Home » نئے سال کی دہلیز پر ۔ مسز تنویر ندیم
بلاگز

نئے سال کی دہلیز پر ۔ مسز تنویر ندیم

وقت کی بے برکتی۔۔۔۔ اس کا غیر محسوس طریقے سے مگر تیزی کے ساتھ گزرتے چلے جانا اور پھر اچانک موت کا سر پر آن موجود ہونا قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:

“قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زمانہ آپس میں بہت قریب نہ ہو جائے (یعنی شب و روز کی گردش بہت تیز نہ ہوجائے) چنانچہ سال مہینے کے برابر، مہینہ ہفتے کے برابر، ہفتہ دنوں کے برابر اور دن گھنٹوں کے برابر ہوجائے گا اور گھنٹہ کھجور کی شاخ کے خشک پتوں کے جھڑنے کے وقت کی طرح گزر جائے گا”۔ (ابن حبان)

سوچیں کیا آج ایسا ہی نہیں ۔۔۔۔۔؟ بے شک ہے۔۔۔۔۔ سال پہ سال، سال پہ سال۔۔۔۔ دبے پاؤں آتے ہیں اور اپنی چھب دکھا کر گزر جاتے ہیں۔۔۔۔ مگر ہم دنیا کی رنگینیوں میں۔۔۔۔ یا اس کی الجھنوں میں ایسے گرفتار اور مگن ہوتے ہیں کہ ہمیں ہوش اور احساس ہی تب ہوتا ہے جب پانی سر پر سے گزر چکا ہوتا ہے اور ہم اپنی موت کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ کاش ہم کچھ تو اپنی بصیرت اور فراست سے کام لیں۔۔۔۔۔ اور وقت پر ہی اس حقیقت کا ادراک اور احساس کرلیں کہ بے شک ہماری مہلت عمر کم ہے اور کار جہاں دراز ہے۔۔۔۔۔ وقت پگھلتی برف کی مانند ہمارے ہاتھوں سے نکلتا چلا جا رہا ہے۔ ہم چاہتے، نہ چاہتے ہوئے بھی کشاں کشاں چلے جارہے ہیں۔۔۔۔۔ اپنے رب کی طرف۔۔۔۔ اپنی عاقبت کی طرف۔۔۔۔ اپنی موت کی طرف۔۔۔۔۔

يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْهِۚ ( الانشقاق)
اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، اور اُس سے ملنے والا ہے

اور یہ فاصلہ۔۔۔۔۔ موت کی طرف کا فاصلہ۔۔۔۔۔ سمٹتا چلا جارہا ہے۔۔۔۔۔ کبھی سامنے لگے کلارک کی حرکت کرتی سیکنڈ کی سوئی پر غور کریں۔۔۔۔ میرا تو دل بیٹھ سا جاتا ہے، یہ سوچ کر کہ سیکنڈ کی سوئی کے چلنے کے ساتھ ساتھ میں بھی اپنی موت کے سفر کی طرف رواں دواں ہوں۔۔۔۔ دھیرے دھیرے۔۔۔۔ چپکے چپکے۔۔۔۔ غیر محسوس طریقے سے۔۔۔۔ ایک سیکنڈ۔۔۔۔ ایک لمحے کی بھی بریک نہیں۔کبھی کبھی تو گھبرا کر دل کرتا ہے کہ میں گھڑی کی اس ٹک ٹک کو ۔۔۔اس کی سوئی کو روک دوں۔۔۔۔مگر کیا اس سے وقت کا پہیہ رک جائے گا۔۔۔۔۔؟ اسے تو ایک پل سکون نہیں۔۔۔۔ کہیں ٹھہراؤ نہیں۔۔۔۔ اور مسئلہ یہ ہے۔۔۔۔ کہ یہ وقت ہی ہماری زندگی ہے۔۔۔۔ ہمارا سرمایہ ہے۔۔۔۔۔ ہماری کامیابی یا ناکامی، ہماری جنت یا جہنم کا وسیلہ ہے۔۔۔۔ اور جو مسلسل خرچ ہو رہا ہے ، تیزی کے ساتھ۔۔۔۔ اور جس کے ختم ہوجانے پر موت ہے۔ موت اور صرف موت۔۔۔۔۔ دوسری کوئی choice یا کوئی option ہی نہیں۔ تو کیا کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔؟ ہمارے بس میں کیا ہے۔۔۔۔۔؟ کیا ہمارے لیے موت سے فرار ممکن ہے۔۔۔۔۔؟بالکل نہیں۔۔۔۔۔

“بےشک جب اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت آ جاتا ہے تو وہ ٹل نہیں سکتا” (نوح)
تو کیا کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟utilize کریں اپنے آپ کو، اپنے وقت کو، اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو ، اپنے زرائع ووسائل کو۔۔۔۔۔۔ موت کی تیاری میں۔۔۔۔۔۔کیونکہ زندگی کا سب سے بڑا رسک۔۔۔۔ زندگی کی سب سے بڑی اور خطرناک ترین عادت اس کے سوا کچھ نہیں کہ موت کی تیاری urgent basis پر نہ کی جائے، اسے delay یا postpone کرتے رہیں۔۔۔۔ یا سرے سے بھول ہی جائیں ۔۔۔۔ یا غافل ہو جائیں ۔۔۔ پرواہ ہی نہ کریں ۔۔۔۔ یا غلط طرز فکر اور غلط طرز عمل پر ہوتے ہوئے بھی خود کو ٹھیک سمجھیں ۔۔۔۔ اور پھر justify بھی کرتے پھریں ۔۔۔۔

