Home » وقت وقت کی بات ہے! اسماء حبیب
بلاگز

وقت وقت کی بات ہے! اسماء حبیب

میں نے اسے دور سے آتے دیکھ لیا تھا۔ لیکن میں انجان بن گئی۔۔میں نے زندگی میں بہت سی دعائیں مانگی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ کاش دوبارہ اس سے ملاقات نہ ہو۔۔ساری دعائیں کہاں قبول ہوتی ہیں۔۔یا اللہ مُجھے اس سے نمٹنے کا صحیح طریقہ کار سمجھا دے۔۔میں نے گہری سانس بھری۔۔

میم!میں آپ سے مڈ ٹرم کےبارےمیں کچھ پُوچھ لوں۔یہ ایم اے اردو کی طالبہ تھی جو مجھ سے پوچھ رہی تھی۔۔بیٹا میں ذرا ناشتہ کر لوں۔۔وہ سر ہلا تے ہوئے مڑ گئی۔۔ناشتہ کرنے دیں۔۔وہ رک گئی۔۔میں نے اپنا ٹفن کھو لا اور شروع ہو گئی۔۔اس کی آنکھوں میں کچھ کہ دینے کی بے چینی تھی۔۔ میں سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔کچھ دیر بعد چائے آگئی۔۔چائے والی نے کہا کہ یہ یہاں کیا لینے آئی ہے۔۔میں نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔۔ان لوگوں کا کیا بھروسہ۔۔ٹو ہ لیتے ہیں۔” ‘،،آپ نے مجھے پہچانا۔میں عالیہ شمیل ہوں،،”۔۔میں مصروف ہوں۔ذرا جلدی سے بات کرو ۔۔؛؛میں نے مسکرا کر کہا۔۔دل میں سخت کبید گی تھی””۔۔مس اب ایم فل میں ہوں۔۔مُجھے آپ سے اس موضوع پر بات کرنی تھی؛؛””۔۔ایک منٹ!۔آپ اپنی مس سے بات کر لیں۔اب آپ یہاں سے پاس ہو کر جا چکی ہیں تو ان سے پوچھو۔۔؛؛۔”مس وہ ہماری بات نہیں سنتی ہیں ۔۔وہ کہتی ہیں کہ اپنی ٹیچر سے پڑھ کر آؤ۔۔،،۔۔میرے دل میں اُبلتے طوفان تھے۔۔یہ عالیہ شمیل بی بی کے لیے ہم سب فکر مند ہوتے تھے تو یہ ہماری سنی ان سنی کر دیتی تھی۔۔بلکہ ہماری شکایت کر دیتی تھی۔یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ہماری ایک لائق ٹیچر کو صرف اس بات پر فارغ کر دیا تھا کہ بچی کو پریشان کیا جا رہا ہے۔۔

اسے پیپر باقاعدہ حل کروایا گیا تھا کیونکہ رولز کے مطابق ہم اسے فارغ نہیں کر سکتے تھے۔۔ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ کی سخت ہدایات تھیں۔۔اس لئے دل پر پتھر رکھ کر اسے پاس کر دیا گیا تھا۔۔””آپ نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو شکایت نہیں کی۔۔؛؛؟؟میں نے اچانک سوال کیا۔۔میں جاننا چاہتی تھی کہ کیا اس کے اندر کوئی تبدیلی آئی ہے؟؟۔۔کیا اس نے اپنا غیر سنجیدہ رویہ بدلا ہے؟؟۔۔اس نے مُجھے جو جواب دیا ‘اس نے ششدر کر دیا۔۔”جی میم؛لیکن وی سی نے بڑا مایوس کیا۔اس نے مُجھے صاف جواب دیا کہ وہ اپنے مستقل استاد محترم کو کچھ نہیں کہہ سکتا۔۔ہاں اگر کوئی غیر مستقل بنیادوں پر قائم استاد ہو تو اس کو فارغ کیا جا سکتا ہے۔۔؛؛میرے کانوں میں اس استاد کی تکلیف گونج رہی تھی۔ جو اپنے شاگرد کے ہاتھوں ذلیل کیا گیا تھا۔۔””جس ٹیچر کی میں نے شکایت لگا دی تھی اس نے مُجھے کلاس کے گروپ سے نکال دیا ہے۔۔کوئی میرا خیال نہیں کر رہا۔کوئی مُجھے نہیں بتا رہا۔میں اس لیے آپ کے پاس آئی ہوں ۔۔؛؛اتنے میں ایم اے اردو کی وہی لڑکی دوبارہ چلی آئی۔۔”جو اپنے وقت کی قدر کرتا ہے ‘وقت بھی ان کی ہی قدر کرتا ہے۔آپ ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ سے مُجھے اجازت لا دیں۔۔اب ان بچوں کو میری ضرورت ہے ۔۔جب آپ کا وقت تھا تو آپ کو بھر پور وقت ملا تھا۔مگر آپ نے ہمیں اپنا دشمن سمجھا۔۔یہ دشمنی نہیں

آپ کے لیے پیار تھا ‘خلوص تھا ‘فکر تھی مگر آپ نے سب کچھ گنوا دیا حتى که‌ دعائیں بھی۔۔اب آپ جا سکتی ہیں۔۔زندگی میں محبت کبھی کبھی ملتی ہے۔۔۔میری کلاس کا وقت ہو گیا ہے۔۔؛؛؛؛your time is over وہ شکسته قدموں سے باہر جانے لگی ۔۔دنیا میں اگر ہم اللہ تعالیٰ سے منہ موڑ لیں گے تو قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ہم سے بات نہیں کربن گے اور نہ معاف کریں گے۔۔دنیا آخرت کی کهیتی ہے !