Home » اطیعواللہ و اطیعوالرسول – قانتہ رابعہ
بلاگز

اطیعواللہ و اطیعوالرسول – قانتہ رابعہ

اللہ رب العزت نے انسان کی فطرت میں تلاش اور جستجو کا مادہ رکھ دیا ہے۔۔۔چار بندے سڑک کے کنارے کھڑے ہوں تو انسان وجہ جاننے کے لیے تجسس میں مبتلا ہو جاتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ آنکھیں بند کر کے جانوروں کی طرح زندگی بسر کرکے دنیا سے چلا جائے ۔۔۔اس کی زندگی کا کوئی مقصد ہی نہ ہو ۔۔۔ہو بھی تو دنیا اور دنیا داری ۔۔۔کھانا پینا سونا جاگنا تو جانور بھی کرتے ہیں کوئی کچھ کہہ دے تو سینگ مار کر بدلہ لے لیتے ہیں ۔۔۔اشرف المخلوقات کا تاج کیوں پہنایا گیا؟؟؟

عقل کیوں دی گئی؟؟؟ یہ سب بتانے کے لیے کہ تمام مخلوقات سے افضل ہونے کی وجہ نیک بدی میں تمیز ،سوچ بچار ہے اور یہ عقل کی مرہون منت ہیں ۔۔۔دنیا کی گرمی سے بچنے کے لیے بھرپور اہتمام کیا جائے اور جہنم کی گرمی سے بچنے کے لیے انسان کوئی کوشش نہ کرے؟؟؟ اسی رہنمای کے لیے انبیاء کرام اور رسول بھیجے گئے ۔۔۔ہر رسول اپنی قوم تک اللہ کا پیغام پہنچانے کا پابند تھا ۔۔ ان کے لیے صادق اور امین ہونا اسی لیے لازم تھا کہ قوم کے لوگ ان کے کردار کی وجہ سے شک میں مبتلا نہ ہوں۔۔۔۔۔اس زمین اور زمین پر بسنے والی مخلوقات کو بھی فنا ہے ہر کوئی مسافر ہے جو منزل کے انتظار میں ہو نہ ہو مگر پہنچنا ضروری ہے۔۔۔اس لیے ایسا نبی اور ایسا کلام آخری نبی کے طور پر بھیجا گیا جس کی تعلیمات کی طرح کردار بھی معجزہ ہو ۔۔۔جس کی زندگی کا ہر لمحہ اطاعت الٰہی میں بسر ہوا ہو ۔۔کوئی لالچ کوئی دھمکی کوئی پرکشش افر کوئی تکلیف یا آزمائش اسے اس کام سے نہ روک سکے ۔۔۔۔۔جان چھڑکنے والے جان کے دشمن بن گئے ۔۔۔شعب ابی طالب کے نام پر پوری برادری کا سوشل بائیکاٹ کیسی ذہنی اذیت نہ دیتا ہوگا ۔۔آخر کبھی تو سوچتے ہوں گے کہ ایسے کیون ہو رہا ہے ۔۔۔

لیکن کوئی قدر کرے نہ کرے رب العزت نے کیا شان سے یہ آیت نازل کی کہ عیسیٰ علیہ السلام،موسی علیہ السلام کی طرح معجزے مانگتے ہو میرے محبوب کی رسالت کے لیے دلیل کے طور پر ۔۔۔اس نے جو عمر تم لوگوں کے درمیان بسر کی کیااس سے بڑھ کر بھی کوئی معجزہ ہو سکتا ہے ۔۔۔دنیا میں فل ٹائم ایسی بے داغ زندگی کسی نے گزاری ہے تو لے آؤ اس کا نام ۔۔۔۔اصل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن دونوں لازم و ملزوم ہیں۔۔۔سیدہ عائشہ صدیقہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت پوچھا گیا تو کان خلقہ القرآن۔۔۔وہ چلتا پھرتا قرآن تھے کا جواب ہی ان کی ہمہ وقت اطاعت کا مظہر ہے ۔۔ ۔اگر یہ فرمایا ،فاستقم کما امرت،،جیسا آپ کو حکم دیا گیا ہے بس اس پر قائم رہئیے،، کیا آپ زندہ ،گوشت پوست دھڑکتا دل رکھنے والی ہستی سے بے جان چیز کی طرح استقامت کی توقع رکھتے ہیں ۔۔۔لوہا لکڑی پتھر تو ویسے ہی رہے گا جیسا آپ نے رکھ دیا ایک جیتا جاگتا انسان کیسے فرمانبرداری پر قائم رہ سکتا ہے۔۔۔وہ بھی ہر حالت میں ۔۔۔خالی نماز روزہ میں مطیع ہونا تو بہت آسان ہے نفس بہت جلد قابو میں آجاتا ہے مگر برادری کے ساتھ دوستوں دشمنوں کے معاملات،بیٹیوں کی اسی اسلام دشمنی میں ازدواجی زندگی ختم ہو گئی ۔۔۔بیوی پر وہ تہمت لگی کہ سننا بھی گوارہ نہ ہو ، ،

کہیں کسی مقام پر بھی ،،اپنی مرضی سے دو بول ،،بولنے کی ہمت پیدا نہ ہوئی ؟؟؟۔۔جس نے رب کی مرضی کے سوا کچھ سوچا تک نہیں۔۔یہ کیسے ممکن ہے ؟؟؟ کبھی سیرت کے مختلف ادوار کا مطالعہ کریں ۔۔۔چشم تصور سے اسی دربار میں پہنچیے ۔۔۔حق تک پہنچنا تب بھی مشکل کام تھا آج بھی یہ مشکل ہے اس وقت بھی حق پر ڈٹے رہنے سے لوگ ۔۔اپنے پیارے ہی پرائے بن جاتے تھے آج بھی فیشنی اسلام کی بجائے ساڑھے چودہ سو سال پہلے والے اسلام پر صدق دل سے عمل پیرا ہوں ،آپ کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا ،اس وقت بھی حق کے ساتھ چند گنے چنے لوگ تھے آج بھی حق قلت میں ہے ۔۔۔اس وقت بھی حق تک پہنچنے والے کو کنفیوز کیا جاتا تھا آج بھی جہاد کو دہشت گردی ثابت کر کے کنفیوز کیا جاتا ہے ۔۔۔زمانہ سدا سے وہی ہے وہی رہے گا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار نفع میں رہیں گے ۔۔۔اطاعت مشکل ہے مگر اس میں سکینت ہی سکینت ہے جن باتوں اور تلخ رویوں سے ڈرتے ہوئے لوگ حق کا ساتھ نہیں دیتے وہی باتیں اور بدصورت روئیے پھر بھی پیش آکر رہیں گے تو گھاٹے کا سودا ان کے لیے ہے جو دنیا کو راضی کرنے کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ بھول گئے جنہوں نے سنت پر عمل ہیرا ہوتے ہوئے استقامت کا مظاہرہ کیا ان کے لیے ان شاءاللہ سعادت بھری زندگی قابل رشک موت اور شاندار عاقبت ہوگی ۔۔۔۔ہر دور میں کچھ نہ کچھ نام ہوتے ہیں آپ تلاش کریں یہ سفر آسان ہوجائے گا-

3 Comments

Click here to post a comment

  • جزاک اللہ خیر۔۔ بہت اعلی تحریر ھے۔ اللہ ھمیں ثابت قدم رکھے۔

  • جزاک اللہ خیر۔۔ بہت اعلی تحریر ھے۔ اللہ ھمیں ثابت قدم رکھے۔ آمین