Home » احسان ،خوبصورت معاشرے کے قیام کا راز – بنت عبدالقیوم
بلاگز

احسان ،خوبصورت معاشرے کے قیام کا راز – بنت عبدالقیوم

حق کے حصول کی آرزو، حق تلفی کرنے والے کے خلاف ذہنی و جذباتی کشمکش،نا انصافی سے بددلی ومایوسی،غرض حقوق کی جنگ ہے جو چہار جانب چھڑی ہوئی ہے،بلاشبہ حق تلفی گناہ عظیم ہے،اور نا انصافی کے خلاف آواز بلند کرنا زندہ ضمیر کی نشانی ۔۔۔تاہم صرف اپنی ذات کے لئے یہ حساسیت خود غرضی و خود پسندی کے زمرے میں آتی ہے۔۔۔

مثلاً بڑھتے ہوئے عائلی جھگڑوں کو ہی لے لیا جائے تو اس کے پیچھے بھی عموماً دو پہلو ہوتے ہیں، دو ہی سبب ہوتے ہیں ۔۔۔ایک فریق کی طرف سے مسلسل اذیت دہ رویے کا ظہور ،اور دوسرے فریق کی جانب سے عدل کی طلب ۔۔۔ نتیجتاً نا انصافی اور عدل کی جنگ میں نسل نو شدید نظر انداز ہو کر فعال شہری کی حیثیت سے نہیں ابھر پاتی۔۔۔لہٰذا اس خطرناک صورتحال کی تدبیر قبل از ضروری ہے،اور یقین کیجئے ۔۔۔اور آزما کر دیکھ لیجئے،کہ احسان کا پلو تھام لینے سے بہت سے مسائل جنم لینے سے بچ جاتے ہیں اور بہت سے کسی بھی قسم کی سنگینی سے بچ جاتے ہیں،اور بہت بار معاملات خوش اسلوبی سے طے ہونے لگتے ہیں۔۔۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ احسان ہے کیا جادو !!! جو لا متناہی مسائل کی شاہ کلید ہے..۔تو جناب کسی بھی کام، معاملے کو بحسن وخوبی نبٹانا دراصل احسان ہے،ایک درجے کا احسان یہ ہے کہ اپنی ذمہ داری کو بلا کراہت نبھا دیا جائے ،اپنے فرائض کو ادا کر دیا جائے،بلا شبہ اطاعت پر مبنی یہ رویہ بھی بہت اہمیت رکھتا ہے ،تاہم بہترین درجے کا احسان یہ ہے یا احسان کا اعلیٰ درجے یہ ہے کہ جو ذمہ داری آپ کے سپرد ہے اسے بہترین طریقے سے۔۔۔

اپنا وقت ،محنت ،توجہ،لگن سے ادا کی جائے، ظاہری سی بات ہے کہ خوف خدا رکھتے ہوئے، تقویٰ کی روش پر چلتے ہوئے جو ذمہ داری ادا کی جائے گی،جو معاملہ نبٹایا جائے گا۔۔۔اس کے اندر خیر ہی خیر ہو گی۔۔۔لہذٰا اگر آپ معاملات کو خوش اسلوبی سے نبٹانے کے خواہشمند ہیں، تناؤ والی فضا سے الرجک ہیں،حقوق کی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں اور خیر پر انجام چاہتے ہیں ،دوسروں کے لاپروا انداز اور احساس سے مبرّا رویوں سے دل برداشتہ ہیں تو آج سے ہی احسان کی روش پر گامزن ہو جائیے، دوسروں کی غیر ذمہ داری پر کڑھنا چھوڑ دیجئے،اپنی ذہنی سطح کے لیول کو برقرار رکھیں ورنہ آپ کو بھی اسی ذہنیت کا ثبوت دیتے دیر نہ لگے گی جس کے باعث آپ دوسروں سے تنگ ہیں ،موازنہ کرنا چھوڑ دیجئے۔۔۔صرف اور صرف آپ سے جو اعمال صادر ہوں ان کو احسان کے تابع کر لیجئے۔۔۔ان شاءاللہ آپ کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے، بدیگر صورت آپ کا کردار امر ہو جائے گا،اللہ مالک الملک آپ کی نیتوں اور کوششوں کا بہترین اجر عنایت کرے گا،ان شاءاللہ۔۔۔ اللہ ہمیں اپنے محسنین میں شامل ہونے کی ہمت و توفیق سے نوازے۔۔۔ ا’مین
از قلم:

Add Comment

Click here to post a comment