Home » دسمبر کے سقوط – ماہین خان
بلاگز

دسمبر کے سقوط – ماہین خان

آہ یہ دسمبر کی ٹھنڈی شامیں اور یخ برف صرف موسم کی سختی کا ہی پتا نہیں دیتیں بلکہ دلوں پر بھی اب برف جمنے لگی ہے ۔ برف ہے بےحسی کی جس کی تہیں جمنے میں پچاس سال کا عرصہ بیتا ہے ۔ جی تو موضوع وہی پرانا ہے جسے ہم سقوط ڈھاکہ یا سقوط مشرقی پاکستان کے نام سے جانتے ہیں ۔

بات کی ہے بے حسی کی تو انسان ہے تو خطاء کا پتلا لیکن اتنا بے حس نہیں کہ اپنوں کو اکیلا چھوڑ دے یا ان کو جدا کردے اور اگر جدائی نصیب بھی ہو تو کم از کم غم منانے کا مجاز تو ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ کبھی اس سے حال پوچھو جس کے جسم کے کسی عضو کی جراحت ہوئی ہو ۔ اس سی پچو کہ صدیوں تو اس زغم پر کھرنٹ جمنے میں لگتے ہیں پھر ٹھنڈ ، سرد ہوا ،خنکی کیسے اس کے زغم کو تڑپا دیا کرتی ہے ۔ لیکن ایک وقت آتا ہے کہ وہ زغم کی جگہ اتنی سختیاں جھیل کر  بے حس ہوجاتی ہے ۔ اگر اس پر نمی و چکناہٹ کے لیے کوئی مرہم نہ استعمال کیا جاۓ ۔ یہ ہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہے ۔ ہماری بے حسی کا جہاں فائدہ اٹھایا گیا وہاں سرد ہوا کے جھوکوں نے بھی اپنا کام کر دکھایا ۔جی ہاں ۔۔۔۔۔۔ کوئی یاد دلاۓ ہمیں کیا فسانہ بیتا یاروں پر ۔۔۔۔۔۔۔ !
چمن کو بیچا بہار لوٹی یہ گل کھلائے ہیں دوستوں نے
جلا کے گھر کو کیا چراغاں ستم یہ ڈھائے ہیں دوستوں نے
زمین بنگال پہ جو پہنچے تو دل سے اپنے صدا یہ آئی
ہم اپنے گھر میں ہی اجنبی ہیں یہ دن دکھاۓ ہیں دوستوں نے
(سید امجد علی امجد شاہ)

متحدہ پاکستان کی حامی تو مجھے اس خطّے میں قطرے کی مانند نظر آنے لگے ہیں جن کا تعلق پاکستان سے صرف پاسپورٹ کی حد تک محدود ہوچکا ہے ۔کوئی تو انہیں بتاۓ کہ مشرق و مغرب تو سب اسی رب کے ہیں ۔اسی کے نام لیواؤں نے کیسے ایک دوسرے کی گردنوں چھریاں رکھی تھیں ، کیسے کالج یونیورسٹی میں “تمار بنگلہ ہمار بنگلہ” کے نعرے لگے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ ایک ہی کشتی کے راہی ایک ہی منزل کے متلاشی لیکن دل کی عداوتیں اور سیاست کے رنگ اس محبّت پر غالب آگۓ ۔
وه ہمسفر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی
عدواتیں تھیں،تغافل تھا رنجشیں تھیں بہت
بچھرنے والےمیں سب کچھ تھابےوفائی نہ تھی
(نصیر ترابی)

وه دن جب حق والے مجرم کھلائے گۓ تھے ، جب سینوں پر گولی کھانے والے اپنوں پر گولیاں برسنے چلے تھے ، جب بنگالی بولنے والے اردو کہنے والوں پر دھاڑے تھے ، جب مغرب (مغربی پاکستان) کے گورے مشرق (مشرقی پاکستان،بنگال) کے کالوں پر چڑھ دوڑے تھے ۔ جب کشتی چلانے والے بغاوتوں کے چشمے عبور کررہے تھے اور جب سیاست کے گندے کھیل کھیلنے والے فقط میزوں پر ہارے تھے ۔ کیا عجب داستان تھی جو یاروں نے رقم کر ڈالی کہ اس فسانے کا غم بھلائے نہیں بھولتا ۔ کیوں ہم اتنے کمزور پڑے کہ دوسروں کو ہمارے بیچ آنے کا موقع ملا ۔۔۔؟ کیوں ان سنی باتوں پر یقین کر کے جئے بنگلہ کا نعرہ لگا کر چل دئے ۔۔۔؟ کیوں اپنے بھائیوں کو یوں ساحلوں پر اکیلا چھوڑ دیا ۔۔۔؟
کیوں البدر الشمس کی قربانیاں نظر نہیں آتیں ان کا خلوص نظر نہیں آتا ۔۔۔۔؟افسوس یہ غم ہمارے آبا ہمیں ورثے میں دے دیا کہ
ایک ہی بازو پر  اڑتا ہوں  آجکل
دوسرا  دشمنوں  کو  گوارا   نہیں

جی ہاں ۔۔۔۔۔۔ آج بھی یہ طاغوتی ہتھکنڈے کبھی ختم نہیں ہوں گے ۔ دوستوں میں اغیار کی ہوشیاری ختم نہیں ہوگی ۔ باطل اپنے پرزور حملوں سے کبھی نہیں کترائے گا ۔ جان لیجیے ! پاکستان اب کسی سقوط کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔۔۔ بہت غم لگے ہیں کہ ہماری نسلوں کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے – دیکھنا اب یہ ہے کہ ۱۹۷۱ء اور ۲۰۱۶ء کی طرح اب بھی تو ہم خدانخواستہ آلہ کار نہیں بن رہے ۔ یہ فیصلہ اور سوچ ہماری ہے ۔

Add Comment

Click here to post a comment

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。