Home » انیمی فلم انڈسٹری – محمد سلیم
بلاگز

انیمی فلم انڈسٹری – محمد سلیم

17 ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ کا سالانہ منافع کمانے والی انڈسٹری کا نام (Anime) فلم انڈسٹری ہے جو آج ہر ایک گھر کے نو عمر بچے کی ضرورت بن گئی ہے۔ یاد رہے کہ دنیا بھر میں کارٹوں فلموں کا 60 فیصد انہی انیمی افلام پر مشتمل ہوتا ہے۔ پوکیمون ان مثالوں میں سے ایک مثال ہے۔ انیمی فلموں نے دنیا بھر کے بچوں کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ ان فلام کے ذریعے بچوں کو دہریت، جنس یا جنسی آزادی کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ان افلام کے کئی مشہور ہونے ڈائیلاگ عرب دنیا میں لوگوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

ان فلموں میں خدا سے جنگ، شیطان کی مدد، جادو کا اثر، دیندار طبقہ کو ضعیف اور ملحدوں کو خوشحال دکھایا جاتا ہے۔ شیطانی مدد اور معاونت سے جنگ کو جیتنا سکھایا جاتا ہے۔ ان افلام کے اثرات مصر اور کویت میں شدید ترین پائے جاتے ہیں جہاں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں مل کر شیطانی عبادات کرتے ہیں۔ گھروں سے بھاگنا، شتر بے مہار تعلقات بنانا، طاقت کے حصول کیلیئے جادو اور کہانت کی مدد لینا، انیمی کریکٹرز جیسے کپڑے پہننا اور موقع ملنے پر اپنے خوابوں کی تکمیل کیلیئے غیر ملک بھاگ جانا عام سی بات ہے۔ عرب سکالرز اس موضوع پر، والدین کو بچوں کی نگرانی کرنا چاہیئے پر، بچے کیا دیکھتے ہیں کی جانچ پڑتال پر اور بچوں کو کیا دکھایا جا سکتا ہے پر بات کر رہے ہیں۔ وطن عزیز میں منبر و مساجد اگر روایتی لڑائیوں اور محاذ آرائیوں سے نکل جائیں تو ان کیلیئے ہزاروں میدان ہیں جہاں پر وہ اصلاحی اور معاشرتی پہلو اجاگر کر سکتے ہیں اور ان سرایت کر رہی امراض کے خلاف بول سکتے ہیں۔

Add Comment

Click here to post a comment