Home » اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی۔۔۔ افشاں نوید
بلاگز

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی۔۔۔ افشاں نوید

امت کی آنکھوں کا تارا تھے وہ فلسطینی نوجوان جن کے وڈیو کلپس ہم نے ماہ رمضان میں دیکھے۔ ساری رات جاگ کر پہرہ دیا تھا، فائرنگ کی گھن گرج میں ہتھیلی پر سر رکھ کر۔ سویرے جذبہ شہادت سے سرشار کندھے سے کندھا ملائے اقصیٰ کے سائے میں جھوم کر گا رہے تھے،امت کو سندیسہ دے رہے تھے کہ۔۔۔ طلع البدر علینا۔۔من ثنیات الوداع

ظلم کی سیاہ رات میں چاند کی آرزو ہی تو بس آرزو ہے۔وہ نوجوان امت کا مان ہیں۔ یہ نوجوان بھی اس شہر کراچی کے پاسبان ہیں ۔ سندھ اسمبلی بلڈنگ کے سامنے ٹھٹھرتی رات میں اپنے گھر اور گرم کمبل سے دور رہے ہیں۔ اوروں کے دھرنوں کی طرح لہو کرم رکھنے کو میوزک ہے نہ بھنگڑے۔۔ صفیں درست ہو رہی ہیں۔ باجماعت نماز ادا ہو رہی ہے۔تلاوت کی آوازوں نے فضا کو بقعہ نور بنا رکھا ہے۔یہاں رت جگوں کے ساتھ درودوسلام ہے۔۔ کبوتر چوک کے دو پروں والے مکین بھی مدحت باری تعالی میں ان کے ساتھ شریک ہیں۔ ظلم تو ظلم ہے جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ۔کوئی ایک دکھ نہیں اٹھایا شہر نے یہاں تک آتے آتے۔۔ ہم نے ہر ظلم کو اپنا مقدر سمجھ کر قبول کر لیا۔سی این جی کی بندش نے اگر ہزاروں گھروں کے چولہے ٹھنڈے کیے تو بجلی کی طویل دورانیے کی بندش سے کتنوں کے کاروبار سسک سسک کر دم توڑ گئے۔ہم نے تعفن میں جینا سیکھ لیا اور کچرے کے ڈھیر اس متمدن شہر کی شناخت بن گئے۔ہم کچھ نہ بولے۔۔ ہم سے سرکلر ریلوے چھنا،پبلک ٹرانسپورٹ چھنی لوگ چھوٹے موٹے مظاہرے کرکے خاموش ہو جاتے۔ادارے برباد ہوتے رہے اور سانپوں کو دودھ ملتا رہا۔شہر کے زخم چاٹ کر جاگیردار مونچھوں کو تاؤ دیتے رہے۔۔ہم کچھ نہ بولے۔۔۔نظام کو بدلنے کے لیے ایک منظم تحریک کی ضرورت ہوتی ہے۔محض دعا سے تقدیر نہیں بدلتی۔دنیا کے انقلابوں نے یہی بتایا ہے۔

یہ بھی تاریخ کی گواہی ہے کہ قومیں اکثر اپنے محسنوں کو نہ پہچان کر اجتماعی جرم کی مرتکب ہوتی ہیں۔وہ سندھ اسمبلی کے سامنے فرض کفایہ ادا کررہے ہیں۔۔ انہوں نے تو رات بارش میں بھیگتے حمدوثنا میں بسر کی۔۔محض مظلوم کو اس کا حق دلوانے اور ظالم سے اپنا حق چھیننے کے لیے۔۔ڈر اس بات کا ہےکہ جو قومیں اپنے نجات دھندوں کو نہ پہچانتیں تو قدرت اجتماعی سزا کا کوڑا برساتی ہے اور۔۔۔۔۔قوموں کی سزا صدیوں پر محیط ہوتی ہے۔۔رب غفر وارحم وانت خیر الراحمین۔۔

Add Comment

Click here to post a comment