Home » حسرت ! سیماب عارف
بلاگز

حسرت ! سیماب عارف

کچھ سال پہلے میں نے ایک نظم لکھی تھی جس کی چند سطریں اُس روز مجھے مجسم صورت میں ہسپتال کے وارڈ میں نظر آئیں۔۔۔ جس تکلیف سے عورت بچہ جنتی ہے وہ نظم اس سے زیادہ تکلیف دہ تھی۔۔۔ درد سہہ کے بھی مردہ جننا۔۔۔ رائیگانی نہیں تو اور کیا ہے؟؟؟

وارڈ میں میرے ساتھ والے بستر پر ایک تیس پینتیس سال کی عورت لیٹی کراہ رہی تھی۔۔۔وقفے وقفے سے اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگتے اور وہ دوپٹہ منہ پر رکھ لیتی۔۔۔ تین دن بستر پر چت لیٹے جب کبھی میں بہت اکتا جاتی تو ایک دو بات اس سے کرلیتی یا اس کے پوچھے گئے سوال کا جواب دے دیتی تھی۔ پہلا دن تو نیم غنودگی میں گزر گیا۔دوسرے دن میں اپنی بیٹی کو پاس لٹا کر اس سے باتیں کررہی تھی کہ میری نظر اس خاتون پہ پڑی۔۔۔وہ مسلسل میری طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی اور رو رہی تھی۔میں قدرے کنفیوز ہو کر خاموش ہو گئی۔ کچھ دیر بعد میں نے اس سے پوچھا آپ کا بےبی کہاں ہے تو کہنے لگی۔۔بیٹی تھی۔۔مرگئی۔۔۔جنوری میں پیدا ہونا تھا ابھی اس نے۔ساڑھے تین ماہ پڑے تھے ابھی۔۔۔ پہلے بھی ایک بیٹا پیٹ میں مرگیا تھا۔۔۔ اور یہ کہہ کر رونے لگی۔۔۔ باقی سارا وقت میری یہی کوشش رہی کی کہ میں اس کے سامنے اپنی بیٹی سے پیار نہ کروں تاکہ اس کا دل نہ دُکھے۔۔۔حسرت نہ جاگے۔۔۔۔ہمارے اردگرد بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے لیے جو چیز حسرت ہے ہمیں وہ بہت آسانی سے مل جاتی ہے۔۔۔ یہ قدرت کا امتحان ہے۔۔۔ اُن کے لیے بھی اور ہمارے لیے بھی۔۔۔

آزمائش اور نعمت دونوں ایک ہی پرچے کی الگ الگ ترتیب ہے۔ لیکن اس سب میں نعمت والے کے لیے ایک اور احتیاط ہے۔۔۔کہ وہ جانے انجانے میں آزمائش والے کے زخم نہ کریدے۔۔ آپ کے پاس جو بھی نعمت موجود ہے کوشش کریں کسی ایسے فرد کے سامنے اس کا اظہار نہ کریں جس کے لیے وہ حسرت ہو۔۔۔۔ ہم اس دین کے پیروکار ہیں جو یتیم کے سامنے اپنے بچوں سے پیار کرنے سے بھی منع کرتا ہے کہ کہیں اس یتیم کی آنکھ میں آنسو نہ آئیں۔۔۔ بیوہ کے سامنے اپنے گھر کی باتیں کرتے ہوئے محتاط رہنے کا کہتا ہے کہ کہیں تمہارے گھربار اور سہاگ کا ذکر اس کا دل نہ دکھائے۔۔۔ کچھ اچھا پکاتے ہوئے یا تو تقسیم کی تلقین کرتا ہے ورنہ اسے پوشیدہ رکھنے کا حکم دیتا ہے کہ کسی دوسرے کے لیے وہ حسرت کا باعث نہ بنے۔۔۔ پھل خریدیں تو چھلکے ہمسایوں کے سامنے نہ پھینکیں کہ ممکن ہے ان کے بچوں کو کبھی پھل میسر نہ ہوں۔۔۔ دل بہت نازک تار ہیں۔۔۔۔کسی نے انہیں کانچ کے پیالے کہا ہے۔۔۔ہاتھ سے چُھوٹے اور ٹوٹے۔۔۔کسی نے آبگینے انہیں سنبھل کر برتیے۔۔۔۔ ٹھیس نہ لگنے پائے۔۔۔ کہ کائنات میں سب سے قیمتی شے ہیں مخلوقِ خدا کے دل۔ خدا کی امان ہو!!