Home » میرے پاس کیا ہے! ڈاکٹر فرحت حبیب
بلاگز

میرے پاس کیا ہے! ڈاکٹر فرحت حبیب

اکیسویں صدی کا یہ بےحیائی اور کلچرل زوال کا طوفان ہم سے ہمارا اسلامی معاشرتی نظام چھین لینا چاہتا ہے جو اس دنیا میں ڈیڑھ ارب مسلم امہ کے ما تھے کا وہ جھومر ہے اور وہ روشن مینار ہے جسکی روشنی گمراہی کے سمندر میں منزل کی رہنمائی کرتی رہتی ہے. اور ملاح بھٹکنے سے بچ جا تا ہے مغرب کی سحر انگیز ترقی ان کے اخلاقی اقدار کی تباہی کا باعث بن گئی ہے وہاں فری سیکس کے تصور نے لڑکیوں سے انکی معصومیت چھین لی ہے،

عورت کو پھر سے اس بازار میں لا بٹھایا ہے جہاں عورت کو بھیڑ بکری سمجھا جاتا تھا چودہ سو سال پہلے سرور دو کائنات حضرت محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اٹھا کر عزت و احترام کے اعلی ترین مرتبہ پر پہنچایا… کیا آج کی نسل اس نام نہاد ترقی کے لئے پھر سے اسی جہالت کے عمیق گڑھوں میں گر گئی ہے جہاں سے سسکتی انسانیت کو ہمارے نبی کریم نے نکالا تھا آئیے ہم سب مل کر ترقی اور آزادی کی اس جھوٹی چمک کا پردہ فاش کریں اور اس کے پیچھے چھپے مغرب کے اس بدنما چہرے کو بے نقاب کر یں جو ہماری نسلوں کو فری نائٹ پیکجز اور آزادئ نسواں کے جھوٹے نعرے دے کر اسی دلدل میں اتارنا چاہتا ہے جہاں سے وہ سر توڑ کوششوں کے باوجود نہیں نکل پا رہا. دجالی میڈیا کی بدولت ہمارے معاشرے کی نوجوان نسل پہلے ہی اپنی اسلامی اقدار سے دور ہو چکی ہے اس پر طرہ یہ کہ باقی کثر ہمارے میڈیا نے پوری کر دی ہے وہ دن رات تفریح کے نام پر ہماری نسل کو جو زہر پلا رہا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی آجکل کے بننے والے بھارت فنڈڈ ڈراموں نے بہت سے لوگوں کو کرب میں مبتلا کر دیا ہے اور سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آخر یہ معاشرتی و اخلاقی زوال کا سلسلہ کہیں جا کر رکے گا بھی یا اس قوم کو اس تاریک اور بدبودار دلدل میں اتار کر چھوڑ ے گا جہاں سے واپسی ناممکن ہو گی…

جو اب ترقی یافتہ قوموں کا مقدر ہے اور ان کے یہاں ایسی گھٹیا نسل وجود میں آنے کا شاخسانہ ہے جسکے بعد اصلاح کے سارے راستے معدوم ہو چکے ہیں ان تفریحی پروگراموں کے لکھاری پروڈیوسر ایکٹر ڈائریکٹر سب میری نظر میں قابل گرفت ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں میں یہ بات ثابت کر سکتی ہوں کہ ایک مسلم معاشرے میں فحاشی اور منکر الحدیث کو فروغ دینے والا سزا کے لائق ہے .
ہماری تہذیب ہے حجاب،
ہماری روایت ہے وہ حجاب،

ایسا حجاب جو صرف کپڑے کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک پوری روایت اقدار اور چال چلن، ثقافت، مزاج، پسند ناپسند الغرض پوری معاشرت کی چشم زدن میں گواہی دے دیتا ہے کہ اس کا پروردہ پاکیزہ روایات کا علمبردار ہے اور ہر چیز میں پاکیزگی کو اولین ترجیح دیتا ہے. چاہے وہ بزرگوں کی عزت ہو، چھوٹوں پہ شفقت ہو، دوستوں سے محبت ہو، غریبوں کی نصرت ہو، کچھ بتانا نہیں پڑتا ایک ڈھلا ڈھلایا خاکہ اور سانچہ آقائے دوجہاں رحمت للعالمین حضرت محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صورت میں سامنے آ جاتا ہے. ہمیں کوئی کمپرومائز نہیں کرنا چاہیے اور ہر حال میں اپنی نسلوں کی تربیت اس دجالی دور میں پیار بھری سختی کے ساتھ کرنی چاہیے.

Add Comment

Click here to post a comment