Home » عشق کے رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار – قدسیہ ملک
بلاگز

عشق کے رنگ میں رنگ جاؤ میرے یار – قدسیہ ملک

نکلا ہے کراچی نکلا ہے
حق دو کراچی کو بدلو کراچی کو
سنگ تحریک کے چلنا ہے
دھرنا ہوگا دھرنا ہے

ترانوں کی گونج میں کراچی کے سربکف سرفروش اور سرپھرے لوگوں کا قافلہ بلدیاتی قانون کے خلاف سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنا دیئے اس برفیلی سردی اوربے رحم موسم کی بےرحمی سے بے پروا ہوکر آج کا چوتھا دن مکمل کرچکا ہے۔

جیو نیوز اینکرز نو بجے کے خبر نامے میں اپنے سننے والوں کو وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کے حافظ نعیم کوکئےگئے فون کی بابت اطلاع دے رہی ہے۔پھر رپورٹر نے دھرنے کے مقام پرحافظ نعیم الرحمان سے بات کی جن کا کہنا تھا کہ ناصر شاہ صاحب کا فون آیاتھا وہ کہہ رہے ہیں ہم بات چیت کرنے کو تیارہیں۔جس پر حافظ صاحب نے کہا کہ ہم اس ایکٹ کو آئین پاکستان کے مطابق نہیں سمجھتے۔ہم سمجھتے ہیں کہ تمام اختیارات سندھ حکومت نے لے لئے ہیں۔اس سے پہلے بھی ہم نے آپ سے بات چیت کی تھی اور اپ کو تجاویز دی تھی۔اگر اب بھی آپ سنجیدگی سے بات آگے بڑھاتے ہیں تو ہم تیار ہیں۔ورنہ اگر صرف یہ کہنا کہ یہ جگہ خالی کردیں یہاں سے چلے جائیں تویہ بات سن لیں کہ یہ دھرنا تو اب نہیں رکے گا آپ نے دھرنے کا مزاج دیکھ ہی لیاہوگا۔آج خواتین بچوں کی بڑی تعداد میں شمولیت اور دن بدن اس میں اضافہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو جو ملک کا سب سے زیادہ ریوینیو جنریٹ کرتاہےاس سے سارے اختیارات کیسے چھینے جارہے ہیں۔ تمام پانی، بجلی، گیس، سیوریج، تعلیم،لاء اینڈ آرڈر،قانون کے تمام ادارے،بزنس،ٹریڈ،اسٹاک ایکسچینج کراچی کے تمام اداروں کو میئر کے ماتحت ہونا چاہیئے۔

ہمارا یہ مطالبہ ہماری یہ ڈیمانڈ ایسی تو نہیں ہے کہ اس پر عمل کیا ناجاسکےیا یہ کوئی ناجائز ڈیمانڈ ہو؟کراچی جیسا شہر جو پورے مرکز اور صوبے کا ریوینیو چلاتاہے۔اس شہر کو آپ اتنے اختیارات بھی نہیں دو گے تو کیسے معاملات آگے بڑھیں گے؟بغیر لسی دلیل و حجت کےکتنی کھری صاف سیدھی اور سچی بات کی ہے۔حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں دھرنے میں موجود افراد آج کراچی کی تین کروڑ نفوس کا فرض کفایہ ادا کرنے آج اس سخت سردی خے موسم میں اپنے نرم گرم بستروں کو چھوڑ کر،اپنے عزیز او اقرباء کو چھوڑکر،اپنے معصوم بچوں کو چھوڑ کر اپنے گرم کمروں کو چھوڑ کر،اپنے تمام خواب چھوڑ کر ایک پکار پر منظم ہوکر سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔اور وہ پکار ہے آپ کی،میری،اس شہر میں موجود تین کروڑ کی آبادی کے دل کی آواز اور وہ آواز ہے”حق دو کراچی کو”۔ کراچی کو حق دواسے مناسب سہولتیں فراہم کرو۔اسکے ہر باشندے کو انسانی بنیادی سہولتیں مہیا کرواس شہر کو ٹرانسپورٹ سسٹم بحال کرواسکی جامعات کو فوجی چھاؤنیاں مت بناؤ اسکی جامعات میں طلبہ یونین بحال کرو۔جہاں سے ملک کے بڑے بڑے گہرجواہر نکلا کرتے تھے۔اس شہر کا قانون کا نظام بہتر بناؤاسکے شہریوں کے لیئے ٹیکس کے نظام کو ایک حساب کا پابند کرو۔

