Home » بڑائی – عالیہ شمیم
بلاگز

بڑائی – عالیہ شمیم

تو پھر کیا سو چا آپ نے جمیلہ بیگم نے اخبا ر بینی میں مصروف اپنے شو ہر سے کہا ،بھئی کس بارے میں، غائب دما غی سے جوا ب آیا افوہ میں تو آپ کے اس شغل سے تنگ آ گئی ہو ں،اس اخبا ر بینی نے تو آپ کو دنیا و ما فیہا سے بے خبر کر دیا ہے،شادی میں چند ہی دن رہ گئے ہیں کیا تیا ری نہیں کرنی
کیا مطلب کیسی تیا ری۔ کیسی با تیں کرتی ہو، یہ تیا ری شیا ری تو تم عورتوں کے کام ہیں۔

بھلا کیا مجھ کو پارلر جانا ہے یا کپڑوں پر کام بننے دینا ہے ، باورچی و فر نیچر والے کو میں آرڈر دے چکا ہو ں، کلب بک ہو چکا ہے اب کیا تیا ری کرنی ہے رحیم صاحب نے جھلا تے ہو ئے کہا ماشاءاللہ کیا سوچ ہے۔ کیا شادی کے نام سے یہی کچھ ذہن میں آتا ہے میر۱ مطلب تھا کہ آپ نے اپنے والدین و بہن بھا ئیوں میں سے جو جو آپ سے نا را ض ہے کیا اس کو منا لیا ہے جمیلہ بیگم نے گو یا اپنے میا ں کی دکھتی رگ چھیڑتے ہو ئے کہا دیکھو میں تم کو با رہا منع کر چکا ہوں تم با ر بار آنے بہا نے سے یہی مو ضو ع چھیڑ دیتی ہو میں بھا ئی جا ن کا نام تک سننا پسند نہیں کر تا ۔ اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔ آپ کیوں ضدی ہو گئے ہیں۔ کبھی نا خنو ں سے ما س بھی جدا ہو ا ہے۔ ان کی کرنی ان کے ساتھ،کم از کم آپ تو قطع تعلق نہ کریں۔ کس قدر احا دیث میں رحم کے رشتو ں کا حق آ یا ہے، سا ری عبا دتیں و ریاضییں بھی اس وقت تک قبو لیت کا درجہ نہیں پا تیں جب تک بندوں کے حقوق پورے نہ کیے جا ئیں

ہا تم بھو ل چکی ہو بیگم لیکن میں نہیں بھو لا، آج بھی میرا دل لہو لہان ہے ، روپیہ پیسہ، جایئداد چلو یہ سب تو مادی چیزیں تھیں جو انہو ں نے مجھ سے چھین لیں مگر ماں باپ جیسی دولت کو انہوں نے مجھ سے متنفر کر کے جو کاری وار کیا ہے اس کو تو میں تمام عمر نہیں بھلا سکوں گا۔ میری ماں میری نہیں رہیں میرا باپ مجھ کو دیکھتے ہی رخ موڑ لیتے ہیں یا دروازہ بند کر دیتے ہیں نہیں جمیلہ میں نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو سنبھا لا ہے اب اس موضوع پر مزید کوئی بات نہ کرنا۔ہمیشہ کی طرح رحیم صاحب طیش میں آ کر با ہر جا چکے تھے اور پیچھے جمیلہ بیگم اپنا دل مسوس کر رہ گئی تھی وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ ابھی ان کے شوہر جس سخت دلی کا مظاہرہ کر گئے ہیں در حقیقت اندر سے خود ان کا دل اپنے والدین اور بھا ئیوں کی یاد میں سلگ رہا ہو گا مگر محض انا کا بت ان کے قدموں کو روک رہا تھا شادی میں اب چند ہی دن رہ گئے تھے کا رڈ با ٹنے کا سلسلہ بھی جا ری ہو گیا تھا اور جمیلہ بیگم کی حد سے زیا دہ یہی خوا ہش تھی کہ روٹھے ما ں باپ بھا ئی کو منا لیا جا ئے مگر ماضی میں ہو نے والی اپنے اوپر زیا دتیوں کو رحیم صاحب بھلا نہیں پا ئے تھے ااور اسی بات کو دل میں لیے انہوں نے سب سے قطع تعلق کر لیا تھا اپنے گھر کی کسی بھی تقریب میں بلانا تو در کناران کو عیا دت و تعزیت کے لیے بھی ملنا گوارا نہیں تھا۔

