Site icon نوک قلم

مکافات عمل – سید محمد سلیمان قادری

همارے مسجد کے ساتھیوں میں ایک گراں قدر شخص صبح سے شام تک کئی بار مسجد آتے جاتے ہیں انکے آنے جانے کا اپنا انداز ہے عمر 80– 85 کے درمیان ہوگی دونوں ہاتھوں میں الگ الگ “بیساکھی” پکڑے آنا جانا کرتے ہیں ایسا لکھنے میں مجھے کوئی عضر نہیں کہ ایک بے ساکھی ان کو حوصلہ دلاتی ہے دوسری صراط مستقیم کا پتہ دیتی رھتی ھے۔

جب ملاقات ہوتی ہے تو کم وقت میں چلتے پھرتے ایک سبق دے جاتے ہیں آج شام کی بات ھے یہ بزرگ ایک 4 فٹ کے تختے پر بیٹھے مل گئے شاید برگر کا آڈر دیا ہوا تھا انتظار کر رہے تھے باری کا کہ میرا گزر ھوگیا میرا نصیب دس منٹ کے واقفے میں ایک دلچسپ واقعہ سننے کو ملا۔ کہنے لگے اگر اچھا کروگے تو آپ کے ساتھ بھی اچھا ھوگا ۔ایک زمانے کی بات ھے میں جدہ میں کہیں جارھا تھا کہ ایک دم خزانہ میرے سامنے اگیا۔ 15 هزار ریال بکھرے ہوئے ملے میری تو عید ھوگئی ۔ اٹھایا اور جینز کے پینٹ کی جیب میں بھرنا شروع کردیا کچھ دائیں کچھ بائیں جیب میں — باقی جو بچا پیچھے والی جیب میں ڈال دیا۔اس کے ساتھ 3 فلپائیں ائیر لائیں کی ٹکٹ تھی ۔۔۔شیطان عید دیکھائے جارھا تھا ۔ سمجھا رھا تھا ٹکٹ جلادو اور آگے نکل جاو۔۔۔میں ایک بینچ پر بیٹھا خوش ھورھا تھا کہ میرے رحمان نے مجھے دوسر صحیح راستہ دیکھا یا” کتنے دن خوش رھوگے”۔۔۔۔ اتنے —میں میری نظر ایک فیلپینو پر پڑی جو پاگل کی طرح ادھر ادھر دور رہا تھا میں نے اسے آواز دیا … کیا ہوا ؟ کیوں پریشان ہو وه شخص روتا جارہا تھا اور اپنا درد بتاتا جارها تنها مرا ۱۰ هزار ریال کہیں گر گیا اور ساتھ – فلپائیں کی ٹکٹ بھی ہے میں نے اس کو سہارا دیا اپنے پاس بیٹھایا اور اس کو بتایا کہ تمہارا ریال میرے پاس ہے اور ٹکٹ بھی ۔۔ اب اسکی خوشی کا سمندر اسکے چہرے کو دھو رھا تھا اسکا چہرہ خوشی سے چمکنے لگا اورمیں سوچ رہا تھا آج رحمان نے مجھے بچالیا اور شیطان کاترت چال ناکام ہوگیا…

میں نے پرور دگار کا شکر ادا کیا اور اللہ تعالی سے کہا میرے مولا باقی زندگی میں بھی مجھے اسی طرح بجائے رہنا۔۔ اس واقعے کو 15 سال گزرے ھونگے ، میں جدہ ائیر پورٹ کے اندر پاکستان جانے کے انتظار میں لاونج میں بیٹھا تھا فلائیٹ آنے میں دیر تھی میں واش روم چلا گیا اور واپس آکردوباره انتظار شروع کردیا اچانک میرا ہاتھ جیب پر گیا تو پرس غائب۔ یہ کیا ہوا اس میں تو 40 هزار ریال رکھے ھوئے تھے۔ ساتھ میں 10 هزار ڈالر بھی تھے میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل چکی تھی اور میری کیفیت ایک پاگل کی سی هورهی تھی ۔ ہر چیز کو جھاڑ جھاڑ کر دیکھ رهاتها هر مسافر مجھے دیکھنے لگا مگر دیکھ ہی سکتا تھا۔ اب میری آواز عجیب سی ہو چکی تھی میں بات کسی سے نہیں کرپا رھا تھا صرف میری آنکھ اور انسو پھر میرا ساتھ دے رہے تھے حوصلہ بھی ساتھ چھوڑ چکاتھا هر شخص همت دلا رها تها مدد کررہا تھا کسی نے پانی بھی لاکر پلایا ایک سانس آرھی تھی ایک جارهی میری پوری زندگی کی کمائی تھی اچانک خیال آیا میں باتھ روم گیا تھا اور وہاں پرس نکال کر رکھ دیا تھا اور اٹھانا بھول گیا۔ مگر اسکو تو 20 منٹ ھوچکے میں تھا مگر میں تھے میرے بعد بیسوں آدمی نے ہاتھ روم کو استعمال کیا هوگا۔میں اپنے آپ کو لٹا ہوا محسوس کرنے لگا اور باتھ روم کی طرف دوڑا ۔ جو اس وقت بھی کسی کے استعمال اسکادروازه پوری طاقت پیٹے جارھا تھا۔

