Home » بلاعنوان – محمد اسعد الدین
بلاگز

بلاعنوان – محمد اسعد الدین

یہ ممکن ہے کہ سورج رات کی سیاہی چیر کر سر نکالے اور روشنی نہ بکھیرے؟؟ایسا ہوسکتا ہے کہ سمندر اپنی پیٹھ پر جہازوں کو سوار تو کرے لیکن اپنی گود میں موجوں کی پرورش نہ کرے؟؟تو پھر کیسے ممکن ہے کہ انسان کا بچہ ہو اور دماغ نہ چلائے؟ اس کے دل میں خیال پیدا نہ ہو؟ من میں خواہش پیدا نہ ہو؟؟ بالکل نہیں!!!
ماڈرن لائف اسٹائل ڈیزائن کرنے والوں نے پورا حساب لگایا کہ یہ آدم کی اولاد روٹی کھائے گی تو لازمی نظریں گھمائے گی، عقل دوڑائے گی تو سوچے گی، غور کرے گی کیونکہ یہ اس کی built-in کوالٹی ہے اس لیے ایسا پکا بندوبست کیا جائے کہ جب یہ دیکھے یا دیکھنا چاہے تو وہی دیکھے جو ہم دکھانا چاہیں، اس کے دماغ میں خیالات ہماری پلاننگ کے مطابق آئیں، سوچ پیدا ہو تو ہمارے بنائے ہوئے پیٹرن کے مطابق، یہ غور وفکر کیسے کرے گا، یہ اسٹرٹیجی ہم بنائیں گے یعنی یہ آزاد دکھائی دینے کے باوجود ہماری مٹھی میں رہے۔۔۔۔
اور ہوا عین اسکیم کے مطابق یقین نہ آئے تو گردن گھما پھرا کر دیکھ لیں، باتیں سن لیں ۔۔۔میری فزیکل فٹنس کیسے مینٹین رہے گی؟ گڈ لکنگ کیسے نظر آؤں؟ برانڈڈ ڈریس کہاں سے ملیں گے؟ بائیک سے جان چھڑا کر گاڑی کب لینی ہے؟ بچے بڑے ہوگئے بڑی گاڑی کیسے آئے گی؟ گھر کی ڈیزائننگ کا کیا ہوگا؟ نئی کراکری، کٹلری کب آئے گی؟ بچے کو o level میں داخلے کا انتظام کیسے ہوگا؟ یہ فکروں کی یہ لسٹ میں باقی اضافہ آپ کرلیں کیوں کہ یہ شیطان کی آنت جتنی لمبی ہے،، ماڈرن لائف اسٹائل کا یہ فائر ٹھیک نشانے پہ لگا سوچ، خیالات کے بھیڑ میں کتنوں کو یہ غور کرنے کی دلچسپی ہے کہ میں کون ہوں؟
کہاں سے آیا ہوں؟؟ مجھے کس نے بھیجا ہے؟ ، کاندھے پر اٹھا کر قبر میں لٹانے کے بعد میں کہاں جاؤں گا؟ اس کے بعد کیا ہوگا؟ بھیجنے والے نے مجھے کوئی ٹاسک بھی دیا ہے یا بس ایویں کھانے سونے، خوب کمانے اور خوب خرچ کرنے کے لیے بھیجا ہے؟ مجھے بھیجنے والے اور میرے درمیان کیا” ریلیشن” ہے؟ زندگی سامنے ہے آپ کے خیال میں یہ سؤالات کتنے لوگ سوچتے ہوں گے؟؟قصہ مختصر

Add Comment

Click here to post a comment