شریک حیات ہو نے کے نا طے جمیلہ بیگم اچھی طرح جانتی تھیں کہ با ہر سے سخت دلی کا مظاہرہ کرنے والے ان کے شوہر کا دل اندر سے کتنا والدین کی محبت سے بھرا ہوا ہے۔ ان کو اس با ت کا بھی خدشہ تھا کہ عین نکا ح کے وقت کہیں دل میں چھپا غم درد کی صورت میں دورے کا با عث نہ بن جا ئیں اس سے قبل بھی انجا ئنا کی تکلیف ہو چکی تھی جس کی وجہ تمام ڈاکٹرز نے ڈیپرشن ہی بتا ئی تھی۔ میں کہتا ہو ں پہلی با ر ہی کیوں سگریٹ سلگا ئی، تم نے سوچا بھی کیسے کہ میرے بیٹے ہو کر تم یہ شوق پا لو گے، حلیہ دیکھاہے اپنا، کہیں سے بھی رحیم الدین کے بیٹے نہیں لگ رہے، کون سے دوست پال لیے ہیں تم نے۔ غصہ میں نجانے وہ اپنے بیٹے کو بہت کچھ کہ گئے تھے اور اس دوران اس کی طرف سے بار بار معذرت سن کر ہی نہیں دے رہے تھے۔ رات رسم ما یوں کے بعد نوجوانون کا ٹولہ ان ہی کے گھر رک گیا تھا اور جب ہی اپنے بیٹے اسد کو سگریٹ پیتا دیکھ کر رحیم صاحب اپنا ضبط کھو بیٹھے تھے کئی بار وہ اس کو اسکن ٹائٹ جینز پر ٹوک چکے تھے جو بے انتہا نیچی بندھی ہو نے کے با عث پا ئنچوں پر سے گھس چکی تھی

اور ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی، پندرہ سال کا بھی نہیں ہوا تھا اور اس طرح سگریٹ پی رہا تھا جیسے پتہ نہیں کتنا ما ہر ہو سو چ کر ہی ان کا خون کھولنے لگا تھا قبل اس کہ کہ وہ مہما نوں کی موجودگی کا خیال کیے بغیر اس پرہاتھ اٹھا لیتے کہ جمیلہ بیگم آڑے آگئی تھیں اور سامنے سے اسد کو ہٹالیا تھا۔ آپ بھی کمال کرتے ہیں، مانتی ہوں اس نے غلط حرکت کی تھی مگر اس طرح مہما نوں کے سامنے آپ کو ڈا نٹنا نہیں چا ہیے تھا، جوان خون ہے، اپنے آپ کو نقصان نہ پہنچا بیٹھے، کہہ رہا تھا کہ بابا نے دوستوں کے سامنے انسلٹ کی ہے۔ سگریٹ تو اب خود بڑے بھی پیتے ہیں میں نے کو ن سا حرام شے پی تھی۔ ہاں اب تم آجا ؤ اس کی طرفدا ری کرنے ، ہر برا ئی اسی وقت اپنا برا پن کھو بیٹھتی ہے جب اس کے لیے تا ویلات نکا لی جانے لگیں، آجکل تو اور بھی بہت کچھ ہو رہا ہے تو یہی سوچ کر اپنا تے جا ؤ کہ اس میں حرج ہی کیا ہے۔ ان کا غصہ دوبا رہ عود کر آیا تھا۔ اس نے کیا کبھی مجھ کو دیکھا ہے پیتے ہو ئے اپنے دادا، تا یا کو دیکھا ہے، ہما رے خاندان میں بہت معیو ب سمجھا جا تا ہے تو اس کی ہمت کیسے ہو ئی باپ دادا کی عزت دا ؤ پر لگا نے کی۔اور ڈھٹا ئی تو دیکھو مجا ل ہے جو اپنی غلطی تسلیم کر لے الٹا اوندھے اوندھے جوا با ت دیے جا رہا تھا

