Home » عظمت کا پیکر میرا نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔ مسرت جبیں
بلاگز

عظمت کا پیکر میرا نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔ مسرت جبیں

نگاہ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر ۔۔
وہی قرآن وہی فرقان وہی یس وہی طہٰ ۔۔

وہ شان کبریائی، عظمت کا پیکر حسیں، جگمگاتا سراج وہ در یتیم،وہ عشق خالق کی تفسیر، اس کی شان عظمت کے بارے میں میں ذرہ خاک کیونکر اور کیسے لب کشائی کروں ؟ نوک قلم تاب گویائی نہیں رکھتی اگر کائنات کے ذرات قوت گویائی پا جائیں ۔اگر ابنِ آدم سب کے سب اپنی زندگیوں کے پل پل کو شمار کریں اور ایسی ہزار ہا زندگیاں پائیں اور ان میں لمحہ لمحہ اس محبوب سبحانی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مدح سرائی کرتے رہیں تو بھی اس کی تعریف بیان کرنے سے قاصر ہوں۔

ان کی شان عظمت کی انتہا تو یہ ھے کہ خود خدا واحد وہ کائنات کا خالق ومربی خود ان کی تعریف میں رطب اللسان ھے ۔ آج سے چودہ سو سال قبل کی ساعتوں کو چشم تصور میں لائیں تو وہ تپتا ہوا صحرا، جاہلیت اور گمراہی کی ویرانی لیے نظر آتا ھے۔جہاں انسانیت کے جنازے موت کا سماں پیش کرتے ہیں۔ جہاں فسق و فجور کی آندھیاں منہ زور تھیں۔جہاں انسانیت سسک سسک کر دم توڑتی تھی ۔ جہاں جہالت کی سیاہ راتیں طویل تاریکی کا باعث بنی ھوئی تھیں ۔ جہاں ظلم کے طوفان تھے ۔جہاں کوئی ھادی نہ تھا جہاں الہامی ہدایت گم تھی ۔اور نہ ہی ہدایت کی طلب نہ چاہ نہ تڑپ تھی ۔ جہاں غلامی کے طوق تھے ۔جہاں آباء کی اندھی تقلید تھی ۔ جہاں عورت ہی مظلوم اور عورت ہی منظور نظر تھی۔ عورت پہ شاعری عورت کے لب و رخسار پہ شاعری یہی کمال تھا شعراء کا ۔ یہی زندہ درگور تھی ۔یہی بے توقیری تھی ۔ جہاں سالوں پہ محیط لہو میں ڈوبی ہوئی قبائلی نسبی لڑائیاں تھیں ۔ جہاں اسلام کفر و ضلالت میں دفن تھا ۔ جہاں دین اسلام کے نام سے ناآشنائی تھی ۔ جہاں تین سو ساٹھ بتوں کا راج تھا ۔ جہاں حیا بےحیائی سے شرمندہ تھا ۔جہاں شرک کا بازار گرم تھا

ایسے میں اک نور اترا اور سارے عالم کو منور کر گیا ۔ ایسا نور کہ رب وحدہ لا شریک نے اس کو نور مبین کا نام دیا ۔خوشبو کا جھونکا جو ساری دنیا کو اپنی خوشبو سے معطر کر گیا ۔ایسا پھول کھلا جس نے سارے ویرانے کو گلستاں بنا دیا ۔ایسی گھٹا اُٹھی ایسی برکھا جو صحرا میں ساون بھادوں سے بھی سوا ھو کر برسی اور تمام عالم کی سیرابی کا ساماں ھوئی ۔۔
اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا۔
اور اک نسخہء کیمیاء ساتھ لایا ۔۔

