Home » مسلمان اور امانت کی ذمہ داری – عریشہ اقبال
بلاگز

مسلمان اور امانت کی ذمہ داری – عریشہ اقبال

مسلمان ہونے کے معنی کیا ہیں؟؟کیا واقعی ہم مسلمان ہونے کا مطلب جانتے ہیں؟؟ آئیے پہلے اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ کافر اور مسلمان کا بنیادی فرق کیا ہے مسلمان کا لفظ “مسلم” سے نکلا ہے جس کے معنی مطیع و فرمانبردار کے ہیں اور مسلمان وہ ہے جو مسلم بن کر رہے، کافر کا لفظ “کفر سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں انکار یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماننے سے انکار . ۔آئیے ایک نظر جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں….

کیا چیز ہے جو ایک مسلمان اور کافر میں تفریق کا سبب ہے ؟علم!!! علم ہے وہ چیز جو ایک مسلمان اور کافر میں فرق کرتی ہے ایک مسلمان کو اس کے خدا کی پہچان ہوتی ہے اور اسے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو راستہ بتایا ہے وہ ہمیں ہماری کامیابی کی منزل تک لے جاۓ گا. علم کے بعد جو مرحلہ ہے وہ عمل کا ہے، جب ہم اپنی زبان سے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ “لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ” ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں۔درحقیقت ایک معبود کو ماننے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ ہم “عبد” ہیں اور “عبد” کے معنی غلام کے ہیں ایک غلام کو یہ حق حاصل نہیں اور نہ ہی یہ بات اسے زیب دیتی ہے کہ اس کے مالک نے اس سے جو کام کہا ہے وہ اس کام کے علاوہ کوئ اور کام کرلے اللہ تعالیٰ نے جو احکامات نازل کیے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پورا طریقہء زندگی ان احکامات اور تعلیمات کی مکمل عکاسی کرتا ہے صرف زبان سے اقرار کرلینا کافی نہیں ہے اگر ہم کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو یقیناً اس کام کے پیچھے ہمارا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے،اور اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کوشش انتہائی ضروری ہے

جیسے ایک گاڑی چار پیوں کے بغیر نہیں چل سکتی اسی طرح یہ بات بھی ناممکن ہے کہ علم کے بغیر عمل اور عمل کے بغیر علم ایک مسلمان کو حقیقی مسلمان ہونے کا اہل بنادے علم اور عمل دونوں چیزوں کا انحصار ایک دوسرے پر ہے عمل کے بعد کا جو مرحلہ ہے وہ کردار کی مضبوطی کا ہے اور اگر ہم زرا یہ سوچیں کہ علم اور عمل ہی نہ ہوگا تو ہمارا کردار مضبوط اور مستحکم کیسے ہوگا؟ساتھیوں!!! یہی وہ تین چیزیں ہیں جو ہمیں ایک مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے کا اہل بناتی ہیں۔ ۔امانت کا بنیادی تصور ہمارے معاشرے میں کیا ہے؟؟؟ یہی ناں کہ کوئ شخص ہم پر اعتماد کرکے ہم پر اپنے بھروسے کی وجہ سے کوئی بھی چیز رکھوادے پھر چاہے وہ کوئ راز ہو جو اس نے بتایا ہو یا کوئی قیمتی شے اور مطمئن ہوجاۓ کہ اس شخص کے پاس میری چیز کو نہ کوئی نقصان پہنچے گا اور نہ ہی کوئی آنچ آئے گی ، اور اگر میں اس بات کا دعویٰ کروں کہ میرے ہاتھ ہیں میں جو چاہوں جس طرح چاہوں ان سے کام لوں یہ میری مرضی ہے . یہ میری آنکھیں ہیں جو چاہوں ان سے دیکھوں اس پر سارا اختیار میرا ہے اچھا کروں یا برا کروں، صحیح چیز دیکھوں یا غلط میری چیز ہے تو مرضی بھی میری چلے گی تو یہ دعویٰ انتہائی غلط ہے! بلکہ بلکل غلط ہے! سرے سے غلط ہے ! کیوں غلط ہے یہ بھی سمجھتے ہیں.

جب ہم پیدا ہوئے اور اس دنیا میں آۓ تو ہم مسلم تھے ہمارے ہاتھ ہمارے پاؤں ہماری آنکھیں نیز ہمارے وجود کا ایک ایک حصہ مسلم تھا کہ یہ سب کس نے بنایا ؟ تو اس کا مالک کون ہے یقیناً اللہ تعالیٰ تو یہ ساری چیزیں ہمارے پاس امانت ہیں اور اگر ہم ان ساری چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف استعمال کریں گے تو ہم امانت میں خیانت کے مرتکب ہوئے ناں !! اور امانت میں خیانت تو کریں گے ہی کریں گے ساتھ ہی کفر بھی کریں گے جتنا انکار ہے اتنا ہی کفر بھی ہے کیونکہ جس کے عبد ہونے کا اقرار کیا تھا تو اس کا حق تو ادا کیا نہیں اور حق ادا یقیناً کیا بھی نہیں جاسکتا مگر کوشش بھی نہ کی اور ہم واقعی اپنے آپ کو مسلم اور مسلمان کا ٹائٹل دینے چلے ہیں ایک کافر کو دوزخ اور خود کو جنت کا اہل سمجھنے لگے ہیں اور دراصل یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا کہ : مفہوم: “اس روز تمہارے جسم کی ہر چیز تمہارے خلاف گواہی دے گی “وہ ضرور یہ کہے گی کہ اللہ تعالیٰ ہم تو مسلم تھے مگر اس نے زبردستی ہم سے آپ کی مرضی کے خلاف کام لیا تھا اور امانت میں خیانت کو ہم کتنا غلط تصور کرتے ہیں

یہ تصور ہمارے ذاتی معاملات اور پسندیدہ مشاغل میں کہاں گم ہو جاتا ہے یہ ایک زمہ داری ہے جو ہم پر عائد ہوتی ہے اور ہم سے اس کے متعلق جواب طلبی کی جاۓ گی اور ہمارا معیار تقوی ہونا چاہیے تھا مگر فتویٰ ہوچکا ہے جگہ جگہ تاویلیں پیش کی جاتی ہیں “وآخر دعوانا ان الحمد اللہ رب العالمین”