اسکی سمندری فضائی زمینی راستوں پر اعلی اور منظم ٹیکس اور سہولیات کا نظام رائج کرواس شہر کی تعلیم کو تعلیم مافیا کے شکنجے میں جکڑنے سے بچاو۔تمام شہر کو یکساں تعلیم کے مواقع فراہم کرو-اسکے بڑے بڑے پلازہ مالز فلیٹوں کے نظام کو ایک سسٹم کا پابند کرویہاں ٹریفک حادثات سے بچاو کا مکمل نظام نافذ کرو۔ٹریفک کی روانی بحال کروکنڈا سسٹم ختم کروپورے ملک کا کوٹا سسٹم ختم کرویا کراچی کے شہریوں کے لئے کراچی میں ملازمت کے مواقع فراہم کروسرکاری نوکریوں میں کراچی کے نوجوانوں کو بھی حصہ دواسکے شہریوں کو صاف میٹھا اور جراثیم سے پاک پینے کا پانی فراہم کروکراچی میں کچرے کے جابجا ڈھیر ختم کرو۔اس شہر میں سیوریج لائن کے نظام کو مضبوط بناو- نکاسی آب سے موجود ادھڑی سڑکوں کی مرمت کرو۔کراچی کے شہریوں کو مکمل درست اور فوری درستگی کے ساتھ شناختی کارڈ کے حصول میں آسانی دو۔کراچی کو بجلی دو۔لوڈ شیڈنگ اووربلنگ ختم کرو۔بنیادی سہولیات کے فقدان سے بلبلائی ہوئی تین ساڑھے تین کروڑ کی آبادی کو اس کے جائز بنیادی حقوق فراہم کرو۔یہ شہر جب سب کا خیال رکھتاہے تو تم بھی اسکے جائز حقوق اسے مہیا کرویہ میرے آپ کے ہم سب کے کراچی کی جائز حقوق کی آواز ہے۔آیئے اس آواز میں اپنی آواز شامل کیجئے۔

سچوں کا ساتھ دیجئے۔ان سرفروش عاشقوں کا ساتھ دیجئےکہ جو آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتے۔یہ دیس کے سچے محب وطن مخلص اور ایماندار افراد کا قافلہ ہے۔یہ ان عاشقوں کا قافلہ ہے جو 90ہزار فوج کے ہتھیار ڈالنے کے باوجود نہتے سیسہ پلائی دیوار بن کر دشمن سےلڑتارہااپنے لوگوں کی حفاظت کرتارہااور آج تک اس عشق کی سزا کاٹ رہاہے۔یہ وہی سچے عاشقوں کا قافلہ ہےکہ جو خراچی اور اسکی سب سے بڑی تعلیمی درسگاہ جامعیہ کراچی میں پچھلے کئی دہائیوں سے غنڈہ معافیااور ہر معافیاکے خلاف سب سے پہلے اور بروقت آواز آٹھانے میں اپنا پاک نرم گرم لہو شامل کرتارہاہے۔یہ انہی عاشقوں کا قبیلہ ہے جس کے لئے کہا گیاہے کہ
میرے قافلے میں شامل کوئی تنگ نظر نہیں ہے
جو نا کٹ سکے وطن پر میرا ہم سفر نہیں ہے
کسی سنگ دل کے در پر میرا سر نا جھک سکےگا
میرا سر نہیں رہے گا مجھے اسکا ڈر نہیں ہے
در غیر پہ ہمیشہ تجھے سجدہ ریز دیکھا
کوئی ایسا داغ سجدہ میرے نام پر نہیں ہے

Add Comment

Click here to post a comment