Home » سکوتِ ڈھاکہ – ایمن فاطمہ
بلاگز

سکوتِ ڈھاکہ – ایمن فاطمہ

وہ چھوٹا بھائی تھا بڑے بھائی کی خواہش کا احترام کرنا اسکا فرض تھا. وہ بڑا بھائی تھا چھوٹے کو اسکا حق دینا اسکا فرض تھا. دشمن تو ازل سے ابد تک ایک ہی چال چلتا رہا ہے گھر کی باہم ملی دیواروں میں سوراخ ڈالنا اور پھر سوراخ سے اندر داخل ہونا. ظاہر ہے دروازے سے آنے کا انجام وہ بخوبی جانتا ہے.
مسلمانوں کی سوسالہ تاریخ گواہ ہے سامنے سے آنے والے دشمنوں نے آج تک منہ کی کھائی ہے اگر کہیں وہ مسلمانوں کو شکست دے پائے ہیں تو صرف اپنی شیطانی چالوں سے. اس نے ایک بار پھر وہی کیا چھوٹے بھائی کو حقوق حاصل کرنے کی اور بڑے بھائی کو رعب قائم رکھنے کی تلقین کرکے خاموش تماشائی کی طرح بھارت بھی ایک جانب سگریٹ سلگاتا طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھتا بیٹھ گیا. بس پھر بڑے بھائی اور چھوٹے بھائی دشمن کی لگائی تھوڑی سی آگ کے آگے کمزور پڑگئے دھرتی ماں روکتی رہ گئی. مگر بوڑھی ماں کی ایک نہ سنی گئی دھرتی کے کچھ بیٹوں نے امن کی راہیں ہموار کرنے کی کوشش میں خون سے “البدر” نقش کردیا مگر دونوں بھائیوں میں سے کوئی اس خون کا نہ ہی دھرتی ماں کا حق ادا کرنے کو تیار تھا سوعلیحدگی واحد حل طے پایا مگر ہر کہانی کی طرح علیحدگی تکلیف دہ ثابت ہوئی بھلا بھائیوں سے علیحدگی کیونکر موافق ہوگی؟لاکھوں قربانیوں کو بے ثمر بنادینے کا انجام برا ہوا دونوں بھائی آج بھی پچھتاتے ہیں لوگ آج بھی تاریخ کے اس سیاہ ترین دن کو یاد کرتے ہیں جب علیحدگی کا سایہ انکی سوہنی دھرتی پر پڑا تھا نجانے کب اس نقصان کا ازالہ ہوپائے گا
ازالہ… صرف اسی وقت ممکن ہے جب پاکستان اور بنگلہ دیش دو طاقت ور اسلامی ریاستوں کے طور پر ابھریں گے. اس چوٹ کے زخم تبھی بھریں گے جب لہو رسنا بند ہوگا.

Add Comment

Click here to post a comment