وہ جس کی ایک نگاہ محبت نے کفار کے دلوں میں طوفان آٹھا دیئے ۔وہ جس کا دست شفقت مظلوموں کا سائباں ھوا ۔وہ عرب جس کی سرزمین ظلم وفساد سے رنگین تر رہتی تھی اس ھادی برحق کی آمد سے دنیا میں امن و سلامتی کا سمبل ٹہری ۔آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آمد سے گمراہی جہالت کے اندھیرے چھٹ گئے۔ ہدایت ورشد کا صراط مستقیم نشان منزل ھوا ۔ انہی راستوں کے مسافر کو فوز عظیم کی نوید ملتی ھے ۔ھادی برحق رہبر حق بنا ۔ ابن آدم کی زندگی کا کوئی پہلو ۔کوئی گوشہ۔ کوئی معاملہ۔کوئی شبعہ۔کوئی عبادت۔ معاشرت ۔ معیشت۔ سیاست۔ زمانہ کوئی بھی ھو حالات کیسے ہی ھوں۔ جس میں اپنے ھادی برحق اپنے رہنما عظیم کی حیات طیبہ سے درس نہ ملتا ہو ۔ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ ۔۔

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن۔
قاری نظر آتا ھے حقیقت میں ھے قرآن ۔۔

انسانیت پر وقت نزع تھا ۔صراط مستقیم کی ترجمانی نے زندگی عطاء کر دی تھی۔وہ عظیم بلند مرتبت ہستی جس کی تعریف مخالفین بھی کرنے پر مجبور ہیں۔وہ تمام انبیاء کا امام ہوا۔وہ جس سے خود خدا ہمکلام ہوا۔۔ وہ جس کے سامنے پتھر بھی اقرار حق کریں۔تو شق القمر نبوت کی گواہی بنا۔جو ایک رات میں اقصیٰ سے سدرۃالمنتہی تک پہنچ جائے۔ جس نے راہ حق میں حق کی دعوت دیتے ہوئے ظلم کی آخری حد تک ظلم سہے۔مگر جب وہی ظالم بےبسی کی تصویر بنے عاجزی و بے چارگی سے آپ کے سامنے سر نگوں آئے تو آپ نے عظیم حوصلے۔فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے درگزر کیا ۔قربان ہو کل دنیا کی عزت و توقیر کیسا اعلیٰ وارفع نمونہ حیات دیا ہے دنیا کو جس کی نظیر نہیں ملتی۔ لیکن انسانیت کی ایک مومن کی دنیا و آخرت کی بھلائی کامیابی صرف اور صرف اتباع رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں ہے۔۔ سنت نبوی مطہرہ ہی تو توشہ ہے جو قیامت تک باقی رہنے والا ہے اور یہی توشہ توشہ آخرت ہے۔۔ شاہراہِ حیات میں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رسول اللہ معلم اعظم کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرے۔مگر من وعن اسی طرح جس طرح رب العالمین محبوب خدا محمد مصطفیٰ خاتم الانبیاء صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تعلیمات فرمائی ہیں-

محبت کے رنگ اطاعت کے طریقے کسی حال میں کسی زمانے میں اپنی منشاء و مرضی کے نہیں۔آباء کے تقلید ۔قبائلی ضد و ہٹ دھرمی۔ فرقوں کے بت ۔انا پرستی۔ خاندانی دباؤ۔ خود پسندی کے طوفان بہا نہ لے جائیں کہیں ؟ ایک مومن کی زندگی کی تمام کامیابیاں راحتیں عزتیں حب رسول اور اتباع رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہی سے مشروط ہیں۔ جس عظیم نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خوبصورت اسوہ حسنہ کی خوبصورتی سے دونوں جہاں حسین ہوں۔ خوبصورت ترین ہوں۔ رب رحیم کی رحمتیں اسوہ حسنہ کی پیروی کرنے سے برستی ہوں ۔ سکون قلب متقاضی ہو۔حب رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا۔ اس نبی مہربان کی سیرت کو اپنانے کو کیوں نہ اپنا تن من دھن قربان کریں۔ دعا ہے اللّٰہ رب العزت ہمیں ان اعمال کی توفیق عطا فرمائے جن کا آجر شفاعت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم ھو۔ روز محشر حوص کوثر سےسیرابی نصیب ھو۔ آمین ثم آمین۔
تیرے اوصاف کا اک باب بھی پورا نہ ہوا۔۔
کہ زندگیاں ختم ھوئیں اور قلم ٹوٹ گئے ۔۔

Add Comment

Click here to post a comment