Home » بلند اخلاق – سید محمد سلیمان قادری
بلاگز

بلند اخلاق – سید محمد سلیمان قادری

اخلاق اچھا رکھو یہ تمہیں زندہ رکھتا ہے ۔ 1966 کی بات ہے میں میٹرک کرکے لاھور گھومنے گیا ایک مہینہ گزار کر عوامی ایکس پریس سے واپسی تھی ۔ ایک سیٹ بک کرالیا تھا۔ وقت سے ایک گھنٹہ قبل اسٹیشن پر آگیا تھا ۔ سیٹ پر جاکر قبضہ کرلیا۔ آدھے گھنٹے بعد ایک 30 سالا جوان ذبے میں داخل ہوا اور کہنے لگا سوری آپ جس سیٹ پر بیٹھے ہیں.
یہ میری ہے یہ رھا پکنک کارڈ میں نے رفتی جواب دیا میرے پاس بھی پکنک کارڈ ہے۔وہ ریکویسٹ کرتا رہا اور میں جھیڑکتا رہا وه شخص وہاں سے چلا گیا تھوڑی دیر بعد ٹی ٹی کے ساتھ آیا ٹی ٹی نے مجھ سے لک مانگا میں نے دے دیا ۔ اس نے باغور دیکھ کر کہا بیٹا ایکی سمت کا نمبر 21 4 ھے ۔ آپ جس پر بیٹھے ہیں 21 B ہے ساتھ والی سیٹ ایکی ہے میں اپنی سیٹ پر چلاگیا ۔ اور وہ صاحب اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے یہ کہتے ہوئے سوری آپ کو تکلیف ہوی دونوں سیت ایک کر کے فاصلے پر تھی۔ اب دونوں میں تھوڑی آشنائ ہوگئی تھی۔ ٹرین نے بھی سفر شروع کردیا تھا ،احمد نام تھا اس شخص کا کہنے لگے میرے پاس کچھ معلوماتی اور دلچسپ کتابیں ہیں اگر آپ مطالعہ کرنا چاھیں تو حاضر ہے۔ کہہ کر احمد نے 3..4۔۔۔چھوٹی چھوٹی کتابیں پاکتابچہ کہیں مجھے پڑھنے کے لئے دیا جوسب خلفاء راشیدین کے بارے میں تھی اندازه ہوا کہ بندہ اچھا انسان ھے میں خوامخاہ اس سے الجھ رھا تھا۔سفر کا دو گھنٹہ گزرا تھا شام کے سات بج رہے تھے ترین کے بچکولے کی وجہ کر مجھے نیند آنے لگی۔ سیٹ پر بیٹھا بیٹھا سونے لگا۔ احمد نے ٹرین کا دروازہ بند کیا اوراپنا bedding کھول کر بیچھا دیا۔ اور مجھ سے کہنے لگےاپ اس پر آرام کریں.
میرے انکار پر عاجزانہ انداز میں بولے میں تو سفر میں سوتا نہیں ہوں آپ کو نیند آرہی تھی تو میں نے آپ کے لیے بچھایا ہے۔ اب انکار کی صورت نہیں بنی تھی میں سونے لگا تو ادھا کھنک سوچتا رہا یہ تو بہت ہی بلند کردار کا انسان ہے میں نے خوامخاد اس سے رف موڈ میں بات کیا۔ دو گھنٹے اور گزر گئے ۔احمد نے ایک اور جوتا پھیکا کر مارا مجھے نیند سے اٹھایا اور کہا ائیں کھانا کھالیں ۔۔۔۔ میں تو شرم سے کر گیا تھا، صرف انکاری لہجے میں بولا احمد صاحب میرے ساتھ بھی کھانا ہے کھا لونگا آپ شروع کریں بڑے اخلاق سے بولے میں اکیلا نہیں کھانا کوئ نا کوی میرے دسترخوان پر ہوتا ہے اج نصیب سے آپ کا ساتھ ہے۔ میں دل ہی دل میں کہا یا اللہ اور کتنا ذلیل ہوں گا دل میں ہی جواب دیا یہ سبق کسی کے ساتھ بھی روکھے ان سے بات کیوں کرتے ہو۔ انسان کو اپنا اخلاق بلند رکھنا چاہئے، نرمیت سے پیش آنا چاہیے کسی کو حقیر مت سمجھو میٹھے بول بولو جیسا کے تم نے احمد صاحب کو پایا تمہیں یاد ہے نا اپنے سی کا نام آپ کانام “محمد” صلى الله و علي وصلم تھا۔ آپ اہیستگی سے بات کرتے تھے عاجزی سے ملتے تھے۔ اخلاق کانمونہ تھے ہر کے دل میں جگہ کرلیتے تھے۔ آپ کا دوسرا نام احمد تھا تمہارے ساتھ چومسافر سفر کر رہا ھے ۔
اس نے نا صرف انکا نام رکھا ہے ان کی پر اچھائی کو اپنانے کی کوشش کی ہے اللہ اپنے ایسے بندے کو بہت پسند کرتا ہے، میں سوچ ہی رہا تھا کہ کوی بڑا اسٹیشن آگیا۔ احمد دروازے کی طرف لپکا اور یہ کہتے ہوئے نیچے بھیڑ میں اتر گیا کہ چائے ایکر آتا ہوں اور تھوڑی دیر میں وہ دو چائے لیکر آگیا۔ اب میں چاہتا تھا کہ احمد صاحب سے کچھ بات کروں اپنی غلطیوں کا کچھ ازالہ کروں میں نے ہمت کرکے احمد صاحب سے پوچھا ایکا مشغلا گیا ہے بزنس کرتے ہیں پاکوی چاپ احمد آگے بود کر میری حالی کپ لیتے ہوئے بولا میں ارمی آفیسر ہوں سمجھے ایسا لگا میں ایک دم سے زمین میں گڑ گیا میں بڑی مشکل سے اپنے آپ کو سنبھالا میرا سفر باقی تھا مگر احمد کا اسٹیشن آگیا تھا بڑی گرم جوشی سے ملتے ہوئے بولا کوئی غلطی ہوی ہو تو مجھے معاف کرنا.
میں اسے دیکھتا رہا اور وہ مسکراتا ہوا اتر کر ایک بھیڑ ، دوسرے بھیڑ میں چلا گیا۔ اور میں دل ہی دل میں اللّٰہ سے کہنے لگا آنے اللہ مجھے کم از کم احمد جیسا بنا دے ۔ آج اس واقعے کو 55 سال ہوگئے، میں نا واقعہ بھولا ہوں اور تابی احمد کو الله تعالی ہر کسی کو ایسا مسافر ٹکرائے جو کہنے کو احمد ہو مگر ہو پورا ایک مدرسہ ۔