آتے ہیں، پھر سٹپٹا کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔۔۔ چند منٹ اسی طور گذر جانتے ہیں۔ تب ایک اَتھرا سا بھینسا ہجوم اندر سے نکل کر دیوانہ وار پاس آتا ہے، اپنا دیوہیکل سر شیر کی کمر پر مارتا ہے۔ شیر ہڑ بڑا کر شکار بھینس کی گردن چھوڑ دیتا، اور خوب پھرتی سے ریٹریٹ کرتا ہے۔ پھر یکایک اُسے خیال آتا ہے کہ نہیں ۔۔۔ میں تو ببر شیر ہوں! وہ پلٹ کر شکار بھینس کو از سرِ نو دبوچ لینا چاہتا ہے مگر اب وہی اَتھرا بھینسا راستے کی دیوار ہے۔ شیر پاس آتا ہے اور جلد ہی وہ جرات مند “ارطغرل” اُسے سینگوں پر اٹھا کر دُور اچھال دیتا ہے۔ غیض و غضب سے بھرا یہ ہِیرو اِسی پر بس نہیں کرتا، بلکہ طوفانی رفتار سے شیر کی طرف لپکتا ہے۔ اِس پر ببر شیر بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔

ویڈیو پر آئے تبصروں میں ایک تبصرے نے خوب توجہ سمیٹی۔ اِن صاحب کا تجزیہ مختلف اور زیادہ اپِیلنگ تھا۔ کہا، “اگر آپ بغور مشاہدہ کریں تو یہ واقعہ ‘اتفاق یا اتحاد میں برکت ہے’ کا میسیج نہیں دے رہا۔ بلکہ

It’s about the courage of ONE buffalo that moved forward to attack the lion. Until then the lion had no fear even though surrounded by many buffalos. So the message is ‘Take the initiative, move forward and stand out of crowds.

ایک اکیلے بھینسے کی جرات دکھائی گئی ہے جس نے آگے بڑھ کر شیر پر حملہ کیا۔ تب تک شیر کے دل میں کوئی خوف نہ تھا اگرچہ بہت سے بھینسے اُسے گھیرے ہوئے تھے ۔۔۔” اِن سطور کا تِیھیسس پوائنٹ یہ ہے کہ مجبور تماشائی والے سٹیٹس سے نکل کر چارج لینا ہو گا۔ اپنے کمفرٹ زون کو ترک کرنا پڑتا ہے۔ ورنہ نتیجہ ہمارے سامنے ہے: سارے مسائل جوں کے توں وہِیں کھڑے ہیں۔ مل جل کر کمیونٹی ورک کرنا ہو گا! ایسا کمیونٹی ورک آغاز کرنے کو کوئی بندہ، کوئی تنظیم اینیشیئٹو لے۔ بارش کا پہلا قطرہ بنے۔ پچھلے 20 برسوں کا حساب کروں تو پانچ لاکھ ٹاک شوز، 25 لاکھ کالمز اور ادارئیے اِس سماج کا بال بھی بیکا نہ کر سکے۔ ہمارے شہروں، قصبوں اور دیہات میں ظلم ہزار شکلوں میں موجود ہے۔کسی جماعت اسلامی اور فلاں فلاں میں دم نہیں کہ ایشو کو ایشو بنائے، کمیونٹی افراد کو ساتھ لے کر اِمپیکٹ کرئیٹ کرے۔ جتنا کچھ ہو رہا، افسوسناک حد تک کم ہے، اور قدرے نمائشی سا دِکھتا ہے۔

ہر شہر میں تین چار سو افراد پر مشتمل ایک مضبوط سِول سوسائٹی ہونی چاہئیے ـــ جو اداروں کے سر پر تھریٹ بنی کھڑی ہو۔ جو آن گراؤنڈ، آن لائن ۔۔۔ ہر طرح کے پلیٹ فارم سے بھاری بھرکم دباؤ بھی ڈالے، اور ظلم کا شکار افراد کی عملی معاونت بھی کرے ۔۔۔۔۔ اور انتخابات کے ہنگام سیاسی جماعتوں سے اُن کی کارکردگی کا حساب بھی مانگے ۔۔۔ کیا کہیں گے آپ؟