Home » عالمی یومِ انصاف – زرافشاں فرحین
بلاگز

عالمی یومِ انصاف – زرافشاں فرحین

29 نومبر، دنیا بھر میں عالمی یوم انصاف کے طور پر یادہانی کا دن ہے… انصاف سب کا حق ہے۔ امیر ہو یا غریب، عورت ہو یا مرد بلا امتیاز جنس، مذہب سب کے لئے انصاف۔ اسلام انصاف کا سب سے پہلا اورسب سے بڑا علمبردار نظام حیات جس کے رہبر و رہنما ، مربئ اعظم ، حقیقی منصف، لخت جگر فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت محمد ص کا بھی معاملہ ہوتا تو انصاف ہی کیا جاتا۔ معصوم بچے کی اٹھنے والی انگلی نے اشارہ کیا لباس نہیں تھا تن پہ٫ ماں سوالی بن کر آئ تھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دربار ہے اور ننھے سائل کی انگلی کا اشارہ تن مطہر مبارک صل اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے فیاضی کا کوہ گراں بلا تاخیر دینے کو تیار۔

جس امت کی تاریخ انصاف کے اس قدر روشن ابواب سے مزین ہے… جہاں عدل و انصاف کی روح ایوانوں میں بھی تھی تو عدالتوں میں بھی، رحم کے رشتوں میں بھی تو معاشرتی مزاج و عادات میں بھی۔ جس کے موجود صاحبان اقتدار مدینے جیسی فلاحی ریاست کے دعویدار ہیں۔جس کی نسل انصاف کی متلاشی ہے! کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کریں؟ کہ سارے شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے!

آج یوم انصاف کے موقع پر
زیادہ نہیں صرف دو خبروں پر
خاص سے خاک ہوجانے کا سفر
کسے دکھاؤں یہ سوز جگر
لب ساکن تو آنکھیں آنسوؤں سے تر
شہر کے ایوانوں میں
سجے ہیں پتھر

اسلام آباد انصاف کے لئے 20 سال سے عدالتوں کا چکر کاٹنے والا 70 سالہ بزرگ شہری خودکشی کرنے چیف جسٹس کی گاڑی کے نیچے لیٹ گیا…. اور چیف جسٹس نے گاڑی سے اترنا گوارا تک نہ کیا کہ یہ ہے ہماری عدالتوں کا انصاف۔ پاکستان کے غریب شہریوں کا کیس کئی سالوں تک عدالتوں میں اٹکا رہتا ہے اور تاریخ پہ تاریخ دی جاتی ہے آخر ایسا کیوں؟ نواز شریف کا فیصلہ دنوں میں سنانے والے چیف جسٹس نے کاش نیچے اتر کر اس بزرگ کی فریاد بھی سنی ہوتی جو 20 سال سے کیس کے فیصلے کیلئے کچہریوں میں رسوا ہو رہا ہے.

کراچی معروف پرتعیش لکی ون مال شیشے کی دیواریں چمکتے ماربل کے فرش پر لہو میں تر۔۔۔ غربت، مہنگائی، بھوک سے دہکتے انگاروں میں جھلستے جوان رعنا نے خودکشی کرلی…! الفاظ
~ کرب کی تختی پر رقم کیسے کروں؟
احساس کی سیاہی جل کر راکھ ہوئ ہے