ارے رحیم صا حب معمولی غلطی کو اتنا انتہا تک نہ لے جا ئیں آپ علیحدگی میں بھی تو اس کو سمجھا سکتے تھے نا میں تو بس یہی کہنا چاہ رہی تھی کہ دوستوں کے سامنے نہ ڈا نٹتے اور رہی با ت اپنے خاندانی وقا ر کی تو معا ف کیجیے گا، بہت معذرت کے ساتھ کو نسا خاندا ن آپ سے کتنا کہا کہ آپ کم از کم دعوت تو دے دیں مگر آپ نے تو خود ہی قطع تعلق کر لیا،کہا ں ہیں دادا، تایا کس کو شریک کیا ہے آپ نے ، مانا کہ انہوں نے آپ کے ساتھ زیادتی کی تھی مگر آپ خود ہی تو کہتے ہیں کہ اللہ کی مدد سے میں آج بھی پھل پھول رہا ہوں ورنہ میرے اپنوں نے تو مجھ کو گویا سڑک ہی میں کھڑا کر دیا تھا۔ ان کی کرنی ان کے ساتھ مگر بدلہ میں آپ نے قطع تعلق ہی کر لیا۔ آج آپ کو اسد کو سگریٹ پیتا دیکھ کر خاندا ن کی ناموس باپ دادا کی عزت کا خیال آگیا مگر ذرا سوچیں، جمیلہ بیگم کی آ واز رندھی ہو چکی تھی ہم جس دین کے پیرو کا ر ہیں، دھڑلے سے اپنی من مانیاں کرتے ہیں اور حدود و قیود کو پھلا نگ جاتے ہیں اور کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ہما را طرز عمل کتنااسلام کو مسخ کرنے کا با عث بنے گا۔

آج اسلام کے نام کے ساتھ انتہا پسندی کا لیبل لگا ہوا ہے جس کی وجہ ہم خود ہیں، ورنہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ آقا ئے دو جہا ں نے اپنی ذات کو کبھی مقدم نہیں رکھا، اپنی طرف اٹھنے والے ہر حملہ کو خواہ جسما نی ہو، یا روح پر چرکہ لگا ئے گئے ہوں صرف اللہ کی محبت میں،اس کے دین کے نفا ذ کے لیے اپنی ذات کو فرا موش کر لیا، کبھی بدلہ نہ لیا، نہ ہی قطع تعلق کیا۔تو میں اور آپ کس گنتی میں ہیں، ادلاد کی صحیح تربیت بے شک ہر دا لدین کے لیے لا زمی امر ہے مگر حکمت و تدبر کے ساتھ۔اب جمیلہ بیگم ضبط کھو چکی تھیں اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ بیوی کو اسطرح روتے دیکھ کر رحیم صاحب نادم ہو کر خا موشی سے با ہر چلے گئے تھے۔ ان کے دل میں ابال اٹھنے لگا تھا واقعی اس نہج پر تو انہوں نے سوچا ہی نہ تھا، غصہ اور بدلے کی آڑ میں والدین کے حْقوق، حسن سلوک، چھوٹوں پر شفقت، رحم دلی و فیاضی ، عدل و انصاف تمام اخلا قی اوصاف کو وہ داؤ پر لگا چکے تھے اور مظلومیت کا پرچار کیے اپنے آپ کو خود اذیتی میں مبتلا کر چکے تھے۔کبھی انہوں نے والدین کو منانے کی کوشش ہی نہیں کی تھی، الٹا تکبر اور یہی سوچ ان پر طاری رہی کہ ماں باپ کا محتاج نہیں ہوں اپنے پیر پر خود بھی کھڑا ہو سکتا ہوں،

اور اس سمے بھول چکے تھے کہ والدین کی دعا ؤوں کے تو ساری عمر محتاج ہی رہیں گے، وہ توماں کا ایک رات جاگنے کا بھی حق ادا نہیں کر سکتے، ان پر افسوس اور پچھتا وا چھانے لگا۔ اور ندامت کے زیر اثر وہ اپنے قدموں کو والدین کے گھر کی جانب بڑھنے سے نہیں روک پا ئے تھے کہ اب بھی دیر نہیں ہو ئی تھی وہ شادی میں دالدین کی دعاؤں کی چھاؤں میں بیٹی کو رخصت کر سکتے تھے –