Home » پرفیکٹ – کنول اعوان
بلاگز

پرفیکٹ – کنول اعوان

دنیا کے اس ہجوم میں جہاں بے شمار انسان جن کی تعداد کا کوئی حساب ہی نہیں میری اور آپ سب کی زندگی کا حصہ ہیں اس بھری دنیا میں کتنے ہی بازار ہماری ضروریات زندگی کی چیزوں سے بھرے پڑے ہیں اور ہمارے گھروں کی زینت ہیں لیکن ہم میں سے ہر کوئی ہر وقت ان چیزوں میں بدلاؤ لانے کی کوشیش میں رہتا ہے۔ یہاں تک کہ انسان انسان کو ہی بدلنے میں لگا ہوا ہے۔

ہماری زندگی میں ہمارے لیے ہماری کوئی بھی چیز ٫٫ پرفیکٹ ،، نہیں ہوتی۔ اگر بات صرف چیزوں تک ہی ہوتی تو پھر بھی سمجھ میں آتا یہاں تو انسان ہی انسان کے لیے ٫٫ پرفیکٹ،، نہیں ہے۔ ایک شوہر کے لیے اس کی بیوی اس کے لیے پرفیکٹ نہیں ، ایک بیوی کے لیے اس کا شوہر اس کے لیے پرفیکٹ نہیں۔ بہن کے لیے بھائی اور بھائی کے لیے بہن پرفیکٹ نہیں۔ یہاں تک کہ کچھ بچوں کے لیے ان کے ماں باپ ان کے لیے پرفیکٹ نہیں ہے ایسا کیوں ہے ؟ کیوں انسان کی زندگی میں اس کے لیے کوئی بھی رشتہ کوئی بھی چیز پرفیکٹ نہیں۔ گھر سے لے کر لاؤنچ تک ، گلی سے لے کر محلے تک ، محلے سے لے کر شحر تک ، دکان سے لے کر بازار تک ، بہن بھائیوں سے لے کر کزنز تک اور کھانے پینے سے لے کر پہننے اوڑھنے تک ، جنم سے لے کر موت تک ہمیں کچھ ملتا وہ یقیناً ٫٫ پرفیکٹ ہوتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہمارے لیے ہمارے نزدیک پرفیکٹ نہیں ہوتا اور ہم ساری زندگی ہر دوسری چیز اور ہر دوسرے انسان کو پرفیکٹ بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ ایک وقت آتا ہے کہ ہر وہ چیز پر فیکٹ بن جاتی ہے ہر وہ انسان پرفیکٹ بن جاتا ہے جیسا کہ ہم چاہتے ہیں لیکن دوسرے ہی لمحے ہمارا اس پہ کوئی حق نہیں رہتا پھر چاہے وہ کوئی چیز ہو یا انسان ہمارا اس پہ کوئی حق نہیں رہتا۔ لمحوں میں اس پہ کوئی دوسرا حق جتانے والا آجاتا ہے۔ اور وہ اسے اپنے طریقے سے پرفیکٹ بنانے میں لگ جاتا ہے اور یوں ہم اپنی زندگی کو مشکل سے مشکل بناتے چلے جاتے ہیں۔

انسان ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ وہ ایسا اس لیے نہیں کرتے کے وہ ناشکرے ہوتے ہیں بلکہ وہ ایسا اس لیے کرتے ہیں کیونکہ وہ شکر ادا نہیں کرتے۔ ناشکرا ہونے میں اور شکر نہ ادا کرنے میں فرق ہے۔ ناشکرے لوگوں کو جتنا بھی مل جائیں ، بہتر سے بہترین مل جائیں وہ خوش نہیں ہوتے وہ راضی نہیں ہوتے ایسے لوگوں کو کوئی خوش نہیں رکھ پاتا اور شکر نہ ادا کرنے والے لوگ مل جانے پر مسکراتے ہیں لیکن وہ ہر چیز کو دیکھ کر یہ سوچتے ہیں کہ اس کو ایسا ہونا چاہیے تھا اور جب کبھی وہ چیزوں کو اپنی پسند میں ڈھال لے تو وہ کھول کے مسکراتے ہیں خوشی سے خوش ہو جاتے ہیں۔ لیکن کیا آپ کو پتا ہے شکر ادا کرنے والے لوگ کیسے ہوتے ہیں ؟ وہ چیزوں کو ان کی اصل کے ساتھ ناصرف قبول کرتے ہیں بلکہ خوشی سے قبول کرتے ہیں۔ پھر چاہے وہ انہیں پسند ہو یا نہ ہو۔ زندگی کو خوبصورت بنانے کے لیے اس میں بدلاؤ لائیں ، کیونکہ زندگی کی خوبصورتی برقرار رکھنے کے لیے اس میں بدلاؤ ضروری ہے۔ لیکن کچھ چیزوں اور کچھ لوگوں کو ان کے اصل کے ساتھ قبول کریں۔ کچھ چیزوں اور انسانوں میں بدلاؤ لائیں ضرور لائیں لیکن صرف ہلکی سی تسکین کے لیے ، کیونکہ بدلاؤ کے دوران اور بدلاؤ کے بعد ہم کچھ لوگوں کے اذیت کا سبب بن جاتے ہیں اس کا بھی خیال رکھیں۔ ہر کاریگر اپنی ہر چیز کو پرفیکٹ ہی بناتا ہے تو پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہمارے رب نے ہمیں پرفیکٹ نہیں بنایا۔

بے شک وہ بہتر سے بہترین تخلیق کار ہے۔ شکر ادا کرنا سیکھئے۔ تو کیا ہی اچھا ہو قارئین کہ ہم جو چیز اور جو انسان جیسا ہے اسے ویسے ہی قبول کرے تاکہ نہ وقت ضائع ہو اور نہ محنت اور نہ ہم کسی کے لیے تکلیف کا سبب بن سکے۔ ہر چیز ہر انسان بدلاؤ کا محتاج ہے لیکن اس حد تک کہ وہ اپنے اصل سے دور نہ جائے۔