قُلۡ هَلۡ نُـنَبِّئُكُمۡ بِالۡاَخۡسَرِيۡنَ اَعۡمَالاًؕ‏ ۔ الَّذِيۡنَ ضَلَّ سَعۡيُهُمۡ فِىۡ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَهُمۡ يَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ يُحۡسِنُوۡنَ صُنۡعًا‏ (الکہف)*
(اے محمدؐ)، ان سے کہو، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں۔۔۔۔؟وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں

بےشک اپنی زندگی کے سب سے اہم سرمائے یعنی وقت کو موت اور آخرت کی تیاری کی بجائے دنیا کی رنگینیوں اور لذتوں پر ضائع کرنے والوں کی مثال ان بے وقوف اور جاہلوں کی سی ہے جو ہیروں کے بدلے مٹی کے ڈھیلے یا پتھر خرید لیں یا آگ کے انگاروں سے اپنی جھولیاں بھر لیں۔۔۔۔۔خود سوچیں۔۔۔۔یہ سودا بھلا نفع بخش ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔؟ آخر اس میں شک ہی کیا ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا، زمین پر اپنے خلیفہ کی حیثیت سے appoint کیا۔اب اس کے مقام اور حیثیت کا تقاضا تو یہی ہے نا کہ انسان اپنے محدود وقت۔۔۔۔ اپنی محدود مہلت عمر کے اندر۔۔۔۔ اپنی عقل و شعور کو ، اپنے علم و ہنر کو ، اپنی قوت و صلاحیت کو ، اپنے مال و متاع کو۔۔۔۔اپنے فریضہ زندگی کی بہترین ادائیگی کے لیے استعمال میں لائے اور صرف ان کاموں پر فوکس کرے جو کم سے کم مہلت عمر میں، کم سے کم وقت میں، کم سے کم محنت کے ساتھ آخرت میں زیادہ سے زیادہ output لا سکیں۔۔۔۔

مثلاً: دل و نظر کی پاکیزگی اور نیت و ارادے میں اخلاص۔۔۔۔ جس کی وجہ سے تھوڑا عمل بھی بہت بڑی تاثیر اور برکت کا حامل ہوتا ہے۔ بقول حضرت عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ” بہت سے معمولی اعمال حسن نیت کی وجہ سے عظیم الشان ہو جاتے ہیں اور بڑے بڑے اعمال نیت کے فاسد ہونے کی وجہ سے معمولی بن جاتے ہیں ” پھر سرفہرست ان حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بحسن و خوبی ادائیگی، جو فرائض و واجبات کے دائرے میں آتے ہیں ، خصوصا معاملات میں عدل و انصاف کی روش مختصر یہ کہ تمام مسنون اذکار و عبادات اور اعمال ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان میں سے بھی ترجیح اول پر وہ اعمال جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں میں مرکزی حیثیت حاصل ہے مثلاً دعوت دین ، اقامت دین اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے فریضے کی ٹھیک ٹھیک ادائیگی مگر یہ سب کیسے ہو ۔۔۔۔۔۔؟ کچھ tips ۔۔۔۔؟ کچھ عملی اصول۔۔۔۔۔؟ اس ضمن میں بہت آسان قرآنی نسخہ ہے

وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا(آل عمران) (بس) ﷲ کی رسی( یعنی قرآن و حدیث ) کو مضبوطی سے تھامے رہیں
اوروَلاَ تَفَرَّقُواْ (آل عمران)

“اور فرقہ بندی سے بچیں” اور اجتماعیت کے ساتھ/ نیک صحبت کے ساتھ جڑ جائیں۔۔۔۔ سختی کے ساتھ۔۔۔۔۔ مداومت کے ساتھ۔۔۔۔
اور اس کے ساتھ ساتھ ایک ضروری شرط یہ بھی ہے کہ زمانے کی تیز رفتار دوڑ میں۔۔۔۔ تھوڑا رک کر، سکون اور یکسوئی کے ساتھ، دنیائے رنگ و بو کی بے ثباتی اور آخرت کی دائمی قیام گاہوں کو نگاہوں میں بسا کر ۔۔۔ اپنے اندر غور و فکر اور تفکر و تدبر کی عادت کو پروان چڑھائیں تاکہ وہ قوت واستعداد حاصل ہو کہ جس سے راہ حق اور معرفت حق کی منزلیں سر ہو سکیں۔
اس کے علاوہ اور بھی بیسیوں نادر نسخے ہیں ، حکمت عملی کے ۔۔۔۔۔۔اور بھی گوہر نایاب ہیں ۔۔۔۔ اور بے بہا ہیں۔۔۔۔ دائیں بائیں/ آگے پیچھے/ مگر وہ ملتے انہی کو ہیں، جو پہلے اپنا آپ اس کے حضور پیش کرتےہیں۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔ ؟ اس کے ہو کر۔۔۔ اس کے راستے میں نکل کر۔۔۔۔ اپنا آپ قربان کرکے۔۔۔۔ اپنے مقصد زندگی کو، اس کے دین کی اقامت اور سربلندی کے ساتھ وابستہ کرکے۔۔۔۔ کیونکہ اس کا وعدہ ہے۔

وَالَّذِيۡنَ جَاهَدُوۡا فِيۡنَا لَنَهۡدِيَنَّهُمۡ سُبُلَنَا ‌ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ۞(العنکبوت)
اور جو لوگ ہماری راستے میں جدوجہد کریں گے(اور مشقت اٹھائیں گے) ہم ضرور انہیں اپنے راستے دکھائیں گےاور بیشک الله نیکوکاروں ہی کے ساتھ ہے۔

Add Comment

Click here to post a comment