کچھ منٹ کے بعد ایک عربی اندر نکلا اور چلانے لگا باتھ روم ھے۔کیون اتنا شور کرھے ھو کوئی سونے نہیں گیا ھے فارغ ھوجائے گا تو خود ہی باہر آجائے گا ۔مگر میری حالت دیکھ کر وہ بھی سہم گیا دو تین لوگ مجھے پکڑے ھوئے تھے میں پورے جسم سے کانپ رہا تھا اب گرا کے تب ۔میں عربی سے مخاطب ھوا اور بتایا کے میرا پرس گم گیا ھے میں نے اندر رکھاتھا۔ وہ باہر آگیا اندر گیا توکیادیکھتا ھوں وہ پرس ویسے ھی رکھا ھوا ھے ۔روپئے ، پورے ریال اور ڈالر بھی پورے تھے ۔مجھے خود پر یقین نہیں آرھا تھا اتنی دیر میں تو 15 بیس لوگوں نے اس باتھ روم کو استعمال کیا ھوگا ، کسی کی نظر نہیں پڑی ۔۔۔۔ میری آنسو اب بھی آرھے تھے مگر ان آنسووں کی کیفیت بدل چکی تھی وہ آنسو جو مجھے رولا رھے تھے اب ہنسا رھے تھے اور مجھے طاقت توانائی اور میں آنکھوں سےمیں لاونچ میں حوصلہ دے رہے تھے ۔ میں نے بولا ” سبحان تیری قدرت کس طرح تو نے میرے جسم میں دوبارہ جان ڈال دی یہ صرف تيرى هي ادا ھوسکتی ھے تیری ھی حکمت هوسکتی ہے میں تو ٹوٹ گیاتھا دوبارہ جوڑ کر کھڑا کردیا ۔ ایک دم ڈوب گیاتھا تونے دوبارہ ساحل پر لا کھڑا یا. واہ میرے پروردگار۔۔۔اب میری گویائی میں طاقت آگئی تھی اور سب بھائیون کا شکریہ ادا کر رہا تھا۔ جہاز آنے ابھی بھی دیر تھا۔ بیٹھا سوچ رها تھا۔ آج میں مٹ گیا تھا زیرو ھوگیا تھا۔میں بچوں میں کیسے جاتا ۔کیاکہتا کیا سمجھاتا سب کو بس یہی کہتا کے لوٹ گیا بچوں۔ مجھے کچھ ناکہو ۔مجھے اکیلا چھوڑ دو ۔اپنی جگہ پہ بیٹھا سوچے جارھا تھا۔

اور دل ہی دل مسکرائے جارھا تھا۔ اچانک “رحمان کی آواز ” میرے کان میں آئی میرے بندے تو نے اچھا کیا تھا تو آج تیرے ساتھ اچھا ھوا ۔یاد کر وہ دن جب تجھے 15 هزار ریال ملے تھے تونے جیب میں بھی رکھ لیا تھا ۔ پھر اچانک اس فیلپیئو کو پریشان دیکھکر تیرا دل امنڈ آیا اور اسکی پریشانی تونے ختم کردی۔ آج میں تجھے کیسے اکیلا چھوڑ سکتا ھوں ۔یہ مکافات عمل ھے اچھاکرو گے تو اچھا ہی ھوگا۔ اپنے اعمال پہ نظر رکھو یہ زندگی اسی لیئے دی جاتی ہےکہ اپنے اعمال کی حفاظت کرتے رہو وہ تمہیں ہرانے والی پریشانی سے بچائے گا-

Exit mobile version