Home » اسلام کے مصادر اورسائنس – عالم خان
بلاگز

اسلام کے مصادر اورسائنس – عالم خان

ایک صاحب شکوہ کناں ہیں کہ یہ مولوی سائنس کے اس ترقی یافتہ دور میں ہم کو مذہب کی پرانی کتابوں کا محتاج کیوں کرتے ہیں کہ ایک نص کی صحت اور عدم صحت کو معلوم کرنے کے لیے ہم خوامخواہ اس کو کھنگالتے رہیں گے سائنس نے ترقی کی ہے ہم آسانی سے مذہب کے نام پر پھیلائے گئے جھوٹ کو سچ سے الگ کرسکتے ہیں مذہب کی جو بھی بات سائنس سے موافق ہو اسکو قبول کریں گے نہیں تو رد کردینگے۔

اس پہ عرض یہ ہے کہ یورپ میں جب سائنسی انقلاب آیا تو سائنس اور عقل کو ہر چیز کے پرکھنے کا معیار ٹہرایا گیا اور وہاں مذہب و مقدس کتابوں کی تحقیق اس پر کی گئی جس سے مصر، شام اور برصغیر پاک وہند میں بھی بہت سے مسلمان دانش ور متاثر ہوئے اور انھوں نے بھی اسلام اور اسلام کے مصادر کو اس میزان سے تولنے کی کوشش کی جو ناکام ہوئی وجہ یہ ہے کہ مذہب سائنس کا انکاری نہیں لیکن سائنس ترقی کے باوجود کمال کو نہیں پہنچی ہے کہ وہ وحی کی صحت اور عدم صحت پر حکم لگائیں۔ یہ مانتے ہیں کہ سائنس کو بطور ایک امدادی ٹول کے استعمال کیا جاسکتا ہے بعض چیزوں میں اس سے تعاون لیا جاسکتا ہے لیکن اس کو روایت اور درایت سے ہٹ کر معیار نہیں بنایا جاسکتا کیوں کہ سائنس اب ترقی کی طرف بتدریج رواں دواں ہے البتہ مکمل نہیں بلکہ ناقص ہے۔ ماضی قریب میں سائنس مذہب کی بہت سے چیزوں سے انکاری تھی۔ اب اقراری ہے اب بھی بہت سی باتوں سے انکاری ہے مگر وہ دن دور نہیں کہ مستقبل قریب میں اس کا اقرار کرے گی۔

مثال کے طور پر یوم آخرت میں اعمال کے وزن سے سائنس کے پیرو کار انکاری تھے علم الکلام میں سوال اٹھایا جاتا تھا کہ یہ اعراض میں سے ہیں کسی نے برا عمل کیا یا اچھا ہوتے ہی ختم ہوا تو اس کو کیسے وزن کیا جائے گا اس وقت کے اہل علم مجبوراً تاویلات پیش کرتے تھے جو اب بھی ہماری کتابوں میں موجود ہے کہ عمل کا نہیں ان رجسٹروں کا وزن کیا جائے گا جس میں یہ عمل درج ہے یا ان اعمال کو روز قیامت مجسم بنائے گا پھر ان کا وزن کیا جائے گا جب سائنس نے ترقی کی تھرمامیٹر اور بیرومیٹر ایجاد ہوا اب کوئی بھی یہ سوال نہیں اٹھاتا ہے کہ اعراض کو کیسے وزن کیا جائے گا۔

مائع چیز میں مکھی گرنے کے بارے میں موجود حدیث سے مسلمانوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا اسلام کو آن ہائی جینک مذہب کہا جاتا تھا اگر چہ اس حدیث میں یہ نہیں کہ مکھی گرنے کے بعد ڈبو کر اس کو ضرور استعمال کریں بلکہ بہ حالت ضرورت یہ بتایا گیا کہ اس کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں شفاء ہے اگر اور کوئی چارہ نا ہو تو ڈبو کر اس کو استعمال کیا جاسکتا ہے اس عمل سے زہر کا اثر ختم ہوجائے گا اب سائنس نے جدید لیبارٹریوں میں سالوں تحقیق کے بعد خود تصدیق کی کہ مکھی کے ایک پَر میں وائرس اور دوسرے میں اینٹی وائرس ہے اور یہ بھی آشکار ہو گیا کہ گرتے وقت بطور ہتھیار وہی وائرس والا پَر استعمال کرتی ہے۔ اب کوئی بھی وہ ان ہائی جینک والی تھیوریاں بیان نہیں کرتا۔

کتے کے جوٹھالے ہوے برتن کو مٹی سے دھونے والی روایت کا مذاق اڑایا جاتا اور کہا جاتا تھا کہ اگر خوامخواہ دھونا ہے تو صابن سے دھولیں مٹی میں کیا ہے اب جب سائنس نے ثابت کیا کہ مٹی میں نوشادر کافی مقدار میں ہے اور باقاعدہ خوردبین لگا کر تجربہ کیا گیا کہ وہی جراثیم مٹی سے دھونے کے بعد ختم ہوگئے تو اب کوئی بھی اس موضوع پر بات ہی نہیں کرتا اور بھی بہت سی مثالیں اس حوالے سے پیش کی جاسکتی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ترقی کے باوجود سائنس انتہاء کو نہیں پہنچی ہے اور نہ اس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ مذہب کے لیے معیار قرار دیا جائے ہاں یہ کہنا درست ہے کہ سائنس کو بطور امدادی ٹول استعمال کیا جاسکتا ہے۔